ڈاکٹر ریاض احمد
ایک زمانہ تھا جب ڈگری حاصل کرنا علمی وقار اور پیشہ ورانہ تحفظ کی تقریباً عمر بھر کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ انسان تعلیم مکمل کرتا، کسی پیشے میں داخل ہوتا، اور پھر اسی تعلیمی علم کو برسوں تک اعتماد اور فخر کے ساتھ استعمال کرتا رہتا۔ معاشرہ ڈگری کی قدر کرتا، ادارے سرٹیفکیٹ کو اہمیت دیتے اور آجر قابلیت پر بھروسہ کرتے۔ مگر اب دنیا پرانی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے بدل چکی ہے۔ آج ڈگری کاغذ پر تو معتبر رہ سکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود علم اگر مسلسل تازہ نہ کیا جائے تو وہ پرانا اور غیر موّثر ہو سکتا ہے۔ اسی کیفیت کو ہم ’’تعلیمی طور پر فرسودہ‘‘ یا’’علمی طور پر پرانا ہو جانا‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
یہ اصطلاح بظاہر سخت محسوس ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنجیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کوئی شخص عمر، تجربے یا وقت گزرنے کی وجہ سے تعلیمی طور پر فرسودہ نہیں ہوتا۔ انسان اس وقت تعلیمی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے جب وہ سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، تبدیلی کو قبول نہیں کرتا، اور بدلتی ہوئی دنیا میں صرف پرانے علم پر انحصار کرتا رہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سرٹیفکیٹ فائل میں موجود رہتا ہے، نام کے ساتھ تعلیمی لقب بھی لگا رہتا ہے، مگر علم کی عملی افادیت کمزور ہو جاتی ہے۔
یہ رجحان آج ہر جگہ نظر آتا ہے: جامعات میں، اسکولوں میں، دفاتر میں، تحقیقی اداروں میں، صنعتوں میں اور عوامی زندگی میں بھی۔ جدید دنیا صرف پرانی قابلیت سے مطمئن نہیں ہوتی۔ وہ ایک زیادہ واضح سوال پوچھتی ہے: آپ اپنے علم سے آج کیا کر سکتے ہیں؟
ایک استاد کی مثال لیجیے۔ ایک ریاضی کا استاد جس نے تیس سال پہلے کیلکولس، الجبرا اور شماریات پڑھی ہو، یقیناً بنیادی علمی سرمایہ رکھتا ہے۔ ریاضی خود بے معنی نہیں ہوتی۔ دو اور دو ہمیشہ چار ہی رہیں گے اور کسی فنکشن کا مشتق ہمیشہ مشتق ہی رہے گا۔ لیکن ریاضی کو پڑھانے، سمجھانے، استعمال کرنے اور حقیقی زندگی سے جوڑنے کا انداز بہت بدل چکا ہے۔ آج کا طالب علم ٹیکنالوجی پر مبنی تدریس، بصری وضاحت، ایکسل ماڈلنگ، سمولیشن، ڈیٹا اینالیسس، مصنوعی ذہانت کی مدد سے سیکھنےاور حقیقی زندگی کی مثالیں چاہتا ہے۔ اگر استاد آج بھی صرف روایتی لیکچر، تختہ اور چاک تک محدود رہے، ڈیجیٹل ٹولز کو نظر انداز کرے اور ریاضی کو بزنس، انجینئرنگ، معاشیات اور ڈیٹا سائنس سے نہ جوڑے، تو اس کا تدریسی انداز تعلیمی طور پر فرسودہ ہو جاتا ہے، چاہے اس کا بنیادی مضمون مضبوط ہی کیوں نہ ہو۔
یہی بات بزنس ایجوکیشن پر بھی صادق آتی ہے۔ ایک بزنس گریجویٹ جس نے سوشل میڈیا کے عروج سے پہلے مارکیٹنگ پڑھی ہو، وہ پروڈکٹ، پرائس، پلیس اور پروموشن جیسے روایتی اصول ضرور جانتا ہوگا۔ لیکن اگر وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، صارفین کے ڈیٹا کا تجزیہ، انفلوئنسر کلچر، کسٹمر سروس میں مصنوعی ذہانت اور ای کامرس پلیٹ فارمز کو نہیں سمجھتا تو اس کا علم ادھورا ہو جاتا ہے۔ مارکیٹ پرانی ڈگری کو فوراً رد نہیں کرتی، مگر وہ اس شخص کو ترجیح دیتی ہے جو پرانے اصولوں کو نئے اوزاروں کے ساتھ جوڑ سکے۔تعلیمی فرسودگی ٹیکنالوجی کے میدان میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ ایک کمپیوٹر سائنس گریجویٹ جس نے کئی سال پہلے پروگرامنگ سیکھی ہو مگر مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالٹکس اور مشین لرننگ کے بارے میں اپنے علم کو اپ ڈیٹ نہ کیا ہو، اسے جلد محسوس ہوگا کہ ملازمت کی دنیا اس سے آگے نکل چکی ہے۔ ڈگری پر ’’کمپیوٹر سائنس‘‘ لکھا ہو سکتا ہے، مگر صنعت پائتھن، اے آئی ماڈلز، کلاؤڈ پلیٹ فارمز، آٹومیشن اور ڈیٹا ہینڈلنگ کا تقاضا کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ’’آپ نے کیا پڑھا تھا؟‘‘ بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ’’آپ آج کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
یہ مسئلہ صرف تکنیکی شعبوں تک محدود نہیں۔ طب، قانون، صحافت، تعلیم، مینجمنٹ اور سماجی علوم بھی اسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کو نئے علاج، نئی تحقیق اور جدید طبی رہنما اصولوں سے باخبر رہنا ضروری ہے۔ ایک وکیل کو نئے قوانین، سائبر کرائم، ڈیٹا پروٹیکشن اور ڈیجیٹل ثبوت کو سمجھنا ہوگا۔ ایک صحافی کو ڈیجیٹل میڈیا، فیکٹ چیکنگ، غلط معلومات اور عوامی رابطے کے بدلتے ہوئے انداز سے واقف ہونا ہوگا۔ ایک محقق کو نئے ڈیٹابیس، اشاعتی اخلاقیات، حوالہ جاتی ٹولز، تحقیقی طریقہ کار اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو جاننا ہوگا۔ ہر پیشے میں تبدیلی کی رفتار نے مسلسل سیکھنے کو عیاشی نہیں بلکہ ضرورت بنا دیا ہے۔
تعلیمی فرسودگی کی ایک بڑی وجہ نصاب کی سست رفتاری بھی ہے۔ معاشرہ اور صنعتیں تیزی سے بدلتی ہیں، مگر بہت سی جامعات کا نصاب کئی کئی سال بعد تبدیل ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم کئی سال ایسا مواد پڑھتے رہتے ہیں جو فارغ التحصیل ہونے تک جزوی طور پر پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر بزنس میتھمیٹکس کا کورس صرف سود، اقساط اور خطی مساوات کو کتابی سوالات کے طور پر پڑھاتا ہے، تو وہ طلبہ کو حقیقی کاروباری فیصلوں کے لیے پوری طرح تیار نہیں کرتا۔ لیکن اگر اسی کورس میں ایکسل فارمولاز، فنانشل ماڈلنگ، ڈیٹا کی تشریح، کیس اسٹڈیز اور فیصلہ سازی شامل کر دی جائے تو وہی مضمون زندہ، مؤثر اور متعلقہ بن جاتا ہے۔ (جاری)