عظمیٰ ویب ڈیسک
بارہمولہ/بارہمولہ پولیس نے منگل کو بتایا کہ ایک نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی آبروریزی کرنے اور واقعے کی ویڈیو بنانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت اور گرفتاری تکنیکی شواہد اور انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارہمولہ، گُریندرپال سنگھ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جولائی کو متاثرہ خاتون نے پولیس اسٹیشن بارہمولہ میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت کے مطابق وہ اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سیر کے لیے جلشیری درنگ بل گئی تھیں، جہاں دو افراد نے انہیں روک لیا۔ایس ایس پی کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر دونوں کو ہراساں کیا، ان پر حملہ کیا اور خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی اور بعد میں وہ ویڈیو دیگر افراد کو دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں تفتیش اس لیے مشکل تھی کیونکہ متاثرہ خاتون ملزمان کو صرف ان کے پہلے ناموں سے جانتی تھیں۔ تاہم پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی انٹیلی جنس کی مدد سے دونوں ملزمان کی شناخت کی اور پیر کے روز انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت شاکر احمد لون اور محمد اشرف کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں جلشیری کے رہائشی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں جبکہ محمد اشرف شادی شدہ ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ دونوں ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں اور مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں مکمل کی جا رہی ہے۔
بارہمولہ میں مبینہ اجتماعی آبروریزی اور ویڈیو بنانے کے الزام میں دو افراد گرفتار: پولیس