ایس معشوق احمد
سوال :- آپ کا نام ؟
جواب :- معشوق میرا نام ہے لکھنا میرا کام ہے۔ اس کے سواء مجھے کوئی کام نہیں آتاحالانکہ سچ تو یہ ہے کہ لکھنا بھی مجھے نہیں آتا فقط کوشش کرتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے ہزاروں حسیناؤں کو دیکھا ہے کسی نے مجھے اپنا معشوق نہ بنایا صرف بھائی کہہ کر ہی پکارا۔مرزا کہتے ہیں کہ قرب قیامت میں ایسے لوگ آئیں گے جو خوبصورت ہوکر ”معشوق“ کو بھائی بنا دیں گے۔
غالبؔ کا شعر ہے کہ
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
میں معشوق ہوکر بھی ”معشوق فریبی“ نہیں کرتا۔میرے آگے لیلیٰ کا مجنوں کو برا کہنا تو دور کی بات آج تک کسی لیلیٰ نے مجھ سے ہنس کر بات تک نہیں کی۔ میرے فقط نام کے معشوق ہونے کا اندازہ کیجیے اور افسوس کیجیے کہ جس معشوق کو شعراء نے سر آنکھوں پر بٹھایا، جس کے ناز اٹھانے کو عاشق ہمہ وقت تیار رہتے تھے، اس کو انت کال میں خوبصورت حسینائیں تک بھائی کہہ کر پکارتی ہیں۔
سوال :- آپ شاعر ہیں؟
جواب :- نہیں صاحب میں انسان ہوں۔انسان ہونا شاعر ہونے سے ہزار گنا مشکل ہے۔شاعر آجکل ہر فرد ہے لیکن انسان ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔
سوال : انسان ہونے کے علاوہ آپ اور کیا ہیں؟
جواب :-صاحب انسان ہونے کے علاوہ میں کسی کا بیٹا ہوں، کسی کا بھائی ہوں، کسی کا شوہر ہوں، کسی کا باپ
ہوں اور کسی کسی کا دوست بھی ہوں۔
”ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی “
اور وہ بیس آدمی مل کر بھی ان مشکلات اور پریشانیوں کا ازالہ نہیں کرسکتے جن سے آج کا آدمی نبرد آزما ہے۔
سوال :- ادبی حیثیت کیا ہے؟
جواب :- حیثیت امیروں کی ہوتی ہے اور ہم جیسے لوگوں کی اوقات ہوتی ہے۔ابھی اوقات کو میں دودھ پلا رہا ہوں تاکہ وہ حیثیت کے برابر کھڑا ہوجائے ۔ویسے مرزا کہتے ہیں کہ بوڑھے سے وصیت اور جوان سے حیثیت نہیں پوچھی جاتی دونوں مجاز ہوتے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ بوڑھا تمام جائیداد دان کر سکتا ہے اور جوان محنت کا درخت بن کر کوئی بھی پھل دے سکتا ہے۔ حضور شاعر مجھے افسانہ نگار مانتے ہیں، افسانہ نگار مجھے کالم نگار کہہ کر پکارتے ہیں، کالم نگار کہتے ہیں کہ یہ بندہ انشائیہ لکھتا ہے اور انشائیہ نگاروں کا خیال ہے کہ میں صنف انشائچے کا مؤجد ہوں۔صرف میں جانتا اور مانتا ہوں کہ میری نہ کوئی حیثیت ہے نہ کوئی وقعت ۔
سوال :- ادب کیا ہے؟
جواب:- ادب وہ ہے کہ جب میر ، غالب، اقبال، حسرت، فیض، فراز، پطرس، مشتاق یوسفی، کنہیا لال کپور،مجتبیٰ حسین،کرنل محمد خان کے نام آتے ہیں تو گردن جھک جاتی ہے اور قدم بوسی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ان کا لکھا پڑھ کر سکون آتا ہے اور آج کے ادیب اور شاعروں کو پڑھ کر جلن ہوتی ہے، معدہ درد کرنے لگتا ہے، اُلٹی آنا شروع ہوجاتی ہے اور انسان خود سے سوال کرتا ہے کہ ادب کیا ہے؟ اور بے ادبی کیا ہے۔
سوال:-آپ کی کوئی خواہش ؟
جواب:-ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
حاضرین اس کا غلط مطلب نہیں نکالنا کہ میری خواہش دم نکلنا ہے۔مرنا کون چاہتا ہے سب زندہ دلی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور گزارنی بھی چاہیے کیونکہ غم کے سپاہیوں نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں جو ہر فرر کی تلاشی لے کر ان کی خوشیوں کو چھیننا چاہتے ہیں۔خوش رہنا مشکل ضرور ہے لیکن انسان کو خوش رہنا چاہیے تاکہ غم کے سپاہی پسپا ہوجائیں۔خیر بات ہورہی ہے خواہش کی تو میری خواہش بھی یہی ہے انسان خوش رہے اور خوشیاں بانٹے۔ سچ کہوں توخواہشات کی دنیا وسیع ہے اور قدم قدم پر انسان کو ایسا کچھ ضرور نظر آتا ہے جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔
آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا۔
میں بھی آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری کند ذہنی کو برداشت کیا اور خشم گیں نہیں ہوئے۔
تکی بل،کیلم
موبائل نمبر؛ 8493981240