آغا روح اللہ کا جنتر منتر احتجاج میں شرکت سے انکار
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//حکمران نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا روح اللہ نے ہفتہ کے روز پارٹی کی مجوزہ ریاستی درجے کی مہم سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حالیہ نیشنل کانفرنس اجلاس میں نہ تو مدعو کیا گیا اور نہ ہی ان کی ضرورت سمجھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے مجوزہ’جنتر منتر احتجاج‘میں شریک نہیں ہوں گے اور دفعہ 370کے معاملے کو ہی اجاگر کرتے رہیں گے۔کولگام کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ محرم کی تقریبات سے متعلق پہلے سے طے شدہ پروگراموں میں مصروف تھے اور نیشنل کانفرنس کے اجلاس کا حصہ نہیں تھے۔انہوں نے کہا’’انہیں میری ضرورت نہیں تھی۔ مجھے بلایا نہیں گیا، میں وہاں موجود نہیں تھا۔ 25محرم کے سلسلے میں کولگام، سرینگر اور دیگر مقامات پر میرے پہلے سے پروگرام طے تھے‘‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کے مجوزہ جنتر منتر احتجاج میں شرکت کریں گے، تو انہوں نے اس سے انکار کیا۔انہوں نے کہا’’ میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے دفعہ 370کے بارے میں بات کروں گا‘‘۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی گفتگو کو صرف ریاستی درجے تک محدود کرنا بی جے پی کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔انہوں نے کہا’’وہ بی جے پی کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ میں جموں و کشمیر کے عوام کے منصوبوں پر کام کروں گا‘‘۔آغا روح اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ریاستی درجے کے مسئلے پر انتخابات لڑے تھے، تاہم ان کا موقف ہے کہ دفعہ 370 کا بڑا آئینی معاملہ سیاسی بحث کا مرکزی نقطہ رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا’’جو بھی دفعہ 370کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ریاستی درجے کی بات کرتا ہے، وہ 5 اگست کے بعد کی صورتحال کو معمول کا حصہ بنانے میں مدد کر رہا ہے۔ یہ بی جے پی کا پروپیگنڈا منصوبہ ہے‘‘۔حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کے مبینہ بیان سے متعلق سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا، **”اگر میرواعظ نے ایسا کہا ہے تو وہ درست ہیں۔نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان نے دوبارہ واضح کیا کہ ان کا سیاسی موقف جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی حقوق، عزت و وقار اور امنگوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔