ماجد مجید
قرآن حکیم کی پہلی تدوین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہوگئی تھی،جس میں سورتیں اور سورتوں کی ترتیب معین ہوگئی،کیونکہ حضوراکرم ؐ کی حیات مبارکہ میں قرآن مجید کتابی شکل میں موجود نہیں تھا۔بلکہ لوگوں کے پاس مختلف حصوں میں لکھا ہوا تھا جیسے اونٹ کے شانے کی ہڑی پر ،کولہے کی ہڈی پر، کیونکہ کاغذ اُس زمانے میں دستیاب نہیں تھا ،البتہ کپڑا زیادہ دستیاب تھا،اس لئے کپڑے پر بھی لکھا جاتا تھا ۔قرآن مجید کی اصل حیثیت ’’قول‘‘ کی ہے نہ تو یہ آنحضورؐ کو لکھی ہوئی شکل میں دیا گیا اور نہ ہی آپؐ نے اُمت کو لکھی ہوئی شکل میں دیا۔جیسے جیسے قرآن نازل ہوتا ،رسول اللہ ؐ اسے لکھوا بھی لیتے، اس کے لئے بعض صحابہ کرامؓ کتابت وحی کی ذمہ داری پر مامور تھے۔آپؐ کی زندگی کے آخری رمضان میں آپؐ نے حضرت جبریلؑ سے قرآن مجید کا دو مرتبہ مکمل دور کیا اور جہاں تک حافظے میں اور سینے میں قرآن کا مدون ہوجانا ہے ،وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دوران مکمل ہوگیا تھا۔
تدوین قرآن کا دوسرا مرحلہ ۔ قرآن حکیم کی تدوین کا دوسرا مرحلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں آیا، جب جنگ یمامہ میں حفاظ قرآن صحابہ کرام ؓ کی کثیر تعداد شہید ہوئے تو تشویش پیدا ہوئی اور خیال آیا کہ اس قرآن کو اب کتابی شکل میں جمع کر لینا چاہئے۔جس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ بڑے متردد ہوئے کہ جو کام رسول اللہ ؐ نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں پھر رفتہ رفتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بار بار اصرار پر اللہ نے ابوبکرؓ کے سینے کو کشادہ کردیا، اس کے بعد حضرت زید بن ثابتؓ پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ۔پھر جن صحابہ کرام ؓ کے پاس قرآن مجید کا جو بھی حصہ لکھی ہوئی شکل میں تھا، اُن سے لیا گیا اور مختلف شہادتوں اور حفاظ کی مدد سے ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں قرآن مجید کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کرلیا گیا۔قرآن مجید کی تدوین کا یہ دوسرا مرحلہ حضوراکرم ؐ کے انتقال کے دو سال کے اندر اندر مکمل ہوگیا ۔حضرت ابوبکر ؓ کا عہدِ خلافت کُل سوا دو برس ہے اور عبداللہ بن مسعودؓ کی تجویز پر اس کا نام مصحف رکھا گیا اور یہی تدوین قرآن کا دوسرا مرحلہ ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ قرآن مجید ساتھ حروف پر نازل ہوا تھا ،عربوں کی زبان اگر چہ ایک تھی، لیکن بولیاں مختلف تھیں، لہجے بھی مختلف تھے، اس لئے سب کو اجازت تھی کہ اپنے اپنے لہجے کے اندر قرآن پڑھ لیا کریں۔ لیکن مختلف لہجوں میں پڑھنے کے ساتھ کچھ لفظی فرق بھی آنے لگے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے تک نوبت یہ آگئی کہ مختلف لہجوں میں لفظی فرق کے ساتھ بھی قرآن پڑھا جانے لگا ،جس پر قوم جذباتی ہوگئی اور تلواریں نکل آئیں، اندیشہ یہ ہوا کہ اگر اس طرح یہ بات پھیل گئی تو قرآن کا کوئی ایک ٹیکسٹ بھی متفق علیہ نہیں رہے گا ۔چنانچہ حضرت عثمانؓ کے مشورے پر قرآن کا ایک ٹیکسٹ تیار کیا گیا اور تمام لہجوں کو رَد کرکے قریش کے لہجے پر قرآن کا ٹیکسٹ تیار کیا گیا ،اس طرح قرآن کا رسم الخط معین ہوگیا اور ایک متفق علیہ ٹیکسٹ وجود میں آگیا ۔الغرض یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جو حضرت عثمانؓ نے صحابہ کرام ؓ کے مشورے سے سر انجام دیا۔مختلف روایات کے مطابق اس کی چار نقول ،پانچ نقول اور بعض میں سات نقول کا عدد بھی ملتا ہے۔ان میں سے ایک مصحف official version کے طور پر مدینے میں رکھا گیا، جبکہ باقی نقلیں مکہ مکرمہ ،دمشق،کوفہ،یمن،بحرین اور بصرہ کو بھیج دی گئیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ سورتوں کی تدوین بھی بلکہ ترتیب بھی حضور اکرمؐ کے زمانے میں عمل میں آچکی تھیں جبکہ کتابی شکل میں قرآن ابوبکرؓ کے زمانے میں جمع ہوا۔ اور حضرت عثمانؓ اُمت کو قرآن کے ایک ٹیکسٹ اور رسم الخط پر جمع کرنے والے ہیں۔ آج دنیا میں جو مصحف موجود ہیں ’’مصحف عثمان ‘‘کہلاتا ہے ۔ قرآن مجید کی حفاظت کے حوالے سے ایک نیکی مصر نے کمائی تھی، جب اسرائیل نے قرأت قرآن مجید کے اندر تحریف کرکے اس کو عام کرنے کی کوشش کی تو حکومت مصر نے اپنے چوٹی کے قراء قاری محمود حصری اور عبد الباسط عبد الصمد سے پورا قرآن مجید مختلف قراءتوں میں تلاوت کرایا اور ان کے کیسٹس تیار کرکے دنیا میں پھیلا دئے کہ اب گویا وہ ریفرنس کا کام دیں گے، اب کسی کے لئے ممکن نہیں کہ اس طرح قرأت کے حوالے سے قرآن میں کوئی تحریف کرسکے ۔قرآن حکیم کے تیسرے مرحلے کی یہ تدوین بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے 24 برس کے اندر اندر مکمل ہوگئی،اور یہ بات پوری دنیا میں مسلم ہے کہ قرآن حکیم کا ٹیکسٹ محفوظ ہے اور جتنا محفوظ ٹیکسٹ قرآن کا ہے ،اتنا کسی اور کتاب کا نہیں ہے۔ جہاں تک رسم الخط کا تعلق ہے، اس کا ٹیکسٹ حضرت عثمانؓ نے معین کردیا اور یہ اُمت ِ مسلمہ پر ان کا بڑا احسان ہے۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی)
[email protected]>
������������������������