عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے کل ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں یوٹی جموںوکشمیر میں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے پی ایم جی ایس وائی کے مرحلہ اوّل، دوم اور سوم کے تحت حاصل کردہ مالی و طبعی پیش رفت کا مفصل جائزہ لیا۔ اِس کے علاوہ پی ایم جی ایس وائی۔IV کی عمل آوری کی حکمت عملی اور مستقبل روڈ میپ پر بھی تفصیلی غور و خوض ہواجو اَب تک جموں و کشمیر میں شروع کیا گیا سب سے بڑا دیہی سڑک رابطہ پروگرام ہے۔اْنہوں نے پی ایم جی ایس وائی کے تحت حاصل کی گئی خاطر خواہ پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ ابتدائی مراحل کے تحت باقی ماندہ چند منصوبوں کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کیا جائے۔ اْنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ جہاں غیر ضروری تاخیر ہوئی ہو وہاں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور منصوبوں پر عمل درآمد میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
اَتل ڈولو نے مزید ہدایت دی کہ صوبائی کمشنروں، ضلع ترقیاتی کمشنروں اور محکمہ جنگلات کے ساتھ تمام زیر اِلتوا ?رْکاوٹوں کو جلد از جلد حل کرنے کے لئے ایک مربوط نقطہ نظر اَپنائے بالخصوص جنگلات کی منظوری، زمین سے متعلق مسائل، یوٹیلیٹی شفٹنگ اور دیگر قانونی منظوریوں سے جو بعض منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رْکاوٹ ہیں۔اْنہوں نے قریبی فیلڈ لیول مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے اَپنے اضلاع میں پی ایم جی ایس وائی منصوبوں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے ذاتی طور پر جائزہ لیں اور مختلف محکموں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرکے عمل درآمد میں حائل رْکاوٹوں کو دور کریں۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ پی ایم جی ایس وائی۔اوّل، دوم اور سوم کے تحت منظور شدہ 3,437 سڑکوں میں سے 3,332 سڑکیں مکمل کی جا چکی ہیں جوکہ 96.9 فیصد کی مجموعی کامیابی کو ظاہر کرتی ہیں۔ منظور شدہ 20,801.43 کلومیٹر سڑکوں کے مقابلے میں 19,865.36 کلومیٹر سڑکیں مکمل کی جا چکی ہیں جس سے یونین ٹیریٹری کے دْور افتادہ اور پسماندہ دیہی علاقوں کوہمہ موسمی سڑک رابطہ فراہم کیا جارہا ہے۔ اِسی طرح ان مراحل کے تحت منظور شدہ 305 طویل پلوں میں سے 260 پْل مکمل کئے جا چکے ہیں۔ پی ایم جی ایس وائی۔اوّل ، دوم اور سوم کے تحت مجموعی طور پر 13,526 کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جا چکی ہے جو جموں و کشمیر میں دیہی رابطہ نظام کی بہتری کے لئے کی گئی وسیع سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے۔ پروگرام کے پہلے دو بیچوں کے تحت مجموعی طور پر 3,381 کلومیٹر طویل 646 سڑکوں کی منظوری دی گئی ہے جن پر 7,790 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور ان کے ذریعے 792 بستیوں کو سڑک رابطہ فراہم کیا جائے گا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ بیچ?اوّل (2025-26) میں 316 سڑکیں شامل ہیںجن کی مجموعی لمبائی 1,781 کلومیٹر اور منظور شدہ لاگت 4,224 کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے 235 منصوبوں پر زمینی سطح پر کام شروع ہو چکا ہے جبکہ اس بیچ کے تحت اَب تک تقریباً 270 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اِسی طرح بیچ۔دوم (2026-27) کے تحت منظور شدہ تمام 330 سڑکوں کو تکنیکی منظوری دی جا چکی ہے اور ان کے ٹینڈرز جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ ٹینڈرنگ کا عمل آخری مراحل میں ہے۔