ماجد مجید
قرآن مجید میں رکوع کیسے وجود میں آئے ،توجہ طلب ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں قرآن مجید کو ہفتے کے سات دنوں کے حساب سے سات منازل میں تقسیم کیا گیا تاکہ ہر ہفتے قرآن مجید کا دور مکمل ہوجائے اور ہر روز ایک منزل تلاوت کرسکیں۔یہ تقسیم خلفائے راشدین کے دور میں ملتی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے،’’جو شخص نیند یا بیماری کی وجہ سے تہجد میں اپنے حزب کو پورا نہ کرسکے، وہ فجر اور ظہر کے درمیان اس کی تلاوت کرلے تاکہ اتنا ثواب لکھا جائے گا، گویا اس نے اسے رات کے دوران پڑھا ہے۔ رکوعوں کی تقسیم :،دور صحابہ ؓاور دورِ نبویؐ میں یہ تقسیم موجود نہیں تھی بلکہ زمانہ بعد کی پیداوار ہیں۔قرآن حکیم کے بڑے سورتوں میں یہ تقسیم کی گئی ہے ،صرف 35 سورتیں ایک ہی رکوع پر مشتمل ہیں اور انہیں ایک رکعت میں تلاوت کیا جاسکتا ہے۔رکوع : نماز میں تلاوت کا وہ حصہ ،جو کھڑے ہونے سے لے کر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکنے تک تلاوت کیا جاسکے، رکوع کہا جاتا ہے۔ اس میں قرآن مجید میں درج کوئی واقعہ تلاوت کیا جاتا ہے اور اگر واقعہ کی تفصیل زیادہ ہو اور بات مکمل بھی نہ ہو، تو دوسرے رکوع میں واقعہ پورا تلاوت کیا جاسکتا ہے ۔مثلاً سورہ البقرہ میں رکوع 5 سے رکوع 14 تک( 10) رکوع میں بنی اسرائیل یہود سے مسلسل خطاب ہے۔ اس طرح ہر رکوع مکمل ہونے پر حرف (ع) درج کیا گیا ہے، یہ رکوع کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ سورہ البقرہ کے 285 آیات 40 رکوعات پر مشتمل ہیں۔ عام طور پر تلاوت کی وہ مقدار جو ایک رکعت میں بآسانی پڑھی جاسکتی ہے، ایک رکوع پر مشتمل ہوتی ہے۔ بہرحال یہ تقسیم حجاج بن یوسف کے زمانے میں یعنی تابعین کے دور میں ہوئی ہے۔ حجاج بن یوسف کا زمانہ تواریخ کے مطابق تقریباً 700 عیسوی سے پہلے شروع ہوجاتا ہے ۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال 632 عیسوی میں ہوگیا ،یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے 70 یا 80 برس بعد قرآن مجید کے سورتوں میں رکوعوں کی تقسیم کی گئی ہے اور یہ تقسیم بڑی محنت سے معانی پر غور کرتے ہوئے کی گئی ہے کہ کسی مقام پر ایک مضمون مکمل ہوگیا تو دوسرا مضمون شروع ہورہا ہے، وہاں اگر رکوع کرلیا جائے تو بات ٹوٹے گی نہیں۔عام طور پر ہمارے ائمہ کرام عربی زبان سے واقف نہیں ہوتے ہیں، وہ اکثر ایسی تکلیف دہ صورت حال پیدا کرتے ہیں اور ایسی جگہ پر رکوع کردیتے ہیں کہ کلام کا ربط منقطع ہوجاتا ہے اور جگر کو جیسے خنجر پیوست ہوجاتا ہے ۔پھر اگلی رکعت میں وہاں سے شروع کرتے ہیں کہ بات معنوی اعتبار سے بہت ہی گراں گزرتی ہے ۔بہرحال رکوعوں کی تقسیم بہت عمدہ ہے، البتہ چند ایک مقامات پر یوں لگتا ہے کہ اگر یہ آیت رکوع سے قبل یا رکوع کا نشان(ع) اس آیت سے پہلے ہوتا تو معنی اور۔مفہوم کے اعتبار سے بہتر ہوتا۔ بہرحال رکوعوں کی یہ تقسیم بڑی محنت اور گہرائی میں غور کرکے کی گئی ہے ۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر)