جرس ہمالہ
میر شوکت
دہلی کی شام تھی حبس نے شہر کو یوں اپنی بغل میں دبا رکھا تھا جیسے کوئی بوڑھی دادی اپنے لاڈلے پوتے کو، جسے نہ نہانے کی عادت ہو نہ گھر سے باہر جانے کی اجازت۔ آسمان پر بادل تھے مگر بارش کا ارادہ نہیں تھا۔ سڑکوں پر دھواں تھا، بیریکیڈ تھے، وردیاں تھیں، نعرے تھے اور ان سب کے بیچ وہ نوجوان تھے جن کی آنکھوں میں نیند کم اور مستقبل کے سوال زیادہ تھے۔ جنتر منتر کے آس پاس لوہے کی سلاخیں اس طرح ایستادہ تھیں جیسے حکومت نے احتجاج نہیں، خود سوالوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔ کہیں پولیس کے بوٹوں کی چاپ تھی، کہیں آنسو گیس کے دھوئیں میں بھیگتی ہوئی آوازیں، کہیں ہاتھوں میں پلے کارڈ، اور کہیں ایک عجیب سا نام۔کاکروچ۔ یہ وہی بھارت تھا جسے نئے بھارت کے نام سے دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔ نیا بھارت، نئی معیشت، نئی ٹیکنالوجی، نئی سیاست، نئے نعرے، نئے خواب۔ مگر شاید کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نئے بھارت میں احتجاج کرنے کے لیے نوجوانوں کو اپنے لیے ایک پرانا سا کیڑا بھی چننا پڑے گا۔ شیر، چیتا، ہاتھی، مور اور کمل سب سیاست کے پرانے استعارے تھے۔ نوجوانوں نے کہا، ہمیں ان میں سے کچھ نہیں چاہیے، ہمیں کاکروچ کہو۔ یہ انتخاب بھی عجب تھا۔ شیر کو جنگل درکار ہوتا ہے، چیتے کو شکار، ہاتھی کو راستہ، مور کو موسم۔ مگر کاکروچ کو صرف ایک دراڑ کافی ہوتی ہے۔ وہ محل میں بھی رہ سکتا ہے اور جھونپڑی میں بھی، پانچ ستارہ ہوٹل میں بھی نکل آتا ہے اور سرکاری دفتر کی پرانی الماری میں بھی۔ اسے روشنی پسند نہیں، مگر اندھیرے سے خوف بھی نہیں۔ آپ اسے جتنا کچلیں، وہ اتنی ہی خاموشی سے کسی دوسرے کونے سے نمودار ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہندوستان کے نوجوانوں نے اپنے لیے کاکروچ کا نام پسند کیا تھا۔ وہ کہنا چاہتے تھے کہ حضور! ہمیں کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے، ہم وہ مخلوق ہیں جسے آپ جتنا دبائیں گے، ہم اتنی ہی نئی دراڑ سے نکل آئیں گے۔ یہ احتجاج محض ایک وزیرِ تعلیم کے خلاف نعرہ نہیں تھا؛ یہ ان لاکھوں نوجوانوں کی بے چینی تھی جنہوں نے اپنی جوانی کتابوں کے سپرد کر دی، والدین کی جمع پونجی کوچنگ سینٹروں کی نذر کی، راتوں کی نیندیں امتحانی تیاری کے نام لکھ دیں، اور پھر ایک دن یہ سوال ان کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ جس امتحان کے لیے تم نے زندگی لگا دی، اس کا پرچہ تم سے پہلے کسی اور نے کیسے پڑھ لیا؟ یہاں سے ہماری کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہم نے یہ قصہ اپنے پرانے رفیق، ہمہ وقت خبردار مگر اکثر غلط خبر رکھنے والے خبری لال کو سنایا۔ خبری لال ان دنوں ایک چائے خانے میں بیٹھا تھا اور اس کے سامنے اخبار پھیلا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا، ’’خبری لال! یہ کاکروچوں کا کیا قصہ ہے؟‘‘ اس نے اخبار تہہ کیا، عینک ناک کے سرے پر رکھی اور بولا، ’’میر شوکت صاحب! یہ کاکروچ نہیں، جمہوریت کے نئے گریجویٹ ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’کیا مطلب؟‘‘ بولا، ’’پہلے نوجوان ڈگری لیتے تھے، اب احتجاج کا نام لیتے ہیں۔ ڈگری سے نوکری نہیں ملتی تو کم از کم احتجاج سے خبر مل جاتی ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’مگر کاکروچ ہی کیوں؟‘‘ خبری لال نے چائے کی پیالی میں چمچ گھماتے ہوئے فرمایا، ’’اس لیے کہ کاکروچ دنیا کا واحد ایسا جانور ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قیامت آئے گی تو شاید سب سے پہلے یہی پوچھے گا۔ چائے ملے گی؟‘‘ میں نے کہا، ’’یہ تم نے کہاں پڑھا؟‘‘ بولا، ’’کہیں نہیں، مگر سیاست میں آدھی باتیں لکھی نہیں جاتیں، صرف کہی جاتی ہیں۔‘‘ میں نے اسے گھورا تو وہ ہنس پڑا۔ ’’دیکھیے میر صاحب! اس ملک میں سیاست دان اپنے لیے شیر کا استعارہ پسند کرتے ہیں، مگر شیر کو بھی کبھی کبھی جنگل میں شکار نہ ملے تو بھوک لگتی ہے۔ کاکروچ کو دیکھیے، اسے نہ شکار چاہیے، نہ بجٹ، نہ منشور، نہ پارٹی فنڈ۔ وہ صرف زندہ رہتا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’تو تم کہنا چاہتے ہو کہ یہ نوجوان خود کو کاکروچ سمجھتے ہیں؟‘‘ خبری لال کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، ’’نہیں، وہ خود کو کاکروچ کہہ کر شاید یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نظام نے ہمیں انسان سمجھنے سے انکار کیا تو ہم نے اپنی بقا کے لیے ایک ایسا نام چن لیا جسے تم حقیر سمجھتے ہو۔‘‘ یہ جملہ سن کر میں بھی خاموش ہو گیا۔ باہر سڑک پر ایک کاکروچ واقعی دیوار کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ وہ اتنے اطمینان سے چل رہا تھا جیسے دہلی کی تمام وزارتوں کے کاغذات اسی کے پاس ہوں۔ میں نے اسے دیکھا تو خیال آیا کہ ہماری سیاست بھی کچھ کچھ کاکروچ جیسی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، منشور کے رنگ بدلتے ہیں، مگر وعدوں کی عمر میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وعدہ بھی عجیب مخلوق ہے۔ انتخابات کے موسم میں پیدا ہوتا ہے، جلسوں میں جوان ہوتا ہے، اقتدار ملتے ہی بیمار پڑ جاتا ہے اور پانچ برس بعد دوبارہ صحت یاب ہو کر عوام کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ عوام ہر بار اسے پہچانتے ہوئے بھی اجنبی بن کر پوچھتی ہے، ’’آپ کون؟‘‘ وعدہ مسکرا کر کہتا ہے، ’’میں وہی ہوں جو پچھلی بار آپ کے گھر آیا تھا۔‘‘ عوام کہتی ہے، ’’مگر آپ نے کچھ کیا نہیں۔‘‘ وعدہ جواب دیتا ہے، ’’اسی لیے تو پھر آیا ہوں!‘‘ یہی ہماری جمہوری زندگی کا سب سے پائیدار لطیفہ ہے۔ اس بار مگر لطیفہ کچھ سنجیدہ تھا۔ نوجوانوں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیکس کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کے لیے یہ محض ایک پرچہ نہیں تھا۔ یہ ان کے مستقبل کا سوال تھا۔ جس گھر میں باپ نے بیٹے کی کوچنگ کے لیے قرض لیا ہو، جس ماں نے بیٹی کے امتحان کے دن روزہ رکھ کر دعا کی ہو، جس نوجوان نے اپنے کمرے کی دیوار پر کسی سرکاری عہدے کا خواب چپکا رکھا ہو، اس کے لیے پرچہ لیک ہونا صرف ایک خبر نہیں، خوابوں کی چوری ہے۔ اور خواب چوری ہو جائیں تو آدمی پہلے پریشان ہوتا ہے، پھر غصہ کرتا ہے، پھر سوال پوچھتا ہے۔ اور اگر سوال کا جواب نہ ملے تو سڑک پر آتا ہے۔ پھر حکومت اسے مظاہرہ کہتی ہے، پولیس اسے ہجوم کہتی ہے، ترجمان اسے سازش کہتے ہیں، اور تاریخ اسے مزاحمت کہتی ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں کاکروچ ایک کیڑے سے بڑھ کر استعارہ بن گیا۔ حکومت شاید سمجھ رہی تھی کہ چند نوجوان ہیں، کچھ دیر نعرے لگائیں گے، تھک جائیں گے، گھر چلے جائیں گے۔ مگر حکومتیں اکثر نوجوانوں کی تھکن کو ان کی شکست سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں۔ نوجوان تھکتا ضرور ہے، مگر سوال چھوڑتا نہیں۔ اس کے پاس ایک عجیب قسم کی ضد ہوتی ہے۔ وہ کل تک کتاب پڑھ رہا تھا، آج پلے کارڈ اٹھا لیتا ہے، کل تک نوکری کا فارم بھر رہا تھا، آج حکومت سے جواب مانگ رہا ہے۔ اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ خاموش رہو تو وہ شاید پہلی بار سمجھتا ہے کہ خاموشی بھی ایک سیاسی زبان ہے۔ پھر اس زبان میں کاکروچ پیدا ہوتا ہے۔ خبری لال نے ایک دن مجھ سے کہا، ’’میر شوکت ! حکومتیں کاکروچ سے نہیں ڈرتیں، وہ اس جگہ سے ڈرتی ہیں جہاں سے کاکروچ نکلتا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’وہ جگہ کیا ہے؟‘‘ بولا، ’’باورچی خانہ۔‘‘ میں نے کہا، ’’کیا مطلب؟‘‘ وہ بولا، ’’کاکروچ مسئلہ نہیں، مسئلے کی خبر ہے۔ جہاں کاکروچ نکل آئے، سمجھ لیجیے کہیں نہ کہیں صفائی میں کوتاہی ہوئی ہے۔ اسے مارنے سے پہلے باورچی خانہ صاف کرنا چاہیے۔‘‘ میں نے کہا، ’’اور اگر حکومت کاکروچ مارنے لگے؟‘‘ خبری لال نے قہقہہ لگایا، ’’تو پھر اگلے دن دس کاکروچ اور پیدا ہوں گے، کیونکہ گندگی کا علاج ڈنڈا نہیں، صفائی ہے۔‘‘ اس کے بعد میں نے خبری لال سے پوچھا، ’’تو اس سارے معاملے میں وزیر کہاں ہیں؟‘‘ اس نے کہا، ’’وزیر تو بیچارہ ایک عہدہ ہے، آدمی نہیں۔ آج یہ، کل کوئی اور۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ نظام ایسا کیوں ہے کہ نوجوان کو اپنی آواز سنانے کے لیے خود کو کاکروچ کہنا پڑا؟‘‘ میں نے کہا، ’’تو کیا تم سمجھتے ہو کہ کاکروچ نے وزیر کو کھا لیا؟‘‘ خبری لال نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھا اور کہا، ’’نہیں، وزیر کو کاکروچ نے نہیں کھایا۔ وزیر کو وہ سوال کھا گیا جس کا جواب دینے میں دیر ہو گئی۔‘‘ یہ فقرہ میرے دل میں اتر گیا۔ سیاست میں بعض اوقات کرسی کو کوئی مخالف نہیں گراتا، وقت گرا دیتا ہے۔ اور بعض اوقات حکومت کو کوئی تحریک نہیں کھاتی، ایک سوال کھا جاتا ہے۔ سوال چھوٹا ہو سکتا ہے، مگر اگر اس کے پیچھے لاکھوں نوجوانوں کی بے چینی ہو تو وہ سوال چیونٹی نہیں رہتا، ہاتھی بن جاتا ہے۔ پھر وہ دروازے نہیں کھٹکھٹاتا، دیواریں ہلا دیتا ہے۔ جنتر منتر پر پولیس کی بیریئر لگی تھیں، مگر سوالوں کی کوئی بیریئر نہیں تھی۔ آنسو گیس نے آنکھوں کو جلا دیا، مگر سوال کی بینائی کم نہ ہوئی۔ لاٹھی نے جسم کو درد دیا، مگر سوال کی کمر نہ ٹوٹی۔ یہ بھی جمہوریت کا ایک عجیب مزاح ہے کہ حکومتیں احتجاج کو روکنے کے لیے بیریئر لگاتی ہیں، مگر بیریئر کے پیچھے کھڑے نوجوان کو یہ نہیں بتاتیں کہ اس کے مستقبل کے سامنے جو دیوار کھڑی ہے، اسے کون ہٹائے گا۔ پھر خبر آئی کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفا دے دیا۔ خبری لال نے خبر سنی تو دیر تک خاموش رہا۔ میں نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘ بولا، ’’کاکروچ کامیاب ہو گیا۔‘‘ میں نے کہا، ’’یعنی وزیر چلا گیا؟‘‘ بولا، ’’نہیں، یہ کامیابی نہیں، یہ صرف ایک واقعہ ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’پھر کامیابی کیا ہے؟‘‘ خبری لال نے اخبار تہہ کیا اور بولا، ’’کامیابی اس دن ہوگی جب کوئی نوجوان امتحان دینے جائے اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ اس سے پہلے کسی اور نے اس کا مستقبل پڑھ لیا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’تو پھر کاکروچ کا کیا ہوگا؟‘‘ وہ مسکرایا، ’’وہ شاید پھر بھی رہے گا۔‘‘ میں نے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘ بولا، ’’کیونکہ کاکروچ صرف وزیر کے خلاف نہیں تھا؛ل۔ وہ اس باورچی خانے کے خلاف تھا جہاں سے ہر بار نئی گندگی پیدا ہوتی ہے۔‘‘ یہیں مجھے لگا کہ اس سارے واقعے کا اصل طنز شاید یہی ہے کہ نئے بھارت نے دنیا کو چاند پر پہنچنے کی تصویریں دکھائیں، مصنوعی ذہانت کے خواب دکھائے، ڈیجیٹل انقلاب کے قصے سنائے، مگر ایک نوجوان اب بھی یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ ’’میرا امتحان محفوظ کیوں نہیں؟‘‘ ہم مریخ تک پہنچ گئے، مگر سوالیہ پرچہ راستے میں کہیں گم ہو گیا۔ ہم مصنوعی ذہانت بنا رہے ہیں، مگر قدرتی انصاف ابھی زیرِ تعمیر ہے۔ ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارت نئی صدی کی طاقت ہے، اور ہمارے نوجوان پوچھ رہے ہیں کہ حضور! ہماری محنت کی طاقت کہاں گئی؟ شاید اسی تضاد سے طنز پیدا ہوتا ہے۔ طنز وہ آئینہ ہے جس میں چہرہ اپنا ہوتا ہے مگر آدمی عموماً اسے پڑوسی کا سمجھ کر ہنس دیتا ہے۔ کاکروچ بھی شاید ایسا ہی آئینہ تھا۔ نوجوانوں نے حکومت کو اس کا عکس دکھایا اور حکومت نے آئینے میں کاکروچ دیکھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ آئینہ توڑنے سے چہرہ نہیں بدلتا۔ خبری لال نے آخر میں ایک عجیب بات کہی۔ ’’میر شوکت صاحب!‘‘ میں نے کہا، ’’جی؟‘‘ بولا، ’’ایک دن ایسا آئے گا جب تاریخ اس واقعے کو لکھے گی اور لوگ پوچھیں گے کہ آخر وزیر کو کس نے ہٹایا تھا؟‘‘ میں نے کہا، ’’کاکروچوں نے۔‘‘ وہ ہنسا، ’’نہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’پھر؟‘‘ اس نے کہا، ’’ایک سوال نے۔‘‘ میں نے کہا، ’’اور سوال کس نے پوچھا تھا؟‘‘ وہ بولا، ’’ان نوجوانوں نے جنہیں آپ نے کاکروچ کہا تھا۔‘‘ میں نے کہا، ’’اور وہ نوجوان کون تھے؟‘‘ خبری لال نے چائے کی خالی پیالی میری طرف بڑھائی اور بولا، ’’وہی جنہیں آپ ہر پانچ سال بعد ووٹر کہتے ہیں اور باقی چار برس بے روزگار، ناکام، بے صبرے، باغی یا ملک دشمن کہہ کر بھول جاتے ہیں۔‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ باہر بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔ دیوار پر وہی کاکروچ اب اوپر پہنچ چکا تھا۔ نیچے سڑک پر ایک پھٹا ہوا پوسٹر بارش کے پانی میں بہہ رہا تھا۔ دور پارلیمنٹ کی روشنیاں تھیں اور درمیان میں دہلی کا وہی پرانا اندھیرا۔ میں نے سوچا، شاید یہ کاکروچ واقعی بہت معمولی ہے۔ مگر تاریخ میں بڑے انقلاب ہمیشہ بڑے جانوروں کے نام سے نہیں آتے۔ کبھی ایک چیونٹی سلطنت کے دروازے پر دستک دیتی ہے، کبھی ایک بچہ بادشاہ کے کپڑے اتار دیتا ہے، کبھی ایک شاعر تخت کے سامنے ہنس دیتا ہے، اور کبھی چند نوجوان خود کو کاکروچ کہہ کر پورے نظام سے پوچھ لیتے ہیں۔ ’’صاحب! ہمیں کچلنے سے پہلے یہ تو بتائیے کہ گندگی کس نے پھیلائی تھی؟‘‘ شاید اسی سوال نے وزیر کی کرسی کو کھایا۔ کاکروچ نے نہیں۔ کیونکہ کاکروچ تو صرف ایک استعارہ تھا۔ اصل بھوک ان نوجوانوں کے اندر تھی۔انصاف کی بھوک، جواب کی بھوک، اپنے حق کی بھوک۔ اور بھوک، جناب، عجیب شے ہے۔ اسے ڈنڈے سے نہیں مارا جا سکتا، آنسو گیس سے نہیں بھگایا جا سکتا، بیریئر سے نہیں روکا جا سکتا۔ اسے صرف روٹی ملنے پر سکون آتا ہے، اور انصاف ملنے پر خاموشی۔ سو، نئے بھارت کی اس داستان کا عنوان اگر کوئی مورخ لکھے تو شاید یوں لکھے: ’’کاکروچ نے وزیر کو نہیں کھایا۔ ایک سوال نے کرسی کھا لی۔‘‘ اور اس کے نیچے شاید ایک چھوٹا سا حاشیہ ہو: ’’کاکروچ اب بھی زندہ ہے۔‘‘ کیونکہ حکومتیں رخصت ہوتی ہیں، وزیر بدلتے ہیں، نعرے پرانے پڑ جاتے ہیں، پوسٹر دیواروں سے اتر جاتے ہیں، مگر جب تک کسی نوجوان کے ہاتھ میں کتاب اور دل میں سوال باقی ہے، تب تک کسی نہ کسی اندھیری دراڑ سے ایک کاکروچ ضرور نکلے گا، اپنی مونچھیں سیدھی کرے گا، پارلیمنٹ کی روشنیوں کی طرف دیکھے گا اور نہایت ادب سے پوچھے گا: ’’حضور! اگلا امتحان کب ہے؟ اور اس بار پرچہ کون لیک کرے گا ؟