بابر حسین
برصغیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں اقتدار کا بحران صرف حکومتوں کی تبدیلی کا نہیں بلکہ ریاست، عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے کا بحران بھی رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئی نسل اب صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ وہ حکمرانی، شفافیت، احتساب اور ریاستی جواب دہی کا عملی مطالبہ بھی کر رہی ہے۔بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران امتحانی نظام، خاص طور پر NEET اور دیگر قومی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کی تحریک نے پورے جنوبی ایشیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ لاکھوں طلبہ نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر تعلیم، جو سماجی انصاف اور مساوی مواقع کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، ہی بدعنوانی کا شکار ہو جائے تو پھر جمہوریت کی اخلاقی بنیاد کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ یہ احتجاج دراصل صرف ایک امتحان یا ایک وزارت کے خلاف نہیں بلکہ اس پورے نظام کے خلاف تھا جس میں عام شہری کو اپنی محنت کا صلہ ملنے کے بجائے سفارش، بدانتظامی اور طاقتور حلقوں کی بالادستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عوامی دباؤ یا طلبہ کی تحریکیں صرف بھارت میں ہی ممکن ہیں۔ برصغیر کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں نوجوانوں نے سیاسی منظرنامہ تبدیل کیا۔ 1952ء کی بنگالی زبان تحریک سے لے کر 1974ء کی جے پرکاش نارائن کی طلبہ تحریک، 1990ء کی نیپالی عوامی تحریک، 2022ء میں سری لنکا کے عوامی احتجاج اور 2024ء میں بنگلہ دیش کے نوجوانوں کی تحریک تک، ہر دور میں نئی نسل نے اقتدار کو یہ پیغام دیا کہ ریاست کی اصل طاقت عوام ہیں، نہ کہ محض اقتدار کے ایوان۔
سیاسی فلسفے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ارسطو نے حکومت کی بقا کو عوامی اعتماد سے جوڑا تھا، جبکہ جان لاک نے واضح کیا کہ جب حکمران عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو جائیں تو عوام کو مزاحمت کا اخلاقی حق حاصل ہوتا ہے۔ ژاں ژاک روسو کے ’’سوشل کنٹریکٹ‘‘ کا بنیادی تصور بھی یہی ہے کہ اقتدار کی اصل ملکیت عوام کے پاس رہتی ہے۔ اسی روایت کو برصغیر کے مفکر علامہ محمد اقبال نے اپنے اس شعر میں سمو دیا تھا:’’جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی،اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔‘‘اقبال کا یہ شعر محض معاشی استحصال کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ ہر ایسے نظام پر تنقید ہے جو عوام کی محنت کو عزت دینے میں ناکام رہے۔
بھارت کی موجودہ سیاست بھی انہی سوالات سے دوچار ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں مرکز میں سیاسی استحکام ضرور آیا، لیکن اس کے ساتھ ریاستی اداروں کی خودمختاری، اظہارِ رائے کی آزادی، وفاقی ڈھانچے اور اکثریتی سیاست کے حوالے سے بھی سنجیدہ مباحث جنم لیتے رہے ہیں۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں مضبوط حکومت قابلِ قبول ہو سکتی ہے، مگر ایسی حکومت جو اختلاف کو کمزوری سمجھے، احتساب سے گریز کرے یا ریاستی طاقت کو تنقید دبانے کے لیے استعمال کرے، وہ جمہوری اقدار کو بتدریج کمزور کر دیتی ہے۔
برصغیر کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب عوامی شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے تو احتجاج ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انقلاب ہمیشہ اچانک نہیں آتے؛ وہ برسوں کی محرومی، بے روزگاری، بدعنوانی، ناانصافی اور احساسِ محرومی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ فرانسیسی انقلاب، روسی انقلاب یا عرب بہار، ہر ایک کے اسباب الگ تھے، لیکن ایک قدر مشترک تھی: حکمران طبقہ عوام کے مسائل سننے سے انکار کر چکا تھا۔جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ اگر عوام ہر پانچ سال بعد ووٹ تو ڈالیں مگر ان کے درمیان کے عرصے میں حکومت جواب دہ نہ ہو، پارلیمان کمزور ہو جائے، میڈیا دباؤ کا شکار ہو اور ادارے غیر جانب دار نہ رہیں تو انتخابات اپنی روح کھو دیتے ہیں۔ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہندوستانی دستور ساز اسمبلی میں خبردار کیا تھا کہ سیاسی جمہوریت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سماجی اور معاشی انصاف بھی اس کا حصہ نہ بنے۔
اسی حقیقت کو اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض نے اپنے لازوال اشعار میں بیان کیا:’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے،بول زباں اب تک تیری ہے‘‘۔یہ اشعار صرف اظہارِ رائے کی آزادی کا اعلان نہیں بلکہ جمہوری معاشرے میں شہری ذمہ داری کی علامت بھی ہیں۔
آج کی نوجوان نسل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ باخبر اور ڈیجیٹل ذرائع سے زیادہ جڑی ہوئی ہے۔ وہ حکومتوں کو صرف نعروں سے نہیں بلکہ کارکردگی، شفافیت اور جواب دہی کے معیار پر پرکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانی بے ضابطگی، بے روزگاری، مہنگائی یا ادارہ جاتی بدعنوانی جیسے مسائل چند گھنٹوں میں قومی مباحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔بھارت سمیت پورے برصغیر کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج کیوں ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومتیں عوام کو احتجاج پر مجبور کیوں کرتی ہیں؟ اگر ادارے بروقت انصاف فراہم کریں، بیوروکریسی عوام دوست ہو، پارلیمان مؤثر ہو، عدلیہ آزاد ہو اور حکومت اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت قائم کرے تو سڑکیں سیاست کا میدان نہیں بنتیں۔جمہوریت کی اصل طاقت اقتدار میں نہیں بلکہ جواب دہی میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا وزیر یا حکمران جو اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے، وہ دراصل جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ اقتدار سے ہر قیمت پر چمٹے رہنے والا شخص خواہ منتخب ہی کیوں نہ ہو، رفتہ رفتہ جمہوری اقدار کو کمزور کرتا ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ عوام وقتی طور پر خاموش ہو سکتے ہیں، مگر مستقل طور پر بے آواز نہیں رہتے۔برصغیر کی نئی نسل کا پیغام واضح ہے۔ اقتدار عوام کی امانت ہے، وراثت نہیں اور جمہوریت کا حسن صرف انتخابات میں نہیں بلکہ مسلسل احتساب، شفافیت اور اخلاقی جواب دہی میں مضمر ہے۔