ٹی ای این
سرینگر//انکم ٹیکس قوانین کے تحت ریٹرن بروقت جمع نہ کرانے، آمدنی کم ظاہر کرنے، غلط معلومات فراہم کرنے یا دیگر قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس دہندگان کو مختلف دفعات کے تحت جرمانوں اور دیگر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرتے وقت درست معلومات فراہم کرنا اور مقررہ وقت کی پابندی کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ غیر ضروری جرمانوں سے بچا جا سکے۔انکم ٹیکس قانون کے مطابق اگر کوئی ٹیکس دہندہ اپنی قابل ٹیکس آمدنی اصل سے کم ظاہر کرتا ہے یا غلط دعوے کرتا ہے تو اسے “انڈر رپورٹنگ آف انکم” تصور کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عائد کیے جانے والے ٹیکس کے ایک بڑے حصے کے برابر جرمانہ وصول کیا جا سکتا ہے، جبکہ اگر جان بوجھ کر آمدنی چھپانے یا غلط معلومات فراہم کرنے کا معاملہ ثابت ہو جائے تو جرمانے کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح مقررہ تاریخ تک انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے پر بھی متعلقہ دفعات کے تحت جرمانہ اور دیگر مالی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تاخیر کی صورت میں واجب الادا ٹیکس پر سود بھی وصول کیا جا سکتا ہے، جس سے ٹیکس دہندہ پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے طلب کی گئی معلومات، دستاویزات یا نوٹس کا بروقت جواب نہیں دیتا یا مطلوبہ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بھی قانون کے تحت الگ الگ دفعات میں جرمانے کی گنجائش موجود ہے۔اس کے علاوہ مستقل اکاؤنٹ نمبر (PAN) یا دیگر لازمی معلومات غلط فراہم کرنا، مقررہ ریکارڈ محفوظ نہ رکھنا، آڈٹ رپورٹ بروقت جمع نہ کرانا، ٹیکس کٹوتی (TDS) یا ٹیکس وصولی (TCS) سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کرنا اور بعض دیگر قانونی تقاضے پورے نہ کرنا بھی جرمانوں کا سبب بن سکتا ہے۔ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی ڈیجیٹل نگرانی اور ڈیٹا تجزیے کے نظام میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، جس کے باعث بینک لین دین، سرمایہ کاری، جائیداد کی خرید و فروخت اور دیگر مالی معلومات کا موازنہ آسان ہو گیا ہے۔ اس لیے آمدنی یا مالی معاملات سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ٹیکس دہندگان اپنی تمام آمدنی، سرمایہ کاری، بینک لین دین اور دستیاب ٹیکس چھوٹ (Deductions) کی درست تفصیلات کے ساتھ وقت پر انکم ٹیکس ریٹرن داخل کریں، تمام ضروری دستاویزات محفوظ رکھیں اور اگر کسی نوٹس کی وصولی ہو تو مقررہ مدت کے اندر اس کا جواب دیں تاکہ جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔