محمد امین نواز
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علم و ادب کی دنیا ہمیشہ تغیر و ارتقا کے مراحل سے گزرتی رہی ہے۔ ہر نئے دور میں کوئی نہ کوئی نئی ایجاد سامنے آتی رہی جس کے بارے میں ابتدا میں یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ شاید وہ انسانی فکر و تخلیق کے چراغ کو مدھم کر دے گی۔ مگر وقت نے بارہا ثابت کیا کہ انسانی شعور، وجدان اور تخلیقی صلاحیتیں کسی بھی مشین یا آلے سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہیں۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اسی نوعیت کی ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جس نے علمی و ادبی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے انسانی قلم کی اہمیت کم ہو جائے گی، جبکہ دوسرے اہلِ دانش اس رائے سے متفق نہیں اور وہ اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسانی تخلیق کی روح کسی مشین کے بس کی بات نہیں۔ اردو زبان، جو اپنے دامن میں تہذیب، تاریخ اور جذبات کی ایک طویل روایت سموئے ہوئے ہے، آج اسی بحث کے مرکز میں کھڑی نظر آتی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال اردو زبان اور انسانی قلم کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ رائے اس بنیاد پر قائم کی جاتی ہے کہ جب مشینیں خودکار طریقے سے مضامین، نظمیں اور دیگر تحریریں تیار کرنے لگیں گی تو انسانی قلم کاروں کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ لیکن اس خیال کے برعکس ایک مضبوط دلیل یہ بھی ہے کہ انسانی تخلیق محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ احساسات، تجربات اور فکری گہرائیوں کا اظہار ہوتی ہے، جو کسی بھی مصنوعی نظام کے لیے مکمل طور پر ممکن نہیں۔
اردو ادب کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زبان کی بنیاد ہی انسانی جذبات اور تجربات پر استوار ہے۔ میر تقی میر کے اشعار میں دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی آہ محسوس ہوتی ہے، مرزا غالب کی شاعری میں فلسفہ اور فکر کی پیچیدگیاں جلوہ گر ہوتی ہیں، جبکہ علامہ محمد اقبال کے کلام میں ایک پوری قوم کے خواب اور آرزوئیں بولتی نظر آتی ہیں۔ یہ تمام تخلیقات محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی روح کا اظہار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کے بڑے نقاد ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ تخلیق کار کا تجربہ اور اس کی داخلی کیفیات ہی ادب کو زندگی عطا کرتی ہیں۔ معروف نقاد محمد حسن عسکری نے ایک موقع پر لکھا تھا کہ ادب دراصل انسان کے باطنی تجربات کی ترجمانی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی تحریر میں انسانی تجربہ اور احساس شامل نہ ہو تو وہ محض الفاظ کا ڈھیر بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی اصول آج مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ بڑی تیزی سے معلومات کو جمع کر کے ایک مربوط متن تیار کر سکتی ہے، مگر وہ انسانی تجربے اور احساس کی اس گہرائی کو پیدا نہیں کر سکتی جو ایک سچے ادیب کی تحریر میں موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح اردو تنقید کے ممتاز مفکر آل احمد سرور نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادب زندگی کی سچائیوں کا جمالیاتی اظہار ہے۔ اس تعریف کو سامنے رکھا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ ادب صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے احساسات، خوابوں اور جدوجہد کا آئینہ بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت ان معلومات کو ترتیب دے سکتی ہے، مگر وہ اس جمالیاتی شعور اور تخلیقی تجربے کو پیدا نہیں کر سکتی جو ایک حقیقی قلم کار کے ہاں موجود ہوتا ہے۔
آج کے دور میں اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے مضامین، نظمیں اور دیگر تحریریں تیار کی جا رہی ہیں، مگر ان تحریروں کی اصل حیثیت ایک معاون آلے سے زیادہ نہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ماضی میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے وقت یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شاید اس سے قلمی نسخوں کی روایت ختم ہو جائے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یوہانس گٹنبرگ کی ایجاد نے نہ صرف علم کی اشاعت کو آسان بنایا بلکہ ادب اور تحقیق کے فروغ میں بھی بے پناہ کردار ادا کیا۔ اسی طرح کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی آمد پر بھی یہی خدشات ظاہر کیے گئے تھے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ تمام ذرائع دراصل انسانی علم و ادب کی توسیع کا باعث بنے۔ اسی تناظر میں مصنوعی ذہانت کو بھی ایک آلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ انسانی تخلیق کے متبادل کے طور پر۔ یہ سچ ہے کہ مصنوعی ذہانت معلومات کی ترتیب اور زبان کی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کر سکتی ہے، مگر تخلیق کا اصل سرچشمہ ہمیشہ انسانی ذہن اور دل ہی رہے گا۔ ایک شاعر جب شعر کہتا ہے تو اس کے پس منظر میں اس کی زندگی کے تجربات، اس کے دکھ سکھ اور اس کی فکری کشمکش شامل ہوتی ہے۔ یہی عناصر اس کے کلام کو زندگی بخشتے ہیں۔
اگر اردو ادب کی تاریخ میں بڑے تخلیق کاروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ پریم چند کے افسانوں میں ہندوستانی سماج کی حقیقتیں بولتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں غریب کسانوں، مزدوروں اور عام انسانوں کی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں آج بھی قاری کے دل کو چھو لیتی ہیں۔ اسی طرح سعادت حسن منٹو نے اپنے افسانوں میں انسانی نفسیات اور معاشرتی تضادات کو جس جرات اور حقیقت پسندی کے ساتھ بیان کیا، وہ کسی مشین کے بس کی بات نہیں۔ ادب دراصل انسانی روح کی آواز ہے۔ اس میں صرف زبان کا حسن ہی نہیں بلکہ فکر کی گہرائی بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادیب ہمیشہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح اور فکری بیداری کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اس فکری شعور کو پیدا نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے پاس نہ تو زندگی کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی جذبات کا وہ شعور جو تخلیق کے لیے ضروری ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اگر آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا تو لوگ خود لکھنے کے بجائے مشینوں پر انحصار کرنے لگیں گے۔ اس خدشے میں جزوی حقیقت ضرور موجود ہے، مگر اس کا حل بھی انسانی شعور ہی میں پوشیدہ ہے۔ اگر اہلِ قلم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور مطالعہ و مشاہدہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو کوئی بھی ٹیکنالوجی ان کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتی۔
ادب کی دنیا میں اصل کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اپنی محنت، مشاہدے اور فکری گہرائی کے ذریعے نئی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ محض سہولت کے طور پر کسی آلے کا استعمال کسی کو بڑا ادیب نہیں بنا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتے ہیں، ان کی تحریروں میں وہ فکری پختگی اور تخلیقی تازگی پیدا نہیں ہو سکتی جو ایک کہنہ مشق قلم کار کی پہچان ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فیض احمد فیض نے ایک مقام پر کہا تھا کہ ادب دراصل انسانی احساسات کا آئینہ ہے۔ جب تک انسان کے دل میں درد، محبت اور امید کے جذبات موجود ہیں، ادب کا چراغ بھی روشن رہے گا۔ یہ چراغ کسی مشین کے بٹن سے نہیں بلکہ انسانی دل کی دھڑکنوں سے روشن ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اگرچہ ایک مفید اور طاقتور ٹیکنالوجی ہے، مگر اسے انسانی تخلیق کا متبادل قرار دینا درست نہیں۔ اردو زبان اور ادب کی بنیاد انسانی احساسات، تہذیبی تجربات اور فکری گہرائیوں پر قائم ہے۔ یہ بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی اسے ختم نہیں کر سکتی۔ (جاری)
[email protected]
��