یوسف میر
اونچے اونچے پہاڑوں کے درمیان گھنے اور ہرے بھرے جنگلات کا ایک وسیع سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف سکون اور فطرت کی خوشبو رچی بسی تھی۔ جنگل کی ہر مخلوق اپنی فطری رفتار سے بے خوف و خطر زندگی گزار رہی تھی۔ شیر اپنی شان سے چلتا تھا، ہاتھی درختوں کے سائے میں آرام کرتے تھے، ہرنوں کے غول سرسبز میدانوں میں دوڑتے تھے، بندر شاخوں پر جھولتے تھے، گلہریاں بیج جمع کرتی تھیں، مور اپنے پَر پھیلا کر رقص کرتے تھے، کوئل اپنی مدھر کوک سے جنگل کو جگاتی تھی، بلبل نغمے بکھیرتے تھے اور بے شمار پرندے اپنی چہچہاہٹ سے اس خاموش دنیا میں زندگی کے رنگ بھر دیتے تھے۔ کسی کو کسی کا خوف نہ تھا۔ ہر طرف امن، اعتماد اور آزادی تھی۔
ایک صبح سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک اجنبی مخلوق جنگل میں داخل ہوئی۔ اس کی نظریں بے چین تھیں۔ وہ اِدھر اُدھر اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے کسی شکار کی تلاش میں ہو، مگر اس کی آنکھوں میں بھوک نہیں، کچھ اور تھا۔
چند ہی قدم کے فاصلے پر ایک ننھی ہرنی اپنی ماں سے کچھ دور تتلیوں کے پیچھے دوڑ رہی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جنگل میں داخل ہونے والی مخلوق شکاری نہیں، اس سے کہیں زیادہ خوفناک تھی۔
اچانک درختوں کے درمیان ایک ایسی دل خراش چیخ گونجی کہ ہوا بھی سہم گئی، پرندوں کے پر لرز اٹھے اور پورا جنگل جیسے ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گیا۔
“پاپا… مجھے بچا لو!”
یہ صرف ایک چیخ نہیں تھی، یوں لگا جیسے پوری وادی کانپ اٹھی ہو۔
کوئل کی کوک خاموش ہو گئی۔ بلبل کے نغمے تھم گئے۔ مور نے اپنے پَر سمیٹ لئے۔ بندر خوف زدہ ہو کر اونچی شاخوں پر جا بیٹھے۔ ہاتھیوں کے قدم رک گئے اور ہرنوں کے غول بدحواسی میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔
اسی لمحے جنگل کے بادشاہ شیر نے ایسی دھاڑ ماری کہ اس کی گونج پہاڑوں سے ٹکرا کر دور تک پھیل گئی۔ یہ خطرے کا اعلان تھا۔ چند ہی لمحوں میں جنگل کی ہر مخلوق ایک وسیع میدان میں جمع ہو گئی۔
ہاتھی، ریچھ، بھیڑیئے، لومڑیاں، زیبرا، جنگلی گھوڑے، ہرن، بندر، مور، عقاب، کوئل، بلبل اور بے شمار پرندے خاموش کھڑے تھے۔ جنگل کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا کہ پوری جنگلی حیات کسی شکاری، قحط یا آگ کے لئے نہیں، بلکہ ایک معصوم چیخ کے لئے جمع ہوئی تھی۔
شیر ایک بلند چٹان پر کھڑا ہوا۔ اس نے سب پر نظر ڈالی۔ اس کی آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور دکھ بھی۔
“آج ہمارے جنگل کے سکون کو کسی نے پامال کیا ہے۔ بتاؤ، یہ ظلم کس درندے نے کیا ہے؟”
چند لمحوں کے لئے یوں لگا جیسے ہوا نے بھی چلنا چھوڑ دیا ہو۔
پھر بوڑھا ہاتھی آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ اس نے احترام سے سر جھکایا اور بولا:
“بادشاہ سلامت… مجھے نہیں لگتا کہ یہ کسی درندے کا کام ہو سکتا ہے۔”
شیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“اگر یہ کسی درندے کا کام نہیں، تو پھر کس کا ہے؟”
بوڑھے ہاتھی نے گہری سانس لی۔
“بادشاہ سلامت! دنیا ہمیں درندہ کہتی ہے، مگر ہماری درندگی کی بھی ایک حد ہے۔ ہم بھوک مٹانے کے لئے شکار کرتے ہیں، اپنی بقا کے لئے لڑتے ہیں، مگر کسی معصوم کی بے بسی کو اپنی خواہش نہیں بناتے۔ آج جو ہوا ہے، وہ کسی ایسے وجود نے کیا ہے جو شکل سے انسان تھا، مگر انسانیت سے خالی تھا۔”
پورا مجمع ساکت رہ گیا۔ کسی کے پاس کہنے کو کوئی لفظ نہ تھا۔
بوڑھا ہاتھی چند قدم اور آگے بڑھا۔
“میں نے اپنی طویل زندگی میں بے شمار شکاری دیکھے ہیں، خون بھی دیکھا ہے، آگ بھی دیکھی ہے، مگر آج جو ہوا، اس نے پہلی بار مجھے اپنی درندگی پر نہیں، انسان کی انسانیت پر افسوس کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔”
ریچھ نے سر جھکا لیا۔
بھیڑیئے کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
ہرنی اپنی ننھی بچی کو سینے سے لگائے کھڑی تھی اور اس کی آنکھوں سے خاموش آنسو بہہ رہے تھے۔
بوڑھے ہاتھی نے دھیمی مگر پُراثر آواز میں اپنی بات جاری رکھی۔
“اگر بھوک درندگی ہوتی تو ہم سب مجرم ہوتے، لیکن ہوس… وہ ایسی آگ ہے جو انسان کے اندر کے انسان کو بھی جلا دیتی ہے۔”
میدان پر ایک بار پھر سکوت طاری ہو گیا۔
شیر آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کی آواز میں پہلے جیسی گرج نہیں تھی، صرف دکھ تھا۔
“آج اس عدالت کا فیصلہ کسی ایک مجرم کے خلاف نہیں، بلکہ اُس سوچ کے خلاف ہے جو معصومیت کو روند دیتی ہے۔”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
“جب ہمارا کوئی ساتھی بھٹک کر انسانوں کی بستی میں پہنچ جائے اور کسی پر حملہ کر دے تو دنیا فوراً کہتی ہے، درندہ آ گیا۔ لیکن آج ہمارے جنگل میں آنے والی مخلوق نے وہ کیا ہے جو کوئی درندہ بھی نہیں کرتا۔”
شیر نے اپنی نگاہ پورے مجمع پر دوڑائی۔
“آج سے یہ جنگل اعلان کرتا ہے کہ ہر وہ مخلوق جو انسان کی شکل میں دکھائی دے، ضروری نہیں کہ انسان بھی ہو۔ بعض اوقات سب سے خطرناک درندے جنگلوں میں نہیں، انسانوں کے بھیس میں بستے ہیں۔ اپنے بچوں کو صرف شکاریوں سے نہیں، بلکہ ایسے چہروں سے بھی بچاؤ جن کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی ہو۔”
کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔
کسی نے نعرہ نہیں لگایا۔
عدالت خاموشی سے برخاست ہو گئی۔
ہاتھی کے قدم پہلے سے زیادہ بوجھل تھے۔
شیر کی چال میں پہلی بار بے بسی دکھائی دے رہی تھی۔
مور نے اپنے پَر نہ کھولے۔
کوئل خاموش تھی۔
بلبل کے نغمے کہیں کھو گئے تھے۔
ہرنی اپنی ننھی بچی کو سینے سے لگائے دیر تک وہیں کھڑی رہی۔
آہستہ آہستہ شام پہاڑوں کے پیچھے اترنے لگی۔
ہوا درختوں کے درمیان سے گزری۔
پتوں نے ہلکی سی سرسراہٹ کی۔
اور نہ جانے کیوں وہاں موجود ہر مخلوق کو یوں محسوس ہوا جیسے فضا میں اب بھی ایک معصوم صدا گونج رہی ہو…
“پاپا… مجھے بچا لو…”
���
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419734234