عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ہندستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی امیدواری پیش کرتے ہوئے محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان ملکوں کے خدشات کو مناسب جگہ دینا اس کی ترجیح ہوگی۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی صبح نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کونسل میں سال 29-2028 کی مدت کے لیے ہندستان کی انتخابی مہم کا باضابطہ طور پر آغاز کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے ہندستان کے ‘شانتی’ نقطہ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اصولوں، اعتماد اور دیانت داری کے ذریعے دنیا میں ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
مسٹر جے شنکر نے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ انہوں نے ہندستان کی دعویداری کو مضبوط طریقے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کی آواز کو بااختیار بنانا اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان کے خدشات کو مناسب جگہ دینا بھارت کی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کو ہمارے مشترکہ مستقبل کے تعین میں زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہندستان کی ترجیحات میں اصلاحات پر مبنی کثیر فریقی نظام کو آگے بڑھانا بھی شامل رہے گا تاکہ وہ زیادہ جمہوری، نمائندہ اور مؤثر بن سکے۔ ہندستان کا نقطہ نظر بات چیت، تعاون اور اختلافات کو دور کرنے پر مبنی رہے گا۔ ہندستان مستقبل کے مطابق امن کے قیام کے نظام کو زیادہ قابل، ٹیکنالوجی سے لیس، حقیقت پسندانہ ذمہ داریوں والا اور اپنے بنیادی مقاصد پر مرکوز بنانے کی سمت میں کام کرے گا۔ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کی رہنمائی میں ہم ہمیشہ خواتین امن فوجیوں کے کردار کی حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے شمولیت، سلامتی اور عوامی مفاد پر مبنی انسان دوست نقطہ نظر کو فروغ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی، اس کے غلط استعمال اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہم یکساں طور پر پرعزم ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق آزاد، کھلے اور ضابطہ پر مبنی سمندری نظام کو فروغ دینا ہندستان کا مقصد ہے۔ سمندری تجارت کے محفوظ اور بلا رکاوٹ تسلسل کو برقرار رکھنا، بحری قزاقی کا مقابلہ کرنا، جہاز رانوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری ترجیح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کا مؤثر اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے پر زور رہے گا۔ دہشت گرد تنظیموں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے ٹھوس اور شواہد پر مبنی تجاویز پر مشتمل شفاف پابندیوں کا نظام وقت کی ضرورت ہے۔ مسٹر جے شنکر نے زور دے کر کہا کہ اصلاحات پر مبنی، مناسب نمائندگی والی اور نتائج پر مبنی سلامتی کونسل میں ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز کا ہونا لازمی ہے۔
مسٹر جے شنکر نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ ہندستان کی ترجیحات کی بنیاد پر خود اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں ہندستان کے عزم کا معیار کتنا بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کو وسیع مشاورت اور مختلف مفادات کے تال میل کے ذریعے بہترین طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ” ہمارا یقین ہے کہ سلامتی کونسل میں ہندستان کی موجودگی اس اہم ادارے میں فیصلہ سازی کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گی۔ اس لیے ہم اپنی امیدواری کے لیے آپ کے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔”
ہندوستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم