شبنم بنت رشید
رضا نے آج سحر پر دل کھول کر خرچ کیا۔ اسے ایک آئی فون کے ساتھ ساتھ ایک مہنگا ڈریس بھی دلوایا۔ دوسرے دن ایک کیب بک کر کے ایک خوبصورت جگہ گھومنے پھرنے کی غرض سے چلے۔ وہاں خوب ساری تصویریں بھی کھنچوائی۔ پھر دوپہر اور شام کا کھانا بھی ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں کھایا۔ مست مگن سحر کا دل باغ باغ ہوا مگر اس نے ایک بار بھی رضا سے یہ نہ پوچھا کہ تمہارے پاس اتنے سارے پیسے آئے کہاں سے؟
رضا نے ایک بار سحر کو اپنے کالج کے باہر دیکھا تھا۔ اس کی صورت دیکھ کے ہی وہ اس پر فدا ہو گیا۔ وہ دل ہی دل میں اسے چاہنے لگا۔ اس کے بعد رضا کا سحر کے بغیر دل نہ لگتا تھا۔ اس کے بغیر اس کا جینا جیسے دشوار ہو گیا۔ ایسے محسوس ہونے لگا جیسے اس کے لئے وقت رک سا گیا ہو۔ دھیرے دھیرے اس کا وجود ایک خاموش چادر میں کھو گیا۔ اس نے کالج جانا ہی بند کر دیا۔ دنیا کا دستور ہے کہ جب بندہ اللہ کی محبت کو بھول کر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ دین و دنیا سے غافل ہو ہی جاتا ہے۔ پھر انسان اپنی ہی بے معنی سوچوں، خیالوں اور لفظوں میں کھو جاتا ہے۔ یہی حال رضا کا بھی ہوا۔ اس نے کسی بھی طرح سے سحر سے رابطہ کیا اور اس کے خیالوں میں کھونے لگا۔ اب وہ سحر کو اپنے ہی آس پاس دیکھنا چاہتا تھا جو کہ شادی کے بغیر ناممکن تھا۔ رضا کے ابا اکلوتے تھے۔ ان کے پاس آمدن بخش کافی پراپرٹی تھی۔ کئی مکانات و دکانات تھے۔ کرائے کا خوب سارا پیسہ آتا تھا۔ مگر رضا کے دادا زندہ تھے اورساری پراپرٹی اس کے قبضے میں تھی۔ ستم یہ تھا کہ دادا بڑے کنجوس مزاج کے شخص تھے۔ مشکل ہی سے ناپ تول کر گھر کا خرچہ دیتے تھے۔ رضا کے ابا پچاس سال کی عمر میں بھی بے اختیار اور بے بس تھے۔ دادا اپنی تنگ نظری اور کنجوسی کی وجہ سے کافی عرصے تک سحر کو بہو بنانے سے انکار کرتے رہے۔ طویل جدوجہد کے بعد ہی دادا اس شرط پر راضی ہوئے کہ رضا شادی کے بعد رضا خود کمائے گا اور اپنی بیوی سحر کو کھلائے پلائے گا اور اس کے شوق بھی پورے کرے گا۔
شادی کو ابھی چند ہی مہینے ہوئے تھے تو رضا کے سر سے شادی کا بھوت اتر کر ایک بھاری بوجھ کی صورت میں کندھوں پر آگیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ اسے اب اپنے گھر کا ماحول سمجھ میں آیا، یہ بھی سمجھ آیا کہ زندگی کیا ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے لئے کیا کیا سہنا پڑتا ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا اب رضا بے کار بیٹھ کر توسحر کو خوش رکھ نہیں سکتا تھا۔ اسی لئے وہ اپنے لئے کام تلاشتا رہا۔ لیکن کوئی مناسب کام نہ ملا۔ آخر مایوس ہو کر اس نے کچھ جگاڑ کر کے بینک سے لون لیا اور ایک آٹو خریدا جس پر وہ دن بھر ایک بنجارے کی طرح گلی گلی محلے محلے گھوم گھوم کر فروٹ بیچنے لگا۔ پہلے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کام میں ماہر ہونے لگا۔ خیر آخر اس نے ایک آسودہ حال محلے کو چن ہی لیا اور اسی محلے کی گلیوں میں دن بھر چکر کاٹ کاٹ کر مناسب ریٹ پر صاف ستھرے فروٹ بیچنے لگا۔ اس محلے میں رضا نے کم مدت میں کافی عزت کمائی۔ حلال طریقے سے وہ چار پیسے کمانے لگا جس سے بڑے آرام سے وہ بینک کی قسط ادا کرتا رہا۔ ساتھ میں سحر کو بھی ہر مہینے کوئی نہ کوئی نئی چھوٹی بڑی چیز دلاتا رہا۔ اس کے دل کو اطمینان آنے تو لگا مگر سحر ہر وقت کوئی نہ کوئی فرمائش کرتی رہتی۔ وہ بچپن سے دیکھا دیکھی کی شکار تھی۔ مزاج میں ضد اور انا دونوں موجود تھے۔ عورت کے اندر سادگی، صبر، قناعت کے بجائے ضد، انا اور دکھاوا ہو تو وہ مرد کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ “نا” سننا سحر کو کبھی برداشت نہ ہوتا تھا۔ وہ جس چیز کی فرمائش کرتی تھی تو وہ چیز اسے کسی بھی قیمت پر ملنی ہی ملنی چاہیے تھی۔ مگر اس بار سحر نے حد ہی کر دی جب شام کو رضا تھکا ہارا گھر آیا تو اس نے رضا سے ایک نئے آئی فون کی ڈیمانڈ کی جو رضا کی اوقات سے بالکل باہر تھا۔ رضا کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ جانتا تھا کہ اسے سحر کی جان نہ چھوڑنے والی ضد کے سامنے دھیر سویر جھکنا ہی ہے۔ پھر بھی اس نے اس کی کافی منتیں کر کے کہا کہ اگر آئی فون کے بجائے تم میری جان مانگ لیتی تو میں خوشی خوشی تمہارے قدموں میں دے دیتا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آج کے دور میں آئی فون نہ کوئی بڑی چیز ہے نہ کوئی انوکھی مگر میرے اوپر ابھی بینک کا کافی پیسہ بقایا ہے اور تمہیں تو میری جیب کا بھی پتہ ہے۔ بینک کا قرضہ ادا ہوتے ہی میں تمہیں ایک نیا آئی فون ضرور دلواؤں گا، یہ میرا وعدہ ہے۔ وہ سحر کو اپنے خالی جیب کا احساس دلاتا رہا مگر سحر اپنی ضد پر ڈٹی رہی۔ رضا اب شادی سے پہلے کئے ہوئے وعدے اور کہے ہوئے الفاظ میں الجھ کر رہ گیا۔ آج سحر نے حد ہی کر دی۔ صبح سویرے روٹھ کر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی اور ساتھ ساتھ رضا سے مائیکے بھاگ جانے کی دھمکی دینے لگی۔ رضا شریف طبیعت کا بندہ اور بزدل بھی تھا۔ اس لئے اس نے گھر کے ماحول اور سحر کی عزت کا خیال کرتے ہوئے اسے کافی سمجھایا۔ جب وہ اسے سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا تو اس کی حالت بھی بری ہوئی۔ تو وہ آج تازہ پھل لانے کے لئے منڈی بھی نہ گیا۔ تھک ہار کر اس نے اندر ہی اندر ایک بے ایمانی کا منصوبہ بنایا۔
وہ جس محلے میں فروٹ بیچتا تھا اس محلے کا بچہ بچہ رضا کو جانتا تھا۔ چونکہ لوگ رضا سے اور اس کی محنت اور ایمانداری سے واقف تھے اس لئے محلے میں ہر کوئی ایک لعل فروش کی طرح اسے عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا۔ چونکہ محلے کا ہر گھر آسودہ حال تھا اس لئے پھل فروٹ بھی بھر بھر کر خرید کر بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ جس گھر کو جو فروٹ چاہیے ہوتا تھا وہ صرف ایک فون کال کر کے رضا کو بلاتے تھے۔ تو رضا پانچ منٹ میں گیٹ کے پاس اپنا آٹو لے کر حاضر ہو جاتا تھا۔ اسی وجہ سے رضا کے پاس تمام گھروں کے فون نمبرات اپنے فون میں موجود تھے۔ خیر جو رضا کو بیوی نے گھر پر و بال جان اٹھایا تھا اس سے تو اس کا خون خشک ہو چکا تھا۔ گھر اور گاہک دونوں فریق اس سے بے خبر ہی تھے۔ مگر آج رضا اپنے بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق جو کام کرنے جا رہا تھا مانو تو ایک گناہ کرنے جا رہا تھا۔ جس گناہ کو شاید اس کے گاہک معمولی سمجھ کر اس سے اگر معاف بھی کر دیتے مگر خدا اور وہ گیا خود کو معاف کر پائے گا؟ اس کی پرواہ کئے بغیر وہ گھر سے باہر نکل گیا۔ باہر کئی سو گز کی دوری پر سڑک کے کنارے کھڑے اپنے آٹو میں بیٹھ گیا۔ پھر ادھر ادھر اپنی گردن موڑ کر دیکھنے لگا۔ اپنا فون نکالا پہلے سوئچ آف کیا پھر آن کیا۔ آن کرنے کے بعد فون میں درج سب سے پہلے والے خریدار کا نمبر ملایا۔ چند لمحوں تک وہ کچھ بول نہ پایا۔ اسے ایسے لگا جیسے اس کی زبان کو لقوہ لگا ہوا ہو۔ پھر اپنی تمام تر ہمت جٹا کر کہنے لگا السلام علیکم حاجی صاحب میں فروٹ فروش رضا بات کر رہا ہوں۔ میرا آٹو آج صبح بیچ سڑک میں خراب ہوا۔ جیسے تیسے میں اسے ورک شاپ تک لے آیا۔ اب مرمت کے پیمنٹ میں صرف پندرہ سو روپے کم پڑ گئے۔ مہربانی کر کے آپ میرے اکاؤنٹ میں صرف پندرہ سو روپے ٹرانسفر کیجئے تاکہ میں یہاں سے اپنا آٹو لے کر صبح کام پر آسکوں اور آپ کے پیسے میں صبح آپ کو لوٹا دوں گا۔ یہی الفاظ وہ کافی دیر تک ترتیب سے لکھے ہوئے اپنے فون میں ہر گاہک کے نمبر پر فون کر کے دہراتا رہا اور اپنی مطلوبہ رقم وصول کرکے اپنا فون سوئچ آف کردیا۔
���
پہلگام، اننت ناگ ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419038028