تجمل قادری
وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند نے 7 جولائی 2026 کو Performance Grading Index (PGI) 2.0 برائے 2025–26 رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اسکولی تعلیمی نظام کا مختلف شعبوں میں جائزہ لیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر نے مجموعی طور پر Prachesta-3 گریڈ برقرار رکھا، تاہم کئی شعبوں میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
تعلیمی نتائج (Learning Outcomes): یہ شعبہ 240 نمبروں پر مشتمل ہے۔ جموں و کشمیر نے 76.8 نمبر حاصل کیے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طلبہ کی بنیادی خواندگی، ریاضی، سائنسی فہم اور مجموعی تعلیمی استعداد میں خاطر خواہ بہتری کی ضرورت ہے۔ اس شعبے میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے بنیادی جماعتوں پر خصوصی توجہ، باقاعدہ تشخیص اور کمزور طلبہ کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔
رسائی (Access): 80 میں سے 52.9 نمبر حاصل ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ داخلہ کی صورتحال بہتر ہے، لیکن دور دراز علاقوں، خانہ بدوش آبادی، خصوصی ضرورتوں والے بچوں اور پری پرائمری تعلیم تک مساوی رسائی کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات (Infrastructure & Facilities):
190 میں سے 88.2 نمبر حاصل ہوئے۔ متعدد سرکاری اسکولوں میں فعال لائبریری، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹری، کھیلوں کی سہولیات، سمارٹ کلاس رومز، صاف پانی اور بیت الخلاء کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مساوات (Equity): 260 میں سے 203.9 نمبر حاصل ہوئے، جو نسبتاً بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم معاشی طور پر کمزور، دور افتادہ اور خصوصی ضرورتوں والے طلبہ کو معیاری تعلیم تک یکساں رسائی فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔
گورننس اور انتظامی عمل (Governance Processes):
130 میں سے 44.1 نمبر حاصل ہوئے۔ یہ شعبہ واضح کرتا ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی، نگرانی، ڈیٹا مینجمنٹ، اسکول انسپیکشن اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیمی اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہو سکیں۔
اساتذہ کی تعلیم و تربیت (Teacher Education & Training):
100 میں سے 61.4 نمبر حاصل ہوئے۔ اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، جدید تدریسی مہارتوں، ڈیجیٹل تعلیم اور نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تقاضوں کے مطابق استعداد کار بڑھانے پر مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ضروری اقدامات اور تجاویز:سرکاری اسکولوں میں معیاری تدریس اور بنیادی خواندگی و ریاضی کو اولین ترجیح دی جائے۔ہر اسکول میں فعال لائبریری، سائنس و کمپیوٹر لیبارٹری اور ڈیجیٹل کلاس روم قائم کیے جائیں۔کم داخلہ والے اسکولوں کے لیے خصوصی بحالی منصوبہ تیار کیا جائے۔اساتذہ کی سالانہ لازمی تربیت کو مزید مؤثر بنایا جائے۔اسکولوں میں صاف پانی، بیت الخلاء، بجلی، انٹرنیٹ اور کھیلوں کی بنیادی سہولیات مکمل کی جائیں۔تعلیمی نگرانی، احتساب اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کو مضبوط بنایا جائے۔والدین، اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں اور مقامی برادری کی شمولیت کو فروغ دیا جائے۔
نتیجہ: PGI 2.0 کی تازہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر نے بعض شعبوں میں پیش رفت کی ہے، لیکن Learning Outcomes، Infrastructure، Governance اور Teacher Education میں مزید سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے، بنیادی سہولیات مکمل کرے، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرے اور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت کو مرکزی ہدف بنائے تو آئندہ برسوں میں جموں و کشمیر بہتر گریڈ حاصل کر سکتا ہے اور قومی سطح پر اپنی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
[email protected]>
������������������