سوال:۔کیا اسلام نے لوگوں کیلئے کوئی خاص لباس مقرر کیا ہے؟
بشیر احمد۔گاندربل
فیشن زدہ لباس غیر اسلامی
جواب:۔شریعت اسلامیہ نے لباس کے متعلق چند اصولی ہدایات دی ہیں۔ وہ اختصار کے ساتھ پیش ہیں ۔خیال رہے کہ شریعت نے ممنوع لباس کی تعیین کی ہے ۔
(۱) ہر وہ لباس غیر اسلامی ہے جو پردہ کے اعضاء کو نہ چھپائے۔ لہٰذا ایسا تنگ اور چست لباس غیر اسلامی ہے جس سے اعضاء کا حجم اور ساخت صاف واضح ہوتی ہو۔ لہٰذا چست پتلوں اور ناف تک کی شرٹ غیر اسلامی لباس ہے۔ اس لئے کہ یہ ستر کو چھپاتے نہیں بلکہ حجم کو ظاہر کردیتے ہیں۔ اسی طرح عورتوں کا سُتھنا پہننا یا تنگ و چست فراک پہننا غیر اسلامی ہے کیونکہ یہ ساتر لباس نہیں ہے جبکہ لباس کا پہلا مقصد ستر چھپانا ہے۔
(۲) ہر وہ لباس غیر اسلامی ہے جو کسی دوسری قوم کا شعار ہو یا فساق و فجار کی علامت ہو۔ لہٰذا فلموں کی نقالی کرتے ہوئے جو بھی لباس پہنا جائے وہ غیر اسلامی ہے۔
(۳) مردوں کو عورتوں جیسا اور عورتوں کو مردوں جیسا لباس پہنناغیر اسلامی عمل ہے اور حدیث میں اس پر لعنت بیان کی گئی ہے ( بخاری ، مسلم)
(۴) مردوں کا ٹخنوں سے نیچے کوئی لباس پہننا، چاہئے وہ کُرتایا پاجامہ ہو ،پتلون ہو یا پھرن قمیص، یہ حدیث کی رو سے سخت منع ہے ۔ یاد رہے مغرب کی نقالی میں جیسے آج کل پتلون ٹخنوں سے نیچے ہوتی ہے، ایسے ہی عرب ممالک میں لمبی قمیص ٹخنوں سے نیچے پہننے کا فیشن ہے۔ یہ دونوں منع ہیں۔
(۵) مردوں کے لئے رشیم کا لباس چاہئے وہ کُرتا پاجامہ ہو یا قمیص شلوار ،یا پتلون شرٹ ہو ،سب منع ہے ۔حدیث میں اسکی ممانعت ہے۔ ان اصولی ہدایات کی روشنی میں یہ طے ہے کہ ہر ملک کے علماء، صلحاء، اصحاب تقویٰ اور اہل ایمان کا جو لباس ہوگا وہی اسلامی لباس کہلائے گا اور جو لباس فیشن زدہ، فساق ، فجار، کفار اور دین سے دور اشخاص کا ہوگا وہ غیر اسلامی لباس ہوگا۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے یہ حدیث ابودائود شریف میں ہے۔ دوسری اقوام کی مشابہت کے لئے پہلا عمل شکل و صورت، وضع قطع اور لباس سے ہی شروع ہوتا ہے پھر دوسرے معاشرتی و سماجی معاملات میں مشابہت شروع ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال۱:۔ کیا داہنی کلائی پر گھڑی باندھنا افضل ہے؟
سوال۲:۔ آج کل کشمیر میں گردوں کی بیماری کے سبب سے گردے عطیہ(Donate) کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
بشیر احمد ، گاندربل
داہنی کلائی میں گھڑی کا استعمال
جواب:۱گھڑی دونوں ہاتھوں میں پہننا جائز ہے۔ البتہ داہنے ہاتھ میں پہننا افضل ہے اسلئے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے انگوٹھی دائیں ہاتھ میں ہی پہنی ہے اور دوسرے آپ ہر اچھے کام کو دائیں ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے ۔ حتیٰ کہ کنگھا کرنے اور جوتے پہننے میں بھی آپ اس کا خیال فرماتے تھے( بخاری عن عائشہؓ) اس لئے گھڑی بھی دائیں ہاتھ میں پہننا افضل ہے مگر لازم بھی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرد و ں کا عطیہ کرنے کی اہم شرائط
جواب:۲گردوں کا عطیہ جائزہے مگر تین شرطیں لازم ہے (۱) گردوں کی قیمت نہ لی جائے۔(۲) گردہ دینے والے کو خود ناقابل تلافی نقصان یا شدید بیماری کا خطرہ نہ ہو(۳) جسے گردہ دیا جائے اُسے فائدہ پہنچنے کا گمان غالب ہو۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ ایک سے گردہ لیا گیا اور دوسرے کو کار گر نہ ہوا۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی ٹوٹ جائے تو گردوں کا Donationدرست نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: ہمارے معاشرے میں بہت سارے ایسے اشخاص( مسلمان) دیکھنے کوملتے ہیں جو کبھی بھی مسجد شریف کی جانب نماز کیلئے رُخ نہیں کرتے اور نہ ہی گھروں میں نماز پڑھتے۔ ان کیلئے مذہب میں کیا حکم ہے؟
مشتاق احمد ، امیراکدل
دانستہ تارکِ نماز کیلئے حکم
جواب:نماز ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان اور کافر کے درمیان نماز کا فرق ہے ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑے اس نے کفر کا کام کیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اصحاب عین( جنت کے لوگ جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ تم کوکس جرم کی وجہ سے سقر( جہنم کے خطرناک حصہ) میں پھینکا گیا۔ وہ جواب دیںگے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے وغیرہ ۔سورہ المدثر ۔
قرآن و حدیث کے ان ارشادات سے خود وہ مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ اس کا حال کیا ہے اور آخرت میں اُس کا کیا حال ہوگا جو مسلمان محض سستی و غفلت سے سے نماز کا تارک ہے۔ عہد نبوت میں تو منافق بھی نماز چھوڑنے کا تصور نہیں کرتا تھا جبکہ آج کے مسلمان ان منافقوں سے بدتر حالت میں ہیں کہ وہ محض غفلت ولاپرواہی کی وجہ سے نماز چھوڑدیتے ہیں اور اس پر کوئی افسوس بھی نہیں ہوتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۱۔ایک لڑکی شادی کے دو سال بعد فوت ہوگئی مگراپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی اُس کی وراثت میں ماں ، باپ کی طرف سے دیا ہوا جہیز اور مہر کی رقم ہے۔ اس کے خاوند نے دوسری شادی کر لی ہے اب وارثان میں متوفیہ کے ماں باپ 5بھائی اور2بہنیں ہیں ۔از روئے شریعت اس ورثے میں کس وراث کو کتنا حصہ ملے گا۔
سوال:۲۔راقم نے ایک یتیم لڑکی کی پرورش اپنی بیٹی کی طرح کی بلکہ یوں سمجھیں کہ اپنی بیٹی ہی بنا لیا۔ اچھی تعلیم تربیت کی تعلیم و تربیت کے دوران اپنی اصل رقم کے ساتھ ساتھ عشر و زکوٰۃ کی رقم بھی مذکورہ بچی پر خرچ کی ۔مذکورہ بچی اس گھر کو اب اپنا گھر سمجھ کر اپنی کمائی ہوئی رقم خرچ کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسکایہ رقم خرچ کرنامیرے لئے جائز ہے۔ قرآن سنت کی روشنی میں جواب … فرمائیں؟
ایک شہری،سرینگر
لاولد خاتون کی وراثت کی تقسیم
جواب:۱۔فوت ہونے والی خاتون کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس لئے اس کا مہر، زیورات میکے اور شوہر کی طر ف سے دیئے گئے ہدایا اور تحائف سب کو جمع کیا جائے۔ پھر اُس جمع شدہ مجموعہ میں سے نصف اُس کے شوہر کو اور تیسر احصہ اُس کی والدہ کو اور بقیہ اُس خاتون کے والد کو دیا جائے۔ قرآن کریم میں وراثت کے سہام اسی طرح بیان کئے گئے ہیں ملاحظہ ہو۔سورہ النساء رکوع(۲) جس میں شوہر اور والدین کے حصہ وارثت کا بیان ہے۔
پروردہ شخص کا اپنے پرورش کرنے والے پر خرچ کرنا غلط نہیں
جواب :۲۔یتیم بچی کی پرورش اپنی بیٹی کی طرح کرنے پر یقیناً اللہ کی رضا اور دنیا و آخرت میں اجر و انعام ملنے پر توقع کامل ہے۔ اب جب وہ بالغ ہوگئی ہے اور خود بھی کمانے لگی ہے تو اگر وہ اپنی رضا و خوشی سے اپنی کمائی میں سے کوئی رقم پرورش کرنے والے شفیق فرد پر خرچ کرے اور اس خرچ کرنے میں اُس پر کوئی جبر و زیادتی نہ ہو تو شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
البتہ اس کی کمائی کے ذرائع کیا ہیں۔ یہ دیکھنا ضروری اور لازم ہے۔ اگر بے پردگی کے ساتھ اجنبی مردوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے اختلا ط پایا جاتا ہے تو اس طرح کمائی کرنا غیر شرعی عمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: کچھ مساجد میں عشاء کی نماز اپنے اصل وقت سے پندرہ بیس منٹ پہلے ادا کی جاتی ۔ کیا ہم اس جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں یا پڑ ھ کراپنے گھر میں الگ جماعت قائم کرکے نماز ادا کریں۔ جواب عنایت فرمائیں؟
ایک سائل
غروب شفق سے پہلے عشاء درست نہیں
جواب:۔ نماز عشاء میقات الصلواۃ میں دکھائے گئے وقت سے پہلے پڑھنا درست نہیں ہے۔ ہاں صرف دس پندرہ منٹ پہلے اذان پڑھی جائے اور اس کے ساتھ ہی نماز بھی پڑھی جاتے تو اس کی گنجائش ہے۔ نماز پڑھنے والے پر لازم ہے کہ صحیح وقت پر نماز پڑھے، اور صرف چند منٹ کی وجہ سے اپنی نماز خراب نہ کرے ۔اگر نماز مغرب غروب آفتاب سے پہلے پڑھی جائے تو یقیناً وہ درست نہیں۔ اسی طرح نماز ِ عشاء اگر غروب شفق سے پہلے پڑھی جائے تو وہ درست نہ ہوگی۔غروب شفق سے وقت عشاء احادیث سے ثابت ہے۔ اس کا وقت میقات الصلوۃ وغیرہ مستند تقویم ( کلینڈر) سے معلوم ہوگا۔