مینا یوسف
وہ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر دور اس پہاڑکی طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کسی گہرے خیال میں ڈوبا ہوا اس سے باتیں کر رہا ہو۔پھر کچھ ہی دیر میں وہ وہاں سے اٹھا،ایک سرد آہ بھری اور سامنے میز پر رکھے اخبار کو پڑھنے لگااور اس کے ہولناک منظر کو دیکھ کر بے ساختہ ہی اس کے منہ سے نکلا’’یا الہیٰ‘‘۔
اخبار کے صفحہ اول پر سیلاب کی تباہ کاریوں کی تصویر یں چھپی ہوئی تھیں۔پہاڑوں اور میدانوں میں ہونے والی مسلسل بارشوں کی وجہ سے اس پہاڑ کے دامن میں واقع گاوٗں میں باڑھ آچکی تھی۔پانی اب آگے بڑھتے ہوئے بستیوں کی طرف بڑھ چکا تھا جس کی وجہ سے دیہات کا رابطہ شہر سے بالکل کٹ چکا تھا۔
وہ اخبار ہاتھ میں لئے بے چین ہو کر کھڑکی کی طرف لپکا اور اب اس کی سمجھ میں آیا کہ دور پہاڑ پر کالی گھٹائیں کیوں اتنی بھیانک لگ رہی تھی۔ وہاں دور اس پہاڑ کے دامن میں اس کا آبائی گاوٗں تھا جہاں اس کا بوڑھا باپ اور پورا خاندان رہتا تھا۔ باڑھ نے سب سے پہلے اسی گاوٗں کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔
اس نے تھراتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا موبائیل فون نکالا اور گاوٗں کا نمبر ملایا لیکن نیٹ ورک مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا۔ باہر بارش کی بوندیں شیشوں پر تیزی سے ٹکرانے لگی تھی اس نے اپنا وقت ضائع کئے بغیر برساتی اُٹھائی اور کمرے کا دروازہ لاک کیا اور بارش کا سامنا کرتے ہوئے اپنے گاوٗں کی طرف نکل پڑا ۔
���
صفاپورہ، مانسبل، کشمیر