نعت پاک
پڑھ کر درود، بولوں مجھے کیا دکھائی دے
بیمارِ معصیت کا مداوا دکھائی دے
صد آفریں صحابہؓ کا حسنِ نگاہِ شوق
زخموں میں ان کو دین پنپتا دکھائی دے
دیگر سبھی ملوک جہاں کے لگے گدا
دربارِ مصطفےٰؐ ہی بس اعلیٰ دکھائی دے
لاکھوں چراغ جل کے بھی پاتے نہیں وہ نور
ذاتِ محمدی میں جو یکتا دکھائی دے
ٹوٹی ہوئی چٹائی پہ جو جلوہ گر رہا
عرشِ بریں کی بزم سے اعلیٰ دکھائی دے
خورشیدِ حشر تاب کو کرتا ہوا خجل
میرے نبیؐ کا روئے تجلی دکھائی دے
تشنہ لبی کا چاہے مداوا تو جا اُدھر
جس سمت سبز گنبدی دریا دکھائی دے
یہ دہر رونقوں سے جو آباد ہے بہت
شہرِ نبیؐ کے سامنے صحرا دکھائی دے
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی
والسلام
کیسے میں اپنے آپ کو کہہ دوں فضول ہوں
پیارے نبیؐ! میں آپ کے قدموں کی دھول ہوں
پہلے فضول تھا میں زمانے کی بھیڑ میں
اب اُنؐ کا ہوں غلام، تو سب کو قبول ہوں
کانٹا نہیں ہوں، دامنِ رحمت میں ہوں پڑا
نسبت ہے اُنؐ کے در سے تو اب میں بھی پھول ہوں
شاہوں کا مرتبہ بھی میرے سامنے ہے ہیچ
ادنیٰ سا اِک غلامِ جنابِ رسولؐ ہوں
اُنؐ کی نظر کا فیض ہے، دُکھ درد مٹ گئے
اب زندگی کے رنج پہ میں کب ملول ہوں
انساں ہوں اور خطا ہے خمیرہ، مری سرشت
سر تا قدم گناہ ہوں، مجسم میں بھول ہوں
آقاؐ کی نعت ہی میری پہچان ہے فہیمؔ
ورنہ میں اس جہاں میں سراسر فضول ہوں
فہیم اقبال
ہلر شاہ آباد، ڈورو، اننت ناگ کشمیر
موبائل نمبر؛7006402556