گمراہی کی وجہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت ہے!
سید مصطفیٰ احمد
آج کی دنیا ایک باہم مربوط (Interconnected) دنیا بن چکی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج تقریباً ہر چیز صرف ایک کلک کی دوری پر موجود ہے۔ معلومات، تعلیم، تجارت، تفریح اور دنیا کے کسی بھی کونے سے رابطہ اب چند لمحوں کا محتاج رہ گیا ہے۔ اسی لیے موجودہ دور کو عالمی گاؤں (Global Village) کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، مگر ہر ترقی اپنے ساتھ نئے امتحانات بھی لاتی ہے۔ ان میں سب سے بڑا امتحان ہماری نئی نسل، خصوصاً بچوں کی صحیح تربیت اور اخلاقی حفاظت ہے۔
ایک زمانہ تھا جب زندگی نسبتاً سادہ تھی۔ انسانی تعلقات خلوص، اعتماد اور سادگی پر استوار تھے، جبکہ نئی ایجادات اور ذرائع ابلاغ محدود تھے۔ آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ آمنے سامنے کے مخلص تعلقات کی جگہ مصنوعی روابط، دکھاوے اور خود نمائی نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی نے اگرچہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کیا ہے، مگر سب سے زیادہ نقصان ان معصوم بچوں کو پہنچا ہے جو ابھی صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے۔
مسئلہ صرف معلومات کی فراوانی نہیں بلکہ ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے بچوں کو ایک ایسی دنیا سے روشناس کر دیا ہے جہاں شہرت، ظاہری خوبصورتی، جسمانی ساخت، بے جا نمائش اور مصنوعی طرزِ زندگی کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔ کم عمری میں بڑا نظر آنے اور دوسروں کی نقل کرنے کی خواہش ان کی فطری معصومیت، خود اعتمادی اور اخلاقی اقدار کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر رہی ہے۔
اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت بھی ہے۔ جب حلال و حرام، جائز و ناجائز اور حق و باطل کی تمیز کمزور پڑ جائے، جب زندگی کا مقصد صرف دولت، آسائش اور مادی کامیابی بن جائے، تو بچوں کی متوازن تربیت ممکن نہیں رہتی۔ قصور بچوں کا نہیں بلکہ اس معاشرے کا ہے جس نے اخلاقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جب بڑے خود اپنے کردار سے اچھی مثال قائم نہ کریں تو نئی نسل سے بہترین کردار کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
تربیت انسان کی شخصیت کی بنیاد ہے۔ مہذب، باکردار اور بااصول گھرانوں کے بچے نہ صرف اپنی زندگی کو سنوارتے ہیں بلکہ معاشرے کے لیے بھی مثبت مثال بن جاتے ہیں۔ بحیثیت ِ استاد میں نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریس کے دوران بارہا دیکھا ہے کہ جن بچوں کی اخلاقی تربیت مضبوط ہوتی ہے وہ جدید ٹیکنالوجی کو بھی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، جبکہ تربیت سے محروم بچے آسانی سے منفی رجحانات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اچھی تربیت بچے کی سب سے بڑی حفاظت ہے۔
ماحول بھی بچے کی شخصیت سازی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بچہ اپنے اردگرد کے رویوں، گفتگو، عادات اور اقدار سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر، محلہ، تعلیمی ادارہ یا سوشل میڈیا اس کے سامنے جھوٹ، بدتمیزی، بے حیائی، منافقت اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کو معمول بنا دیں تو ان اثرات سے اسے محفوظ رکھنا آسان نہیں رہتا۔ بچوں کی جذباتی ناپختگی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، کیونکہ وہ ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے جانچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے مزید توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی اور اسناد کا حصول رہ جائے اور کردار سازی، اخلاقیات، برداشت، ذمہ داری اور انسان دوستی کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہم تعلیم یافتہ افراد تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر باکردار شہری نہیں۔
اس صورتِ حال میں والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بچوں کی نگرانی ضرور کی جائے، مگر اعتماد، محبت اور حکمت کے ساتھ۔ مسلسل ڈانٹ ڈپٹ یا سختی کے بجائے ان کی رہنمائی کی جائے، ان کے سوالات سنے جائیں اور ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کیا جائے کہ وہ ہر مشکل میں اپنے والدین سے رجوع کر سکیں۔ اسی طرح بڑے بہن بھائی بھی اپنے کردار اور رویے سے بچوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔
اساتذہ بھی نئی نسل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ طلبہ کے اندر صرف علمی صلاحیتیں ہی پیدا نہ کریں بلکہ دیانت، احترام، نظم و ضبط، برداشت اور مثبت سوچ جیسی انسانی اقدار بھی پروان چڑھائیں۔ ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ کردار بھی بناتا ہے۔ اسی طرح بچوں کو سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھنا شاید ممکن نہ ہو، مگر انہیں اس کے مثبت اور تعمیری استعمال کی تربیت ضرور دی جا سکتی ہے۔ انہیں تعلیمی ویب سائٹس، معیاری علمی چینلز، اچھی کتابوں اور نئی زبانیں سیکھنے کے ذرائع کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ٹیکنالوجی ان کے لیے تباہی نہیں بلکہ ترقی کا وسیلہ بنے۔
بچے کسی بھی قوم کے مضبوط ستون ہوتے ہیں۔ ان کی بہترین پرورش اور متوازن تربیت ہی ہمارے مستقبل کو محفوظ، مستحکم اور پائیدار بنا سکتی ہے۔ اگر ہم ایک مہذب، باکردار اور ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید تعلیم ہی نہ دیں بلکہ مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق اور درست اقدار سے بھی آراستہ کریں۔ یہی بچے ہمارا کل ہیں اور انہی کے ہاتھوں ہمارے معاشرے کا مستقبل تشکیل پائے گا۔
��������������������