عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//راجوری ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً تین کلو میٹر کی دوری پر جموں راجوری۔پونچھ قومی شاہراہ پر واقع ٹنڈوال چوک تیزی سے حادثات کے خطرناک مقام (بلیک اسپاٹ) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آئے روز پیش آنے والے سڑک حادثات کے باعث مقامی باشندوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور انہوں نے ضلع انتظامیہ و متعلقہ محکموں سے فوری حفاظتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹنڈوال چوک ایک انتہائی اہم جنکشن ہے جہاں اردگرد کے کم از کم نو دیہات کو ملانے والی رابطہ سڑکیں قومی شاہراہ سے آ کر ملتی ہیں۔ اس مقام پر دن بھر مسافر گاڑیوں، نجی کاروں، موٹر سائیکلوں، ٹرکوں اور دیگر تجارتی گاڑیوں کی بھاری آمدورفت رہتی ہے، جس کے باعث معمولی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق رابطہ سڑک کے دونوں جانب بے ہنگم تعمیرات ہونے سے قومی شاہراہ پر آنے والی گاڑیوں کی واضح منظر کشی متاثر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موڑ پر گاڑی چلاتے وقت سامنے سے آنے والی ٹریفک دکھائی نہیں دیتی، جس کی وجہ سے یہ چوک ایک “بلائنڈ جنکشن” بن چکا ہے اور ہر وقت حادثات کا خدشہ رہتا ہے۔
مکینوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس مقام پر درجنوں سڑک حادثات پیش آ چکے ہیں، جن میں زیادہ تر متاثرین موٹر سائیکل سوار تھے۔ ان کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ تقریباً پندرہ دیگر زخمی ہوئے، جن میں بعض کو شدید چوٹیں آئیں۔جمعرات کو بھی اسی مقام پر دو موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم کا ایک اور واقعہ پیش آیا، جس میں مقامی دکاندار محمد رئیس شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق انہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی زندگی بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔مسلسل پیش آنے والے حادثات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مقامی باشندوں نے ضلع انتظامیہ راجوری، قومی شاہراہ سے متعلق حکام اور ٹریفک پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹنڈوال چوک کو فوری طور پر حادثات کے خطرناک مقام کے طور پر نشان زد کیا جائے۔ انہوں نے اس مقام پر انتباہی سائن بورڈ نصب کرنے، اسپیڈ بریکر بنانے، کنویکس مرر (خم دار آئینے) لگانے، سڑک پر واضح مارکنگ کرنے، مناسب روشنی کا انتظام کرنے اور دیگر حفاظتی ڈھانچہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید المناک حادثات رونما ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔