ڈاکٹر زبیر سلیم
بدسلوکی کے بارے میں لکھنا ہمیشہ تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن جب بات اپنے بزرگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ہو تو یہ دکھ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت ہے، خصوصاً کشمیر جیسے معاشرے میں۔
سرکاری اور نجی شعبوں میں اب تک پینتیس ہزار سے زائد بزرگ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے مجھے ان کی طبی تاریخ اور ذاتی گفتگو سے ایک انتہائی دردناک حقیقت کا سامنا ہوا ہے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ گھریلو نگہداشت کا ہے۔ کشمیر میں عموماً بزرگوں کی دیکھ بھال ان کے بالغ بیٹے یا بیٹیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے بزرگ اپنے اہلِ خانہ کی توجہ اور خدمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، لیکن تقریباً پچاس فیصد بزرگوں نے اعتراف کیا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں بدسلوکی کا شکار ہیں۔
بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کیا ہے؟
بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی سے مراد والدین یا دیگر عمر رسیدہ افراد کے ساتھ ایسا ناروا سلوک یا غفلت ہے جس سے انہیں جسمانی، ذہنی یا جذباتی نقصان پہنچے۔ یہ مختلف شکلوں میں سامنے آتی ہے، جن میں جسمانی تشدد، جذباتی اذیت، مالی استحصال اور ضروری دیکھ بھال سے محرومی شامل ہیں۔یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے نتیجے میں بزرگوں کی صحت تیزی سے بگڑ سکتی ہے اور وہ طویل عرصے تک نفسیاتی مسائل کا شکار رہ سکتے ہیں۔ کشمیر میں معاشی مشکلات اور سماجی حالات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں کیونکہ زیادہ تر بزرگ اپنی دیکھ بھال کے لئے اپنے خاندانوں پر انحصار کرتے ہیں۔
کشمیر میں بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی صورتحال
اپنی طبی خدمات کے دوران میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں کس قدر عام ہو چکا ہے۔ اگرچہ ہماری ثقافت بزرگوں کے احترام پر زور دیتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بزرگ مختلف قسم کی زیادتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ زیادتیاں کبھی غفلت، کبھی مالی استحصال اور کبھی جسمانی یا ذہنی تشدد کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ ایسے رویوں کے باعث بزرگ شدید ذہنی دباؤ، افسردگی، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کشمیر میں بزرگوں کی نگہداشت
کشمیر میں زیادہ تر والدین کی دیکھ بھال ان کے بالغ بچوں کے ذمہ ہوتی ہے۔ اگرچہ بہت سے بچے اپنے والدین کی بہترین خدمت کرتے ہیں، لیکن جدید طرزِ زندگی کا دباؤ، معاشی مشکلات اور معاون نظام کی کمی بعض اوقات ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جن کے نتیجے میں بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی جنم لیتی ہے۔نگہداشت کا ذہنی دباؤ، محدود وسائل اور مناسب معاونت کی عدم دستیابی بعض اوقات غیر ارادی غفلت اور بعض صورتوں میں دانستہ بدسلوکی کا سبب بن جاتی ہے۔
کشمیر میں سب سے عام بدسلوکی
کشمیر میں بزرگوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی سب سے عام شکل نفسیاتی یا جذباتی بدسلوکی ہے۔یہ والدین کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے ان کی خود اعتمادی، عزتِ نفس اور ذہنی سکون بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔میرے تجربے کے مطابق، بہت سے بزرگ مریضوں نے بتایا کہ اس قسم کی بدسلوکی کے سب سے بڑے ذمہ دار ان کے شادی شدہ بیٹے ہوتے ہیں۔ جب اولاد ہی اپنے والدین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے تو اس سے بزرگوں کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں مزید شدت اختیار کر جاتی ہیں۔
نفسیاتی بدسلوکی کی چند مثالیں
1۔ زبانی بدسلوکی
والدین کو برا بھلا کہنا، توہین آمیز القاب سے پکارنا، ان کی صلاحیتوں کا مذاق اڑانا یا انہیں بے وقعت محسوس کرانا۔ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں انہیں نقصان پہنچانے یا تنہا چھوڑ دینے کی دھمکیاں دینا۔
2۔ خوف و ہراس پیدا کرنا
والدین پر چیخنا چلانا اور بلند آواز میں ڈانٹ ڈپٹ کرنا تاکہ وہ خوفزدہ رہیں۔ مکا لہرانا یا دیگر جارحانہ اشاروں کے ذریعے انہیں ڈرانا۔
3۔ سماجی تنہائی میں مبتلا کرنا
والدین کو رشتہ داروں، دوستوں یا سماجی تقریبات سے دور رکھنا۔ ان کی فون کالز، خطوط یا ملاقاتوں پر پابندی لگانا یا نگرانی کرنا۔
4۔ ذہنی استحصال
والدین کو اس حد تک الجھن میں مبتلا کرنا کہ وہ اپنی یادداشت، سوچ یا ذہنی صلاحیت پر ہی شک کرنے لگیں۔ اپنی تمام مشکلات کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرانا اور ان میں احساسِ جرم پیدا کرنا۔
5۔ تذلیل کرنا
لوگوں کے سامنے والدین کی عمر، شکل یا صلاحیتوں کا مذاق اڑانا۔ ان کے نظریات، عقائد یا طرزِ زندگی کو حقارت سے پیش کرنا۔
6۔ مکمل اختیار اپنے ہاتھ میں لینا
والدین کی مالی معاملات، علاج، روزمرہ زندگی اور دیگر اہم فیصلوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لینا، بغیر ان کی رائے یا خواہش کا احترام کیے۔والدین کو سزا دینے یا ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے محبت، شفقت اور تعاون سے محروم رکھنا۔
7۔ غفلت برتنا
والدین کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا اور انہیں دلاسہ یا سہارا نہ دینا۔ ضروری کاموں میں مدد سے انکار کرنا یا انہیں علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھنا۔
8۔ دھوکہ دہی
والدین سے اہم معاملات میں جھوٹ بولنا تاکہ وہ الجھن اور بے اعتمادی کا شکار ہو جائیں۔ خدمت یا سہولت فراہم کرنے کے وعدے کرنا لیکن جان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا، جس سے بزرگ مایوسی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی دیگر اقسام
جسمانی تشدد
جسمانی تشدد سے مراد ایسا ہر عمل ہے جس سے بزرگ کو جسمانی درد یا چوٹ پہنچے۔ اس میں تھپڑ مارنا، مکے مارنا، دھکا دینا، مار پیٹ کرنا، جلانا یا زبردستی باندھ کر رکھنا شامل ہے۔اس کی علامات میں جسم پر نیل پڑ جانا، ہڈیاں ٹوٹ جانا، زخم آنا اور رویے میں اچانک تبدیلی، جیسے ہر وقت خوفزدہ رہنا یا لوگوں سے کترانا، شامل ہیں۔
مالی یا مادی استحصال
یہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص بزرگ کے پیسے، جائیداد یا دیگر اثاثے ناجائز طور پر استعمال کرے۔اس میں رقم یا سامان چوری کرنا، جعلی دستخط کرنا، دباؤ ڈال کر کاغذات پر دستخط کروانا یا قانونی اختیارات کا ناجائز استعمال شامل ہے۔اس کی علامات میں بینک کھاتوں میں اچانک تبدیلی، غیر واضح رقوم کا نکل جانا اور قیمتی اشیاء کا غائب ہونا شامل ہیں۔
غفلت
غفلت سے مراد بزرگ کو ضروری دیکھ بھال، مدد یا توجہ فراہم نہ کرنا ہے، جس کے نتیجے میں اسے نقصان یا تکلیف پہنچے۔اس میں مناسب خوراک، پانی، لباس، رہائش، صفائی اور علاج معالجہ فراہم نہ کرنا شامل ہے۔اس کی علامات میں ذاتی صفائی کا فقدان، بیماریوں کا بروقت علاج نہ ہونا، غذائی قلت، جسم میں پانی کی کمی، غیر محفوظ رہائشی ماحول شامل ہیں۔
تنہا چھوڑ دینا
یہ اس وقت ہوتا ہے جب نگہداشت کرنے والا شخص بزرگ کو اس کے حال پر چھوڑ دے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ایسا گھر کے اندر بھی ہو سکتا ہے اور کسی عوامی مقام پر بھی۔اس کی علامات میں بزرگ کا غیر محفوظ حالات میں اکیلا رہ جانا، بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی، خود بزرگ کا یہ بیان دینا کہ اسے چھوڑ دیا گیا ہے،شامل ہیں۔
خود سے غفلت
اگرچہ اسے ہمیشہ دوسروں کی بدسلوکی میں شمار نہیں کیا جاتا، لیکن یہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔اس میں بزرگ اپنی ذاتی صفائی، صحت، علاج یا رہائش کی مناسب دیکھ بھال نہیں کر پاتا، جس سے اس کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔
جذباتی بدسلوکی کی علامات
1۔ رویے میں تبدیلی
سماجی میل جول سے گریز کرنا۔
خوف اور بے چینی کا شکار رہنا۔
مسلسل افسردگی، مایوسی اور زندگی سے دلچسپی ختم ہو جانا۔
اچانک غصہ، بے چینی یا بار بار رونا۔
2۔ گفتگو سے ظاہر ہونے والی علامات
ہر وقت خود کو قصوروار ٹھہرانا۔
خود کو کمتر سمجھنا۔
بدسلوکی کرنے والے کی موجودگی میں بولنے سے گھبرانا۔
3۔ جسمانی علامات
نیند کے معمولات میں خرابی، جیسے بے خوابی یا ضرورت سے زیادہ سونا۔
بھوک میں نمایاں کمی یا اضافہ، جس سے وزن متاثر ہو۔
4۔ ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والی جسمانی شکایات
جسم میں ایسے درد جن کی کوئی واضح طبی وجہ نہ ہو۔
مسلسل ذہنی دباؤ اور بے چینی کے باعث مختلف جسمانی تکالیف کا پیدا ہونا۔
غفلت کی علامات
جسمانی حالت
گندے کپڑے، جسم یا بالوں کی صفائی نہ ہونا۔
موسم کے مطابق مناسب لباس نہ پہنایا جانا۔
صحت کی علامات
بیماریوں کا علاج نہ ہونا۔
زخموں، انفیکشن یا دائمی بیماریوں کا بگڑ جانا۔
غذائی قلت، وزن میں کمی اور جسم میں پانی کی کمی۔
رہائشی حالات
غیر صحت بخش یا غیر محفوظ ماحول میں رہنا۔
گھر میں بزرگوں کی نقل و حرکت کے لئے ضروری سہولیات کا نہ ہونا۔
ذہنی کیفیت
اردگرد کے ماحول میں دلچسپی ختم ہو جانا۔
بے بسی، مایوسی اور تنہائی کا اظہار کرنا۔
بزرگوں کی درد بھری داستانیں
طبی معائنے اور مشاورت کے دوران متعدد بزرگوں نے اپنی زندگی کے ایسے تلخ تجربات بیان کیے جنہیں سن کر دل دہل جاتا ہے۔ایک بزرگ نے بتایا کہ ان کا بیٹا ان کی صحت کی ضروریات کو مسلسل نظر انداز کرتا ہے۔ گھر دراصل اسی بزرگ کی ملکیت ہے، لیکن شادی شدہ بیٹا اسی گھر میں رہتا ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر حقیقت میں کس کا انحصار کس پر ہے۔ایک اور بزرگ نے بتایا کہ ان کے اہلِ خانہ ان کی پنشن پر قبضہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی کچھ نہیں بچتا۔ایک معمر بیوہ خاتون اپنی بیٹی کے گھر رہنے پر مجبور تھیں اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے زکوٰۃ پر انحصار کرتی تھیں، حالانکہ ان کے دو بیٹے موجود تھے۔اسی طرح ایک بزرگ میاں بیوی نے بتایا کہ سن 2016میں ان کی اولاد انہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی، اور اس کے بعد سے آج تک ان کا اپنے بچوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔یہ واقعات انفرادی یا اتفاقی نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں، جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آگے کا راستہ
بزرگوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا خاتمہ کسی ایک فرد یا ادارے کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لئے معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر ذمہ داری نبھانا ہوگی۔سب سے پہلے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندانوں کو یہ آگاہ کیا جانا چاہیے کہ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی کی علامات کیا ہیں اور ان کے ساتھ عزت، محبت اور وقار کے ساتھ پیش آنا کیوں ضروری ہے۔اسی کے ساتھ ان افراد کی بھی معاونت ناگزیر ہے جو بزرگوں کی نگہداشت کرتے ہیں۔ انہیں جامع طبی سہولتیں، وقتی آرام (ریسپائٹ کیئر)، مالی تعاون اور نفسیاتی مشاورت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور بزرگوں کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔بزرگوں کی عزت و تکریم صرف اخلاقی فریضہ ہی نہیں بلکہ ہماری تہذیب، مذہبی تعلیمات اور انسانی اقدار کا بنیادی تقاضا بھی ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر بزرگ خود کو محفوظ، باوقار اور باعزت محسوس کرے، کیونکہ آج کے بزرگ کل ہماری اپنی منزل ہیں۔