یوسف میر
صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ ساحل سویرے جاگ اٹھا تھا۔ شاید اسے اپنے بیٹے حیدر کے امتحان کی فکر تھی۔ وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد جانے لگا تو حیدر نے آواز دی:
“ابو، برا نہ مانیں تو واپسی پر روٹی لے آنا، تاکہ میرا وقت بچ جائے۔”
ساحل مسکرا کر گھر سے نکل گیا۔ گھر کا ماحول پرسکون تھا اور سب کی دعائیں حیدر کے امتحان کی کامیابی کے لئے تھیں۔
نماز سے فارغ ہو کر ساحل سیدھا گاؤں کی دکان پر روٹی لینے گیا، مگر وہاں پہنچ کر وہ حیران رہ گیا۔ دکان کے سامنے لوگوں کا رش تھا۔ مرد اور عورتیں سب جمع تھے۔
ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا:
“کیا روٹی آئی ہے؟”
دکاندار بار بار ایک ہی جواب دے رہا تھا:
“آج نان وائی نے روٹیاں نہیں بنائیں۔ گاؤں کی کسی دکان پر روٹی موجود نہیں۔”
ساحل خاموش کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔ اسے یاد آیا کہ ایک وقت تھا جب ہر گھر میں صبح روٹی پکتی تھی۔ آج ایک روٹی کے لئے پورا گاؤں بے بس کھڑا تھا۔
وہ خالی ہاتھ گھر واپس آ گیا۔
گھر آ کر اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
“روٹی نہیں ملی، بیٹا۔”
حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا:
“کوئی بات نہیں ابو، واپس آ کر کھا لوں گا۔”
دروازہ بند ہوا تو گھر کی خاموشی ساحل کے اندر اترنے لگی۔
وہ صحن میں بیٹھ گیا۔ یہ وہی صحن تھا جہاں کبھی زندگی خود کفیل تھی۔ ایک طرف گائے بندھی ہوتی تھی، دوسری طرف مرغیاں دانہ چگتی تھیں، اور گھر کے اندر ایک مکمل نظام چلتا تھا۔
اسے اپنے والد کا ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔ ایک بار گھر کی گائے دودھ نہیں دے رہی تھی۔ گھر والوں نے مشورہ دیا کہ اسے بیچ دیا جائے، مگر اس کے والد نے سختی سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا:
“یہ گائے اس گھر سے نہیں جائے گی۔ جب تک میں زندہ ہوں، یہ ہمارے گھر کا حصہ رہے گی۔ میں اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کو دوسروں کے دروازوں پر نہیں بھیجوں گا۔”
تب یہ بات ضد محسوس ہوئی تھی، مگر آج وہی بات ایک اصول بن چکی تھی، خود کفالت کا اصول۔
اس کے ذہن میں ایک اور یاد ابھری۔ ایک شام ان کا پرانا دوست غلام رسول اچانک گھر آ پہنچا تھا۔ اندھیرا گہرا ہو چکا تھا، مگر گھر والوں نے بغیر کسی تیاری کے فوراً انتظام شروع کر دیا۔ صحن میں پلنے والے مرغوں میں سے ایک نکالا گیا، اور اسی وقت سادہ مگر باوقار ماحول میں کھانا تیار ہونے لگا۔ مہمان کو عزت اور محبت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ نہ بازار کی ضرورت تھی، نہ کسی انتظار کی۔
اسے احساس ہوا کہ وہ زندگی واقعی خود کفیل تھی، جہاں زیادہ تر ضرورتیں گھر ہی کے اندر پوری ہو جاتی تھیں۔
اسے اپنی مرحوم بیوی بھی یاد آئی۔ وہ صرف ایک گھریلو عورت نہیں تھی بلکہ پورے گھر کے نظام کی روح تھی۔ وہ گائے، مرغیاں، صحن، باغیچہ اور روزمرہ زندگی کو سنبھالتی تھی۔ گھر کے اندر ہی زندگی مکمل تھی۔
اب وقت بدل چکا تھا۔ سہولتیں بڑھ گئی تھیں مگر خود انحصاری کم ہو گئی تھی۔ ہر چیز بازار کی محتاج ہو چکی تھی اور بازار رک جائے تو زندگی بھی رک جاتی تھی۔
ساحل دیر تک صحن میں بیٹھا رہا۔ ماضی کی یہ تصویریں اس کے اندر اترتی جا رہی تھیں۔ اس کے اندر ایک سچ آہستہ آہستہ واضح ہو رہا تھا۔
پہلے ہم اپنی ضرورتیں خود پوری کرتے تھے۔ آج ہم ہر چھوٹی چیز کے لئے دوسروں کے محتاج ہو گئے ہیں۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ فضا میں پرندوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
اس کے دل میں ایک خاموش فیصلہ جنم لے چکا تھا۔
اگر زندگی نے مہلت دی تو وہ اپنے گھر میں پھر سے خود کفالت کی بنیاد رکھے گا، ایک گائے، چند مرغیاں اور ایک چھوٹا سا باغیچہ۔
وہ چاہتا تھا کہ آنے والی نسلیں یہ جانیں کہ حقیقی ترقی اپنی جڑوں کو چھوڑنے میں نہیں، بلکہ انہیں سنبھال کر آگے بڑھنے میں ہے۔
ساحل کے دل میں اب کوئی سوال باقی نہیں رہا تھا۔ صرف ایک خاموش یقین رہ گیا تھا کہ حقیقی ترقی اپنی جڑوں کو چھوڑنے میں نہیں، بلکہ انہیں سنبھال کر آگے بڑھنے میں ہے۔
���
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419734234