عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز جے کے ایس ایس بی (جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ) پیپر لیک پر مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈا کے تبصرے پر ان پر پلٹ وار کرتے ہوئے ان پر حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ بھرتی کا یہ گھپلہ 2022 میں ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، نہ کہ این سی – کانگریس حکومت کے دوران۔عمر نے پیپر لیک کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے انجام پر بھی سوال اٹھائے اور نڈا سے کہا کہ وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں اس کی رپورٹ کے نتائج کو عام کریں۔
امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے جاری احتجاج پر بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ جے کے ایس ایس بی پیپر لیک اس وقت ہوا تھا جب کانگریس اور نیشنل کانفرنس اقتدار میں تھیں۔
عمر نے ایکس پر لکھا، ’’جی جے پی نڈا، جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک کے بارے میں آپ بالکل درست ہیں، لیکن آپ سے تاریخ غلط ہو گئی ہے۔ یہ 2022 کا واقعہ ہے۔ حکومت این سی اور کانگریس کی نہیں تھی۔ یہ لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی حکومت تھی لیکن ہر کسی کو اس ناکامی کی یاد دلانے کے لیے آپ کا شکریہ۔ اس میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے یہ مشاہدات اور احکامات شامل تھے۔‘‘’’ہمیں نہیں معلوم کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی یا اس کی رپورٹ کا کیا ہوا۔ شاید آپ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں ہمارے ساتھ اس کی معلومات شیئر کر سکیں۔‘‘
You are absolutely correct about the SSB paper leak in J&K @JPNadda ji but you have got the date wrong. It was 2022. The government wasn’t of NC & Congress. It was a government headed by Lt. Governor but thank you for reminding everyone of this failure. It involved these… https://t.co/E8WHAJ0qCD pic.twitter.com/PsdaiJ2Uzx
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) July 23, 2026
این سی کے چیف ترجمان اور ایم ایل اے تنویر صادق نے بھی نڈا پر حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھرتی پیپر لیک 2022 میں ہوا تھا، جب جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت تھا اور یونین ٹیریٹری میں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔
It is astonishing that the BJP’s Minister @JPNadda Sb would make a claim so divorced from the facts.
The J&K recruitment paper leak happened in 2022 under the Lieutenant Governor’s administration which means directly under you, when there was no elected government. The present… https://t.co/qoqSpqyCPn
— Tanvir Sadiq (@tanvirsadiq) July 22, 2026
صادق نے کہا، ’’جموں و کشمیر میں بھرتی کا پیپر لیک 2022 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ براہ راست آپ کے تحت، جب وہاں کوئی منتخب حکومت نہیں تھی۔ موجودہ حکومت نے صرف اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالا تھا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اگر نڈا لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہیں، ’’تو انہیں کسی کو لیکچر دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘