حفیظ الدین
عصر ِ حاضر میں نوجوان نسل جن مسائل کا سامنا کر رہی ہے، اُن میں مہلک اور تباہ کن مسئلہ نشے کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ خاص طور پر کم عمر نوجوان، جو ابھی اپنی زندگی کی ابتدائی منزلوں میں ہوتے ہیں، اس لعنت کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں۔ سگریٹ، شراب اور دیگر منشیات اُنہیں نہ صرف آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ بعض حلقوں میں انہیں ایک عام یا’’فیشن‘‘ کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔نشہ ایک ایسی عادت ہے جو وقتی سکون یا خوشی کا احساس تو دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ ابتداء اکثر سگریٹ سے ہوتی ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ شراب اور دیگر خطرناک منشیات تک پہنچا دیتا ہے۔ ابتدا میں کم عمر نوجوان محض دوستوں کے کہنے پر یا تجسس میں یہ قدم اُٹھاتے ہیں، مگر بعد میں یہی عادت اُن کی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ نشے کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ہیں، غلط صحبت اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب ایک نوجوان ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے جو پہلے ہی نشے کے عادی ہوں، تو وہ بھی اس راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو مسائل، والدین کی عدم توجہ، تعلیمی دباؤ، بے روزگاری اور ذہنی تناؤ بھی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر نشے کو ایک اسٹائل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جو کم عمر ذہنوں کو متاثر کرتا ہے۔ منشیات نہ صرف انسانی جسم کو کھوکھلا کر دیتا ہے بلکہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نشے کے عادی نوجوان تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں، ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ اپنے مستقبل کو خود برباد کر لیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں وہ جرائم کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں تاکہ اپنی نشے کی ضرورت کو پورا کر سکیں۔ نشے کے عادی افراد اپنی لت پوری کرنے کے لیے غیر قانونی راستے بھی اختیار کرنے لگتے ہیں۔ بے روزگاری جیسے عوامل نے نوجوانوں کو نشے کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر کم عمر لڑکے سگریٹ، شراب اور دیگر مضر اشیاء کی طرف راغب ہو رہے ہیں جو نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔ دیہات میں آگاہی کی کمی اور مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے، جس پر فوری توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔یہ مسئلہ صرف فرد یا خاندان تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں صحیح راستے کی رہنمائی فراہم کریں۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ میں شعور بیدار کریں اور انہیں نشے کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ پولیس کی بھی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ منشیات کی فروخت پر سختی سے قابو پائیں اور ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو نوجوان نسل کو اس تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سنجیدگی سے اس مسئلے کو لیں، تو اس لعنت پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
(رابطہ۔7866912957)
������