معراج وانی
یہ محبت اُن محبتوں میں سے نہیں تھی جن میں ہاتھوں کی گرمی محسوس کی جاتی ہے، یہ اُن محبتوں میں سے تھی جن میں صرف لفظ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں۔
کاشف اور جانم کبھی ملے نہیں تھے۔
نہ کبھی ایک دوسرے کی شکل دیکھی تھی، نہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر چائے پی، نہ کسی باغ میں ساتھ چلے۔ ان کی ملاقات صرف خطوط کے ذریعے ہوتی تھی۔ ہر خط ایک نئی صبح لے کر آتا اور ہر جواب ایک نئی زندگی دے جاتا۔ ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے کہ انہیں ایک دوسرے کے چہرے کی نہیں، دل کی پہچان ہو گئی۔
کاشف جانم کے خیالات سے محبت کرتا تھا، اس کی دعا کرنے والی عادت سے، اس کے نرم لہجے سے، اس کے پاکیزہ دل سے۔
پھر ایک دن…
پہلی بار جانم کی تصویر کاشف کے ہاتھوں میں آئی۔
وہ دیر تک تصویر کو دیکھتا رہا۔ کبھی مسکرایا، کبھی خاموش ہوا، کبھی آنکھیں بند کرکے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔
اسی رات اس نے جانم کو ایک خط لکھا۔
“جانم!
آج پہلی بار تمہیں دیکھا ہے۔
تمہاری جھیل سی آنکھوں میں ڈوب کر میں نے ان سے سرمہ چرا لیا ہے اور اپنی آنکھوں میں سجا لیا ہے، تاکہ دنیا کا اب ہر منظر تمہاری آنکھوں سے دیکھ سکوں۔
میں نے حسن بہت دیکھے ہیں، مگر تم جیسا حسن کبھی نہیں دیکھا۔
شاید قدرت نے باقی سب کو صرف ’کُن‘ کہہ کر پیدا کر دیا تھا، مگر تمہیں اس نے بڑی دیر لگا کر بنایا، سنوارا، محبت سے تراشا اور اپنی رحمتوں کے رنگوں سے سجایا۔
مگر جانتی ہو؟
تمہارا اصل حسن تمہارا چہرہ نہیں، تمہارا دل ہے۔
تمہارے دل کی روشنی تمہارے چہرے پر اتر آئی ہے، اسی لئے تم اتنی خوبصورت لگتی ہو۔”
جانم نے وہ خط پڑھا تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید کسی نے اس کے حسن سے زیادہ اس کی روح کو دیکھا ہے۔
پھر ہر شام کاشف ندی کے کنارے جا بیٹھتا۔
درختوں کے سائے اس کے ساتھی ہوتے، بہتا ہوا پانی اس کی باتیں سنتا، پرندے خاموش ہو جاتے، ہوا رک رک کر چلتی، اور وہ جانم کو خط لکھتا رہتا۔
وہ جانتا تھا کہ جانم وہاں موجود نہیں…
لیکن محبت میں فاصلے کبھی حقیقت نہیں ہوتے۔
کبھی دونوں خاموش رہتے۔
اور ان کی یہی خاموشی سب سے لمبی گفتگو بن جاتی۔
پھر ایک دن…
موسم نے کروٹ بدل لی۔
قسمت نے محبت کے دروازے پر خزاں رکھ دی۔
نہ جانم بے وفا تھی۔
نہ کاشف۔
بس حالات ان سے زیادہ طاقتور نکلے۔
دونوں ایک دوسرے کے حالات سے واقف تھے۔
دونوں جانتے تھے کہ اگر محبت کو بچانے کی ضد کی گئی تو شاید جانم کی عزت، اس کا وقار اور اس کا سکون قربان ہو جائے گا۔
کاشف نے بہت دیر تک سوچا۔
پھر اس نے اپنے دل کو سمجھایا کہ محبت کا سب سے اونچا مقام حاصل کرنا نہیں، محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
اس نے جانم کو آخری خط لکھا۔
“جانم…
میں تمہیں نہیں چھوڑ رہا۔
میں صرف تمہاری راہوں سے ہٹ رہا ہوں۔
میرا دل آج بھی تمہارا ہے، کل بھی تمہارا رہے گا، اور آخری سانس تک تمہارا ہی رہے گا۔
میں نے صرف رابطہ توڑا ہے…
محبت نہیں۔”
جانم نے جواب میں صرف اتنا لکھا:
“کاشف…
اگر محبت قربانی کا نام ہے تو آج ہم دونوں سچے عاشق ہیں۔”
اس کے بعد دونوں کے درمیان خاموشی اتر آئی۔
لیکن کاشف کی عادت نہ بدلی۔
وہ روز اسی وقت ندی کے کنارے جاتا۔
اسی درخت کے نیچے بیٹھتا۔
اور دیر تک جانم سے باتیں کرتا رہتا۔
فرق صرف اتنا تھا…
اب جواب میں صرف ندی بہتی تھی۔
وہ اتنا روتا کہ اس کے آنسو ندی کے پانی میں گم ہو جاتے۔
کہتے ہیں کئی بار ندی کی موجیں بھی بے چین ہو کر کناروں سے ٹکرا جاتیں، جیسے وہ بھی اس درد کو برداشت نہ کر پاتی ہوں۔
کاشف کو اپنی جدائی کا غم کم تھا۔
اسے زیادہ درد اس بات کا تھا کہ جانم کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔
کل کوئی اور اس کا ہمسفر ہوگا۔
وہ اس کے ساتھ ہنسے گی، زندگی گزارے گی، نئی یادیں بنائے گی…
اور شاید ایک دن…
کاشف کا نام بھی بھول جائے گی۔
یہ خیال اس کے دل پر پہاڑ بن کر گرا۔
اسی سوچ میں وہ ندی کے کنارے بیٹھا بیٹھا بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔
تیز بارش برسنے لگی۔
ندی کا پانی طغیانی میں آگیا۔
ایک بلند موج آئی…
اور کاشف کو آہستہ سے اپنی آغوش میں لے گئی۔
یوں لگا جیسے ندی اسے ڈبو نہیں رہی…
بلکہ اس کے ٹوٹے ہوئے دل کو ہمیشہ کی نیند سلا رہی ہو۔
صبح لوگوں نے صرف اتنا دیکھا کہ کنارے پر ایک بھیگا ہوا خط پڑا تھا، جس پر آخری جملہ لکھا تھا:
“جانم…
میں نے تمہیں کبھی پایا نہیں…
اس لیے کبھی کھو بھی نہیں سکتا۔
میری محبت کا انجام موت نہیں…
تمہاری عزت ہے۔
اور اگر اگلے جہان میں محبتوں کا کوئی شہر بسا…
تو میں وہاں بھی صرف تمہارا انتظار کروں گا۔”
کاشف مر گیا۔
مگر مرتے وقت بھی اس کے دل میں جانم کے سوا کسی اور کا خیال داخل نہ ہو سکا۔
اس کی محبت دنیا کی کتابوں میں شاید ایک ادھوری کہانی تھی…
مگر آسمانوں کی کتاب میں وہ مکمل وفا لکھی جا چکی تھی۔
اب جانم کی وفا کا امتحان ہے کہ اُس نے کاشف کی کیا قدر کی ہوگی جو کہ روز قیامت کا شف تو معلوم ہوگا ..
���
کنگن ، گاندربل ، کشمیر
[email protected]