معراج وانی
’’رشتے خون سے جنم لیتے ہیں، مگر اعتماد سے زندہ رہتے ہیں اور محبت سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔‘‘دنیا میں اگر کوئی نعمت ایسی ہے جس کی قیمت دولت، شہرت یا اقتدار سے نہیں لگائی جا سکتی تو وہ خلوص پر قائم رشتے ہیں۔ انسان خواہ کتنا ہی طاقتور، مالدار یا کامیاب کیوں نہ ہو، اگر اس کی زندگی اعتماد سے خالی رشتوں سے گھری ہوئی ہو تو اس کی زندگی ایک ویران محل کی مانند ہے۔ آج انسان کے پاس ہر سہولت موجود ہے، مگر سکون مفقود ہے، کیونکہ رشتوں کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔ اعتماد کی جگہ شک نے، خلوص کی جگہ مفاد نے اور محبت کی جگہ خود غرضی نے لے لی ہے۔
اسلام نے رشتوں کو صرف معاشرتی ضرورت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا خیال رکھو۔‘‘ایک اور مقام پر ارشاد ہے:’’بے شک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’’جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔‘‘اسلام نے والدین، اولاد، بہن بھائی، زوجین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور حتیٰ کہ پوری انسانیت کے حقوق بیان کر کے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔
والدین، اولاد، بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی، چچا، ماموں، پھوپھی، خالہ اور دیگر قریبی عزیز وہ رشتے ہیں جو انسان کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے وجود میں آتے ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں جن میں محبت، شفقت، ایثار اور قربانی کی خوشبو فطری طور پر شامل ہوتی ہے۔یہی رشتے انسان کے دُکھ سُکھ کے ساتھی ہوتے ہیں، لیکن اگر ان میں اعتماد ختم ہو جائے تو محبت بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دیتی ہے۔ اعتماد وہ مضبوط ستون ہے جس پر ہر خاندانی نظام قائم رہتا ہے۔
اسلام نے صرف نسبی رشتوں تک محبت کو محدود نہیں رکھا بلکہ دلوں کو بھی رشتوں میں پرو دیا۔اس کی سب سے عظیم مثال مہاجرین اور انصار ہیں۔جب مکہ کے مسلمان اپنا گھر بار، تجارت اور جائیداد چھوڑ کر مدینہ پہنچے تو انصار نے انہیں صرف پناہ نہیں دی بلکہ اپنے گھروں، باغات، کاروبار اور مال میں شریک کیا۔قرآن مجید انصار کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:’’وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود محتاج ہوں۔‘‘ابتدائی دور میں رسول اللہؐ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ایسی اخوت قائم فرمائی کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے، بعد میں وراثت کا یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ تاریخ میں یہ بھی مذکور ہے کہ بعض انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں سے اپنی دولت بانٹنے اور حتیٰ کہ اپنی ایک بیوی کو طلاق دے کر عدت کے بعد اس سے نکاح کی پیشکش تک کی، تاکہ وہ تنہا نہ رہیں۔ یہ کسی دنیاوی مفاد کا نہیں بلکہ ایمان، اخوت اور ایثار کا رشتہ تھا۔یہ وہ اعتماد تھا جس نے اجنبیوں کو سگے بھائی بنا دیا۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’’سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ان میں دو ایسے آدمی بھی ہیں جو صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اسی محبت پر ملتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں۔‘‘یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے لیے قائم ہونے والا رشتہ دنیا کی ہر غرض سے بلند اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
رشتہ صرف نام کا تعلق نہیں بلکہ دلوں کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد اعتماد ہے۔اعتماد کا مطلب ہے کہ آپ کسی کے سامنے اپنے دل کی بات بے خوف بیان کر سکیں، یقین رکھیں کہ وہ آپ کی عزت، راز اور احساسات کی حفاظت کرے گا۔جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو الفاظ زندہ رہتے ہیں مگر تعلق مر جاتا ہے۔بھروسہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی رشتوں کا راستہ دکھاتی ہے۔آج کے دور میں رشتے کیوں کمزور ہو رہے ہیں؟آج کی مصروف زندگی میں کئی عوامل رشتوں کو متاثر کر رہے ہیں:خود غرضی اور اَنا،سوشل میڈیا پر غیر ضروری موازنہ،ایک دوسرے کو وقت نہ دینا،بدگمانی اور جلد فیصلے کرنا،غیبت، چغلی اور افواہوں پر یقین کرنا،معاف نہ کرنا اور چھوٹی باتوں کو دل میں رکھنا،یہ تمام چیزیں اعتماد کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہیں۔ہمیشہ سچ بولیں، چاہے سچ وقتی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو۔وعدہ کریں تو ضرور پورا کریں۔دوسروں کے راز امانت سمجھ کر محفوظ رکھیں۔ایک دوسرے کو وقت دیں۔غلطیوں پر معاف کرنا سیکھیں۔بدگمانی سے بچیں اور تحقیق کے بغیر کسی بات پر یقین نہ کریں۔ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوں۔دعا میں اپنے عزیزوں کو یاد رکھیں۔اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں بلکہ گفتگو سے حل کریں۔والدین، بزرگوں اور بچوں کے جذبات کا احترام کریں۔
اسلام نے صلہ رحمی کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’’رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ایک اور حدیث میں فرمایا:’’رحم (رشتہ داری) عرش سے لپٹی ہوئی کہتی ہے: جو مجھے جوڑے گا اللہ اسے جوڑے گا، اور جو مجھے توڑے گا اللہ اسے توڑ دے گا۔‘‘صلہ رحمی کے عظیم انعامات یہ ہیں:رزق میں برکت،عمر میں خیر و برکت،گھروں میں سکون،دلوں میں محبت،دعاؤں کی قبولیت کے اسباب،اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی بشارت۔
اختتامیہ:رشتے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی حفاظت دولت سے نہیں بلکہ اعتماد، وفاداری، اخلاص، حسنِ اخلاق اور ایثار سے ہوتی ہے۔ خون کے رشتے اللہ کی نعمت ہیں، جبکہ احساس، ایمان اور محبت سے بننے والے رشتے اللہ کی خصوصی رحمت ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون، معاشرے میں محبت اور دلوں میں اطمینان پیدا ہو تو ہمیں اعتماد کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہوگا، کیونکہ اعتماد وہ خاموش زبان ہے جو بغیر الفاظ کے دلوں کو ہمیشہ کے لیے جوڑ دیتی ہے۔آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم کسی کا اعتماد نہیں توڑیں گے، کسی رشتے کو انا کی نذر نہیں کریں گے، صلہ رحمی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور ہر تعلق کو اللہ کی رضا کے لیے نبھائیں گے۔ یہی دنیا کی حقیقی کامیابی اور آخرت کی دائمی نجات کا راستہ ہے۔