محمد تسکین
بانہال// ضلع کشتواڑ کی تحصیل واڑون کی بالائی وادی کے پانچ دیہات پر مشتمل آبادی موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی معیاری موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات سے محروم ہیں اور سال 2025میں پنچایت مرگی واڑون میں ایئرٹیل کا ایک موبائل ٹاور تعمیر کیا گیا تھا جو تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود اب تک فعال نہیں کیا گیا، جس کے باعث پورا علاقہ ڈیجیٹل رابطے سے محروم ہے۔مرگی اور گمری کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ائیر ٹیل ٹاور کی عدم فعالیت کے باعث مرگی، گمری اور دیگر ملحقہ دیہات کے طلبہ، سرکاری ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آن لائن تعلیم، سرکاری خدمات، ایمرجنسی رابطے اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات سے استفادہ کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ڈیجیٹل انڈیا مہم اور انٹرنیٹ پر مبنی سرکاری خدمات کو فروغ دیا جا رہا ہے، لیکن دور افتادہ مگر خوبصورت واڑون کی بالائی وادی کے ہزاروں باشندے اب بھی بنیادی انٹرنیٹ سہولت سے محروم ہیں اور مرگی اور گمری کے رہائشی اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہر مہینے ائیر ٹیل کا ریچارج کرتے ہیں اور کم از کم پیک کی قیمت 349 روپئے ہے لیکن انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رقم مسلسل ضائع ہو رہی ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے متعلقہ حکام، محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن، ایئرٹیل انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کشتواڑ سے مطالبہ کیا ہے کہ مرگی میں تعمیر شدہ موبائل ٹاور کو بلا تاخیر فعال بنایا جائے تاکہ علاقے کے عوام کو موبائل نیٹ ورک اور تیز رفتار انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات میسر آ سکیں اور انہیں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے۔