رواں ہفتہ میں ہونے والی بارشوں سے شہر سرینگر اور دیگر اضلاع میں نکاس آب کی عدم دستیابی اور ناقص نظام کے باعث جس طرح بعض اہم شاہراہوں،رابطہ سڑکوں اور نچلی سطح کے مختلف علاقوں نے جھیلوں اور نالوں کی شکل اختیار کرلی ، وہ ایک انتہائی غور طلب امرکی دلیل ہے۔اس صورت حال نے جہاںلوگوں کی روز مرہ زندگی میں کئی دشواریاں پیدا کردی ہیں اور روز مرہ کےکام کاج کرنے میں خلل ڈالا ہے ،وہیںبارشوں کے پانیوں نے بیشتر رہائشی مکانوں اور دکانوں میں گھُس کر اُنہیں مزید پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے۔چنانچہ جب جب یہ مناظر ہماری نظروں کےسامنے آجاتے ہیں تو اُس وقت یہاں کی حکومتوں کی طرف سے عوامی فلاح و بہبودکی خاطر اٹھائےگئے اقدامات اور کئے گئے کاموںکے دعوئوں کے نہ صرف پول کھُل جاتے ہیں،بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگیوں کی قلعی بھی اُتر جاتی ہے ۔گویااس صورت حال سے یہ بات بھی عیاں وبیاں ہوجاتی ہے کہ سرکاری انتظامیہ کی طرف وادی ٔ کشمیر کے اطراف و اکناف کے رہائشیوںکو درپیش مسائل دور کرنے اور یہاں کے ماحول کو آلودگی سے صاف و پاک رکھنے کے لئے حکومتوں کی طرف سےآج تک جتنے بھی نام نہادمنصوبوںکے تحت کام انجام دیئے ہیں یالوگوں کی فلاح و بہبودی کے نام پر مثبت اقدامات اٹھائے ہیں،وہ کہاں تک دُرست اور کارآمد ثابت ہورہے ہیں؟موسم سرما ہو یا موسم گرما ،برف باری ہو یا بارشیں،عوام الناس کے لئے پیدا ہونے والے مسائل میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جبکہ تاحال آلودگی کی حد میں اضافہ ہورہا ہے اور حفظان صحت کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔
ظاہر ہے کہ ہمارے یہاں کا زیادہ تر ناکارہ اور خستہ حال ڈرنیج سسٹم،بنا دڈھکن کے مین ہولوں،ٹوٹے پھوٹے فُٹ پاتھوں،کھنڈرات میں تبدیل شدہ سڑکوں اور گلی کوچوںنے لوگوں کو پہلے ہی مختلف مسائل و مشکلات سے دوچار کرکے رکھا ہے ،جبکہ حالیہ بے موقع شدید بارشوں نے نہ صرف مختلف علاقوں میں قہر برپاکرکے لوگوں کو جانی و مالی نقصانات سےد وچار کردیاہے، وہیں بعض نشیبی علاقوں میں نکاس آب کی عدم دستیابی کے باعث مختلف بستیوں کو بُری طرح متاثر کردیا ہے۔کئی علاقوںکے ارد گرد گندے پانی کے جوہڑ پیدا ہوگئے ہیں،جو اس بات کے اغماض ہیں کہ آنے والے مہینے کی گرمیوں کے ایام میںناسور کی شکل اختیار کرکے فضا اور ماحول کو مزید پراگندہ بنانے میںکارگر ہو سکتےہیں۔عوام میںعام تاثر یہی ہے کہ حکومت لوگوں کے مسائل حل کرنے اور عوامی بہبود کے کاموں کومثبت طریقے سے انجام نہیں دے رہی ہے، نہ اس معاملے میں سنجیدگی دکھا رہی ہے اور نہ ہی اہم نوعیت کےعوامی مسائل حل کرنے میں دل چسپی لے رہی ہے۔حالانکہ جس رفتار کے ساتھ شہر اور دوسرے اضلاع کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے،اُسی رفتار سے عوامی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں،ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کو جس تجزیے اور جس پیمانے پر منصوبہ بندی ،پروگرام اور حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت تھی یا ہے ،اُن کا کہیں بھی نام و نشان نہیں مل رہا ہے۔ صورت حال وہی دکھائی دیتی ہے جو پچھلے تین چارعشروں سے چلی آرہی ہے۔وہی گھِسی پٹی منصوبہ بندی ،وہی بوسیدہ نظام ،وہی زنگ آلودہ سسٹم،وہی ناقص حکمت عملی اور روایتی کام ہر طرف عام ہیں،جو وقت وقت پر ناکارہ اورناکام ثابت ہوچکے ہیں۔اگرچہ سرکاری انتظامیہ کے تقریباً سبھی شعبوں میں ملازمین اور افسروں کی بھرمارہےلیکن کسی بھی شعبے کی کارکردگی میں کوئی نمایاں سُدھار یا نکھار نہیں آیا ہے۔تاہم انجینئرنگ شعبوں کی کارکردگی حد سے زیادہ ناقص دکھائی دے رہی ہے۔آج بھی ان شعبوں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو صورت حال افسوس ناک دکھائی دیتی ہے۔آج بھی اگر وادی کے اطراف و اکناف کے دیہات ،دور دراز علاقوں سمیت شہر سرینگر کے گنجان آباد علاقوں میں انجینئرنگ شعبوں کی طرف سے کئے جارہے کام کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے،جبکہ پبلک رقومات کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔شہر اور دیہات کی مختلف کالونیاںناقص انجینئرنگ نظام سے بارشوںکے پانیوں میں ڈوب جاتی ہیں جبکہ زرِ کثیر اخراجات سے تعمیر شدہ نام نہاد’’ سمارٹ سٹی‘‘ کے نکاس آب کا ناکارہ سسٹم بھی جہاں ہم سب کے لئے چشم کُشا ہے، وہیں موجودہ حکومت کے لئےایک افسوس ناک المیہ سے کم نہیںہے۔