اخلاقی،انسانی ،سیاسی و تہذیبی اقدار کا گھٹیا کھیل کھیلنے میں مشغول !
حال و احوال
رشید پروین
ایران ، امریکہ امن معاہدے کی سیاہی ابھی کاغذ پر سوکھی بھی نہ تھی کہ امریکہ نے ایران پر شدید حملے شروع کئے اور امریکہ کے مطابق ا یران کی 80تنصیبات پر سلسلہ وار حملے کئے، اس کے ساتھ ہی 17جون کو ہونے والے امن معاہدے کے تحت تیل کی فروخت پر جو چھوٹ دے رکھی تھی، اس سے بھی منسوخ کیا۔ امریکہ نے ان حملوں کی وجوہات یہ بتائی ہیں کہ ایران نے آبنائے ہر مز سے گذرنے والے تین بحری جہازوں پر حملے کئے ہیں ، یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات جاری تھیں اور جمعرات کے روز جسد خاکی کی تدفین ملک کے شمال مشرق میں واقع ایران کے مقدس ترین شہر مشہد میں پایہ تکمیل تک پہنچ چکی ہے ، تدفین کے شامل لاکھوں ایرانی افراد موجود تھے اور فضا ،یا حسین علیہ السلام کے نعروں سے گونج رہی تھی ، امریکہ ،اسرائیل نے مل کر ایران پر نئے حملے شروع کئے تھے لیکن ایرانی عوام نے کسی بھی خوف اور تردد کا اظہار نہیں کیا بلکہ صبر اور سوگوار فضا میں آخری رسومات انجام دیں ،جو زندہ اقوام کی علامت قرار دی جاسکتی ہے ۔ایرانی صدر مسعودپیز شکیاں حملے کی اطلاع ملتے ہی نجف سے واپس تہران لوٹے تھے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکی حملے غیر متوقع تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قطعی متوقع اور امریکی نقطہ نگاہ سے ناگزیر تھے کیونکہ 28فروری کو ٹرمپ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف محاظ جنگ آراستہ کیا تھا ، ان کے مطابق مکمل ، مستحکم اور پوری تیاری کے ساتھ جنگ کا یہ آغاز منصوبے کے مطابق تھا جس میں ٹرمپ نے ہفتوں میں نہیں بلکہ چند ایک دنوں میں اپنے اہداف پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم دہرایا تھا اور اپنی پُرہجوم پریس کانفرنس میں جھومتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کو دنوں میں گھٹنوں کے بل گرادیں گے ۔ اس جنگی مہم کو اسرائیل اور امریکی جنگی اہداف پر نظر ڈالے بغیر سمجھنا مشکل بھی ہے اور بہت ہی ضروری بھی ، تاکہ اوسط درجے کا فہم و فراست والا آدمی بھی ٹرمپ کے جنون اور نتن یا ہاہو کا خود ساختہ تعصب اور نفرت کی آگ میں جلنے کی وجوہات سے واقف ہو سکے۔ ٹرمپ نے28فروری اسرائیل کے ساتھ منصوبہ بند طریقے پر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اور حیرانگی کی بات یہ تھی کہ اس وقت بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں کسی بہتر نتیجے پر پہنچنے کے قریب ہیں ، لیکن اسرائیل ٹرمپ کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہوا تھا اور ٹرمپ کو یہ باور کرایا تھا کہ ایران محظ چند گھنٹوں میں ناک رگڑتا ہو ا ٹرمپ کے حضور حاضر خدمت ہوگا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہونا تھا ،کیونکہ ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ قوم دشمن کے خلاف متحد بھی ہے ، مظبوط بھی ہے اور بڑے بڑے رہنماوں کی قربانیوں اور شہادتوں سے پشت بہ دیوار ہونے والی نہیں بلکہ ایک متحیر کُن عزم ، استقلال اور ایمانی حرارت سے ثابت قدم رہنے والی وہ قوم ہے جو موت سے نہ تو ڈرتی ہے اور نہ شہادتوں سے گھبراتی ہے۔ اس کی بے مثال تاریخ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی اور اپنے پریوار کی شہادت سے پیش کی ہے جو اگلے سینکڑوں برس کے لئے اس قوم کے لئے مشعل راہ ہونگی۔ بہرحال امریکی اہداف یوں تھے ۔( ۱)ایرانی رجیم چینج، یعنی ایران کی حکومت کا خاتمہ تاکہ امریکہ اپنے کسی آلہ کار کو یہاں بھی شام و عراق اور دوسرے ممالک کی طرح اپنی کٹھ پتلیوں کو تخت پر بٹھا کر راج کر سکےبلکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق رضا شاہ کے جلاوطن بیٹے کے سر پر بادشاہت کا تاج بھی سجانے کی ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ (۲)جوہری پروگرام کا خاتمہ۔ اس کے باوجود کہ ایران نے اس بات کا عہد کیا ہے اور پہلے ہی اس بات پر راضی ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی راہ پر گامزن نہیں ہوگا بلکہ اسی حد تک جائے گا کہ اس سے بہتر اور طبی فائدہ اٹھا سکے۔ (۳) امریکہ اور اسرائیل دونوں چاہتے تھے کہ ایران کی میزائیل صنعت کو برباد کر دے، جس میں ایران نے اپنے بل بوتے پر کافی پیش رفت کی ہے اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ اگر اس کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہوتی تو وہ امریکہ اسرائیل کا تر نوالہ بن چکا ہوتا۔ (۴) یہ بڑا ہدف بھی تھا کہ ایران کو تباہ کرنے کے بعد یقینی طور پر خطے میں مسلح گروہوںکی حمایت بند ہوجاتی اور سب سے بڑی وجہ یہ کہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ گریٹر اسرائیل کے ہدف تک پہنچنے کے لئے صرف یہی ایک ملک اس کی راہ میں حائل ہے اور اس ملک کی تباہی اور بربادی سے ہی ان کے اس خواب کی تعبیر تک راستہ جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے اور روز روشن کی طرح عیاں ہے ان میں سے امریکہ اسرائیل کو کوئی ہدف حاصل نہیں ہوسکا بلکہ جنگ کے میدان میں وہ کسی بھی لمحے ان اہداف کے قریب بھی نہ ہوسکے ، ٹرمپ کے یہ سارے خواب نہ صرف چکنا چور ہوئے بلکہ ٹرمپ کی شخصیت ہی سر کس کا جوکر ہو کر رہ گئی کیونکہ جنگ کے دوران وہ ہردن چار چار پانچ پانچ بار اپنی قوم کو بریف کرتے رہے اور ہر بریفنگ کے دوران ہر دو گھنٹے کے بعد وہ ایک نئی کہانی لے کر اپنی قوم سے خطاب کرتے رہے ،جس کی بنا پر نہ صرف اس کی شخصیت ہی کسی سرکس کا جو کر ہوکر رہ گئی ، بلکہ وہ امریکہ میں بھی اتنے غیر مقبول ہوگئے کہ اپنی قوم نے بھی اس سے ذہنی مریض تسلیم کیا ، کبھی کبھی وہ اصل حالات پر نظر ڈالتے اور اس سے بالکل یہ صحیح اندازہ ہوتا کہ جنگ بند کرنا ہی اس کے مفادات میں ہے ، اس لئے پاکستان جیسے اپنے پٹھو سے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ لیکن امریکہ میں مظبوط اور مستحکم یہودی لابی اس سے ایسا کرنے سے نہ صرف روک رہی ہے بلکہ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ ایپسٹین فائلز کی وجہ سے ٹرمپ بھی ان کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے پیشتر مقامات راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل ہوئے ، سکولوں ، کالجوں اور شہروں پر مسلسل بمباری کی وجہ سے بڑی تعداد میں معصوم شہری اور چھوٹی چھوٹی بچیاں شہید ہوئیں ، لیکن یہ سب ایران کا حوصلہ نہیں توڑ سکے۔ ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک زندہ ضمیر والی زندہ قوم ہے، جس سے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کرنے کے باوجود جھکایا نہیں جاسکتا۔ اب آئیے ایک نظر امریکی تاریخ پر بھی ڈالیں کہ اس قوم کا طریق کار ماضی میں کیا رہا ہے اور کس طرح سے یہ دجال کی پرورش کرنے والی قوم کروڑوں بے گناہوں کا لہو چاٹ چکی ہے اور ا س میں کوئی دو رائیں نہیں کہ اس قوم کی رگِ جاںقوم ِ یہود میں ہے، جنہیں زندہ رکھنے کے لئے مسلم لہو کی ہر آن ضرورت پڑتی ہے ۔ انسان نے اگرچہ اس دور میں سائنسی لحاظ سے چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی شروعات کی ہے اور اس دوڑمیں سب سے آگے امریکہ ہے لیکن افسوس کہ یہ ملک اخلاقی ، انسانی اور بلند اقدار کے لحاظ سے دنیا کا پست ترین اور گھٹیا ملک ہے ، جس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک نے انسانی تباہی کے لئے بے شمار ایٹم بم ، نیپام بم ، کارپٹ بم اور بائیو کیمکل بم ضرور بنائے اور شہری آبادیوں پر ان کا بے دریغ استعمال بھی کیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ یہی ملک ہے جس نے اپنی انا اور گھمنڈ میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر دو اٹم بم گرا کرا کر انسانی تاریخ میں ایک انتہائی گھناونے باب کا نہ صرف ا ضافہ کیابلکہ اپنے لئے ہمیشگی کی رسوائی کا سامان بھی کیا جس کی وجہ سے ا مریکہ کو آج بھی انسانیت کے کٹہرے میں ایک بے رحم اور وحشی مجرم کی مانند کھڑا کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس کی معاشی ، سائنسی اور ملٹری پاور نے انصاف اور عدل کی میزان کو فی الحال اپنی طرف جھکا کے رکھا ہے۔ پانچ ہزار برس کی تاریخ میں ہمیں ایسے کتنے ہی فرعون اور کتنے ہی ایسے ممالک نظر آتے ہیں جنہیں وقت نے اپنے حساب سے محاسبہ کیا اور ان کی تہذیب و تمدن بلکہ نام و نشان کو بھی مٹادیا یا محظ عبرت کی خاطر ان کے نشانات زمین پر رہنے دئے ۔ امریکی کھاتے میں مسلسل بے وجہ اور لاحاصل جنگیں بھی شامل ہیں، جن میں اس بڑے دیش نے اب تک ایک اندازے کے مطابق کئی کروڈ بیگناہوں کا خون بہایا ہے ، کبھی ویتنام ، کبھی کمبوڈیا ،کبھی افغانستان ، عراق ، شام اور دوسرے ممالک ، یہ تو ان کے عیان اور واضح یکطرفہ میدان جنگ رہے اور ان ممالک کے علاوہ اپنی ایجنسیوں سے ہر اس ملک کا تختہ پلٹ کر رکھ دیا جو ان کے مفادات کی رکھوالی میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ امریکہ طاقت اور قوت کے نشے میں اپنے لئے خود اپنے قوانین ، اخلاق ، انسانی اقدار اور اصول ا پنی مرضی اور منشا پر ڈھال رہا ہے ۔
دیکھا جائے تو اپنے دور میں ٹرمپ نے اپنی بیمار ذہنیت سے ساری دنیا کے خرمن امن میں بار بار آگ لگادی ہے ، جس کی وجہ سے ساری دنیا میں اسوقت کہیں بھی امن و امان نہیں بلکہ ہر طرف ،ہر جانب بے گناہوں کا لہو سڑکوں پر بے دریغ بہہ رہا ہے۔ کبھی جزائر پسند کرکے دھمکیوں سے انہیں حاصل کرنے کی فکر کرتا ہے اور کبھی وینزویلا کے صدر نکولس سیدورا اور اس کی بیوی کو دن دھاڑے اغوا کرکے اپنی طاقت اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرتا ہے ، یہ اقدامات انتہائی گھناونے اور شرم ناک ہیں ، جنہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہونا چاہئے تھا ، لیکن ساری دنیا ابھی تک کھلے طور پر ان شرمناک اور اندوہناک سانحات اورعالم امن کو ایٹمی شعلوں کی نذر کرنے والے ملک کے خلاف صف آرا نہیں ہوتی ، کہیںمفادات کی بات ہے تو کہیں ڈر اور خوف کا عالم طاری ہے ، اب تک یہی حالات بنے ہوئے ہیں ۔لیکن اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ ایران نے جابر ، ظالم اور انسانیت دشمن امریکہ و اسرائیل کے خلاف کمر کس لی ہے اور ظاہر ہے کہ امریکی غبارے سے بہت ساری ہوا بھی نکل چکی ہے ۔ اصل میں یہودی قوم تاریخی لحاظ سے رضالت ، کمینگی ، سنگدلی اور بے رحمانہ خصائل کے لحاظ سے بر تر اورصف اول میں موجود رہی ہے ، جنہیں قدرت نے دو بار سزائیں دی ہیں اور اب احادیث کے مطابق تیسری بار اپنے آپ کو آخری اور کرب ناک سزا کا مستحق بنا رہے ہیں۔اس وقت یہی لابی امریکہ پر حاوی ہے ، یہ لوگ امریکہ میں کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر اپنے مخصوص ایجنڈا کو آگے بڑھا رہے ہیں۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ کیا امریکی اس بات سے بے خبر ہے کہ آخر میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں ہی امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بھی بجنے والی ہے؟ اور یقینی طور پر امریکہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ اسرائیل سے پہلے ہی اپنے بدترین انجام کو پہنچ جائے گا، جیسا کہ اسرائیلی ’’پروٹوکالز ‘‘ میں پہلے ہی سے رقم ہے۔ دجال کا یہ مسکن بہت جلد بے توقیر اور عبرت کا نشان بن جائے گا اور اسی طرح سے یاد کیا جائے گا جس طرح کہ اس سے پہلے کے مغرور جابر ، ظالم ، فرعون اور نمرودی مملکتیں آج یاد کی جاتی ہیں۔
رابطہ۔ 7006410532
[email protected]