محتشم احتشام
پونچھ// پونچھ شہر خاص میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے ایک سنگین عوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ پیر کے روز وارڈ نمبر 11 میں پیش آنے والے ایک تشویشناک واقعے نے شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی، جب ایک آوارہ کتا اچانک ایک رہائشی مکان میں داخل ہوگیا اور گھر کے مالک پر حملہ کرکے اسے زخمی کر دیا۔ زخمی شخص کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ واقعے کے بعد پورے علاقے میں تشویش کی فضا قائم ہے۔مقامی باشندوں نے اس واقعے کو انتظامی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے میونسپل کونسل پونچھ کی کارکردگی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے متعدد محلوں، گلی کوچوں اور بازاروں میں آوارہ کتوں کے غول دندناتے پھرتے ہیں، جس کے باعث بچوں، خواتین، بزرگوں اور عام راہگیروں کی نقل و حرکت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق شام کے اوقات میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے اور شہری خوف کے عالم میں گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔مکینوں کے مطابق جب بھی اس مسئلے کی جانب متعلقہ حکام کی توجہ دلائی جاتی ہے تو میونسپل کونسل کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ آوارہ کتوں کو پکڑنے کے لیے نہ تو مطلوبہ آلات دستیاب ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ موجود ہے۔شہریوں نے اس موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر محکمہ وائلڈ لائف جنگلات میں خطرناک جنگلی جانوروں کو محفوظ انداز میں قابو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو شہری علاقوں میں آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ ادارے مشترکہ حکمتِ عملی کیوں اختیار نہیں کرتے۔علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کو انسانی اور محفوظ طریقے سے قابو میں لانے کے لیے فوری مہم شروع کی جائے، انہیں مناسب شیلٹر یا محفوظ مراکز میں منتقل کیا جائے اور شہر بھر میں مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر اس سنگین عوامی مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس مسئلے کا پائیدار حل یقینی بنایا جائے۔