سمت بھارگو
راجوری //جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے جمعرات کو راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع کی سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیر پنجال خطے میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی کارروائیوں، سیکورٹی انتظامات اور ملی ٹینسی کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔ڈی جی پی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب راجوری اور پونچھ اضلاع میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور مختلف مقامات پر انسدادِ ملی ٹینسی کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ منجاکوٹ کے دھوری مہل علاقے میں جاری سرچ آپریشن 55ویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ تین روز قبل تھنہ منڈی علاقے میں سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایک نیا آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔ مذکورہ فوٹیج میں دو مشتبہ افراد سڑک عبور کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملی ٹینٹ ہو سکتے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق ڈی جی پی نلین پربھات، انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون بھیم سین ٹوٹی اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف جموں تھنہ منڈی پہنچے، جہاں فوج اور پولیس کے متعدد اعلیٰ افسران پہلے سے موجود تھے۔ اجلاس میں جی او سی ایس آف اسپیڈس ڈویژن، جی او سی کاؤنٹر انسرجنسی فورس رومیو، ڈی آئی جی راجوری-پونچھ رینج، ایس ایس پی راجوری، ایس ایس پی پونچھ، فوج کے سیکٹر کمانڈرز اور کاؤنٹر انسرجنسی فورس کے کمانڈنگ افسران نے شرکت کی۔
تھنہ منڈی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ڈی جی پی نے موجودہ سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور جاری انسدادِ ملی ٹینسی آپریشنز کی پیش رفت،ملی ٹینٹوںکی نقل و حرکت، ان کے معاون نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے جاری اقدامات اور سیکورٹی فورسز کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں موجود افسران نے ڈی جی پی کو راجوری اور پونچھ میں فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل، مشترکہ آپریشنز اور سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ایجنسیاں باہمی اشتراک سے ملی ٹینسی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ڈی جی پی نے اجلاس کے دوران جاری آپریشنز کی مؤثر نگرانی، مختلف ایجنسیوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے اور انٹیلی جنس معلومات کے مؤثر تبادلے پر زور دیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ملی ٹینسی کے خاتمے اور سرحدی اضلاع میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔حکام کے مطابق پیر پنجال خطے میں سیکورٹی فورسز پوری طرح مستعد ہیں اور ملی ٹینسی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سرچ آپریشنز، نگرانی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں مسلسل جاری رکھی جا رہی ہیں تاکہ خطے میں امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔