عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے 2012 کے ایم بی بی ایس داخلہ امتحان (سی ای ٹی) پیپر لیک اسکینڈل کے مرکزی ملزم کو مدتِ ملازمت میں توسیع اور ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدہ دے کر نوازا، جبکہ حکومت اس معاملے پر اس وقت تک خاموش رہی جب تک ہائی کورٹ نے مداخلت نہیں کیپریس کے نام جاری ایک بیان کے مطابق، سنیل شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شفافیت اور جوابدہی پر درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں، کیونکہ ان کی حکومت نے مبینہ طور پر ایم بی بی ایس پیپر لیک اسکینڈل کے مرکزی ملزم کی سرپرستی کی۔
انہوں نے کہا، ’’شفافیت پر لیکچر دینے اور خود کو بے داغ ثابت کرنے سے پہلے وزیر اعلیٰ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انہوں نے مشترکہ داخلہ امتحان (سی ای ٹی) 2012 کے سوالیہ پرچے مبینہ طور پر مالی فوائد کے عوض فروخت کرنے کے مرکزی ملزم مشتاق پیر کو توسیع دی تھی۔ انہیں کلاس چہارم کی آسامیوں پر فاسٹ ٹریک بھرتیوں کے لیے کنسلٹنٹ کس نے مقرر کیا؟ جموں و کشمیر کے عوام جانتے ہیں کہ عمر عبداللہ حکومت نے مرکزی ملزم کی سرپرستی کی تھی۔‘‘سنیل شرما نے مزید سوال اٹھایا کہ بطور وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ عمر عبداللہ اور ان کے ماتحت تفتیشی ایجنسیاں اس اسکینڈل پر خاموش کیوں رہیں اور کارروائی صرف اس وقت کیوں عمل میں آئی جب ہائی کورٹ نے مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کی مداخلت اس وقت سامنے آئی جب امیکس کیوری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جے کے سی ای ٹی 2012 کے سوالیہ پرچے امتحان کی مقررہ تاریخ سے قبل بھاری رقوم کے عوض فروخت کیے جانے کی اطلاعات موجود تھیں، لیکن واضح شکایات کے باوجود نہ تو ویجی لنس آرگنائزیشن اور نہ ہی کرائم برانچ نے کوئی مؤثر کارروائی کی۔شرما نے کہا کہ ’’منتخب یادداشت تاریخ کو مٹا نہیں سکتی‘‘ اور الزام لگایا کہ عمر عبداللہ جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ سال 2025 میں جے ای الیکٹریکل امتحان کے دوران بھی پیپر لیک کے الزامات سامنے آئے تھے۔
عمر عبداللہ شفافیت پر لیکچر دینے سے پہلے 2012ایم بی بی ایس پیپرلیک اسکینڈل کویاد کریں: سنیل شرما