سہیل سالم
نہ وہ سانپ اور نہ یہ سانپ، تو پھر یہ کس سانپ کی بات ہے جو خاموشی سے میرے برف زاروں کو اپنے زہر کی تپش سے پگھلا رہا ہے۔ چناروں کی بستی میں پوشیدہ کہانی کو مٹا رہا ہے ۔میں جس سانپ کی بات کررہا ہوں وہ ایک سفید سانپ تھا لیکن میرے لئے اور برف زاروں کے سانپوں سے ضرور مختلف تھا ۔بلکل مختلف ۔پہلی بار میں نے اسے اپنے آنگن میں دیکھا۔موٹا ،خوبصورت اور دلکش سا حلیہ بنا رکھا تھا ۔سنہری آنکھیں اور زعفرانی رنگ کا تاج سر پر ۔
“مجھے اپنی جانب آتے دیکھ کر وہ ناچتے ناچتے میرے قریب آیا اور مترنم لہجے میں کہنے لگا …؟
“مداری کچھ دیجئے۔۔۔میری مدد کیجئے ۔۔۔۔۔میرے آبا و اجداد کے لئے ۔۔۔۔۔وہ آپ کے خوابوں میں رنگ بھر دے گا ۔
“میرے خواب”۔۔۔۔۔۔یہ بات سنتے ہوئے مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوئی اور میں بغیر جواب دیتے ہوئے کمرے میں سونے چلا گیا ۔وہ مجھے باریک بینی سے دیکھتا ہی رہ گیا ۔پتہ نہیں اور کیا کہنا چاہتا تھا ۔شاید یہی کہ کچھ دیجئے یا میری مدد کیجئے ورنہ میں تمہیں اور تمہارے آس پاس کی بستی میں قہر برپا کر دوں گا ۔
وہ رات بھی مجھے سانپ کی طرح ڈستی رہی اور پوری رات مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ میرے من اور تن کو سانپ نے گھیر لیا ہے ۔صبح جب اچانک میری نظر آئینے پر پڑ گئی تو مجھے پھر ایک بار یہ محسوس ہوا کہ خواب میری آنکھوں سے غائب ہوئے ہیں اور میرا ضمیر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر آنگن میں نیا موسم وارد ہوچکا تھا اور چنار کے قریب وہ سفید سانپ میرا منتظر تھا۔ایک بار پھر میں اس کے نزدیک گیا۔مجھے اپنے طرف آتے دیکھ کر وہ میرے قریب آیا ۔
“مداری کچھ کیجئے ۔مداری مدد کیجئے ۔میں پچھلے چالیس سال سے بے گھر ہوں ۔۔۔پیاسا بھی ہوں ۔۔۔اور بھوکا بھی ۔۔۔کسی بھی آبشار اور برف زار کو ڈس نہیں لیا ہے۔”
“اور ادھر ادھر بھی نہیں جاسکتا ہوں۔”
“کیا ۔۔۔تم رات بھر یہاں رہے”
“ہاں …مداری ….ہاں
“لیکن یہ موسم ۔۔۔یہ دھند اور یہ دھواں ”
“ہاں دھند میں چھپ گیا ۔۔۔گھٹن بھی محسوس ہوئی۔۔لیکن میرے مستقبل اور زندگی کا سوال؟”
“اور میری مجبوری بھی….”
“مجبوری کیوں اور کیسی…..؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔
“مستقبل کا معاملہ ہے اور زندگی کا بھی ۔۔۔۔وہ آنگن میں پیڑ پودوں اور چرند و پرندوں کو ڈسنے لگا۔”
“مداری تم بھی تو۔۔۔؟”
“میں۔۔۔۔میں۔۔۔کیا…..؟”
“تم”
“ہاں ہاں کہو۔۔۔کیا کہنا چاہتے ہو..”
“تم بھی تو سانپ ہی ہو۔۔۔وہ بھی سرکس کے۔۔۔۔۔تمہاری بھی کوئی مجبوری ہوگی؟”
“نہیں ۔۔۔۔تم ۔۔۔تم۔۔۔۔۔جھوٹ بولتے ہو۔ ۔۔میں پاگلوں کی طرح زور زور سے چلاتا ہوا کمرے میں گیا اور وہ سفید سانپ کمرے میں جہلم کی کتاب پر بیٹھا ہوا زہر چھڑکتا رہا ۔پھر آہستہ آہستہ سے میرے بدن کی آستین میں اس سفید سانپ کی روح بس گئی اور میرے وجود کا قتل ہوا۔
���
رعناواری سرینگر ،موبائل نمبر؛9103930114