آصف حسین الکشمیری
کشمیر کی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے صرف حسنِ فطرت سے ہی نہیں نوازا بلکہ روحانی عظمت اور اخلاقی رفعت کی ایسی دولت بھی عطا کی ہے جو صدیوں سے اس وادی کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ یہاں کی ندیاں ذکر بن کر بہتی ہیں، پہاڑ خاموشی میں حکمت سناتے ہیں اور ہوائیں دعا کا پیغام لے کر چلتی ہیں۔ اسی مبارک سرزمین نے ایک ایسی روحانی شخصیت کو جنم دیا، جس نے کشمیر کی فکری، اخلاقی اور روحانی تاریخ کو نئی سمت عطا کی۔ وہ عظیم ہستی شیخ نورالدین نورانیؒ ہیں، جنہیں اہلِ کشمیر محبت اور عقیدت سے شیخُ العالمؒ کہتے ہیں۔شیخُ العالمؒ محض ایک صوفی یا خانقاہی بزرگ نہیں تھے بلکہ ایک مکمل فکری و سماجی انقلاب تھے۔ وہ اس دور میں جلوہ گر ہوئے جب معاشرہ تعصبات، فرقہ واریت اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھا، ایسے ماحول میں شیخُ العالمؒ نے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا پیغام دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان کی اصل پہچان اس کا کردار ہے اور اس کا تعلق اپنے ربّ سے ہے۔اُن کی زندگی کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ دین کو زندگی سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک غریبوں کی خبرگیری، یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھنا، مظلوم کی حمایت کرنا اور معاشرے کی اصلاح کے لیے کھڑا ہونا عبادت کا حصہ تھا۔ ان کی خانقاہ صرف ذکر و فکر کا مرکز نہیں تھی بلکہ ایک ایسا مدرسہ تھی جہاں اخلاق، خدمت اور انسان دوستی کی تعلیم دی جاتی تھی۔
حضرت شیخُ العالمؒ زہد، تقویٰ اور معرفتِ الٰہی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ دنیا کی رنگینیوں سے بے نیاز ہو کر وہ اللہ کی رضا میں زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا لباس سادہ، خوراک سادہ اور طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا، مگر ان کے دل میں معرفتِ الٰہی کی دولت تھی۔ وہ اپنے عمل سے یہ پیغام دیتے تھے کہ اصل دولت مال و زر نہیں بلکہ دل کا سکون اور اللہ کا قرب ہے۔شیخُ العالمؒ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو سنتِ نبویؐ کا عکس تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ رسولِ اکرم ؐ کی محبت کے بغیر ایمان کی روح مکمل نہیں ہوتی۔اسی عشقِ رسولؐ نے ان کے کردار کو نکھارا، ان کے کلام کو تاثیر دی اور ان کی دعوت کو دلوں تک پہنچایا۔انہوں نے کشمیری زبان میں اپنا پیغام عام کیا تاکہ عام انسان بھی دین کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکے۔ ان کا کلام آج بھی دلوں کو چھو لیتا ہے کیونکہ اس میں تصنع نہیں بلکہ خلوص ہے، فلسفہ نہیں بلکہ زندگی ہے اور مشکل الفاظ نہیں بلکہ سیدھی اور سچی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی منبر و محراب سے علما اور واعظین شیخُ العالمؒ کا کلام پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔ مساجد، مدارس اور خانقاہوں میں ان کے اشعار لوگوں کو صبر، شکر، توکل اور محبت کا سبق دیتے ہیں۔
شیخُ العالمؒ نے دین کو نفرت کا نہیں بلکہ محبت کا پیغام بنایا۔ انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ انسانوں کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو دل توڑتا ہے وہ روحانیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور جو دل جوڑتا ہے وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کی تعلیمات آج بھی فرقہ واریت اور تعصب کے اندھیروں میں روشنی کا چراغ ہیں۔
انہوں نے دین اسلام کو خالص توحید، سنت اور اخلاق کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا پیغام صاف اور واضح تھا کہ دین رسموں کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کا نظام ہے اور عبادت دکھاوے کا نہیں بلکہ اخلاص کا نام ہے۔ شیخُ العالمؒ صرف خانقاہ تک محدود نہ تھے بلکہ پورے سماج کے مصلح تھے۔ وہ اپنے وقت کے حکمرانوں کو عدل و انصاف کی تلقین کرتے تھے اور ظلم کے خلاف بے خوف آواز بلند کرتے تھے۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ اقتدار کا مقصد خدمت ہے اور حکومت کی اصل ذمہ داری عوام کی فلاح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں زندہ رہے اور آج بھی زندہ ہیں۔آج جب ہمارا معاشرہ تقسیم، بے چینی اور اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہے، شیخُ العالمؒ کی تعلیمات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔ انہوں نے دلوں اور روحوں پر محنت کی، اسی لیے ان کے مشن کے ساتھ لوگ جڑتے گئے اور معاشرہ امن و سکون کی طرف بڑھتا رہا۔ نوجوان نسل کے لیے شیخُ العالمؒ ایک زندہ مثال ہیں، وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ علم اگر کردار کے بغیر ہو تو ادھورا ہے اور عبادت اگر انسان دوستی سے خالی ہو تو بے روح ہے۔ اصل کامیابی دنیا کی تعریف میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔آج بھی جب کسی مسجد میں ان کا کلام پڑھا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں کا فاصلہ مٹ گیا ہے۔ ان کے اشعار انسان کو اپنے رب سے جوڑتے ہیں، اپنے دل سے جوڑتے ہیں اور اپنے معاشرے سے بھی۔ یہی ان کی اصل کامیابی ہے کہ وہ تاریخ کا حصہ نہیں بنے بلکہ حال کا چراغ بن گئے۔اگر ہم واقعی حضرت شیخُ العالمؒ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے پیغام کو صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔ ہمیں تعصب کے بت توڑنے ہوں گے، نفرت کی دیواریں گرانا ہوں گی اور محبت کے چراغ جلانے ہوں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، محلوں اور معاشرے میں انسان دوستی کو عام کرنا ہوگا۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ کشمیر کی روحانی تاریخ کا صرف ایک باب نہیں بلکہ اس کی روح ہیں۔ وہ ایک ایسا روشن مینار ہیں جس کی روشنی آج بھی ہمیں راستہ دکھا رہی ہے۔شیخُ العالمؒ کا پیغام آج بھی زندہ ہے:انسان کو انسان سے جوڑو،دل کو اللہ سے وابستہ کرو،کفر، شرک اور بدعات سے بچواور زندگی کو خدمت کا ذریعہ بنا دو۔یہی ان کا انقلاب تھااور یہی آج کے کشمیر کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اولیا کرام کے مشن پر چلنے، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے اور محبت، اخلاص و خدمتِ خلق کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رابطہ۔ 9797888975)
[email protected]