ہیں کتنے دل شکن جذبات میرے
کریں گے کیا یہاں جذبات میرے
میں ظاہر میں شگفتہ پھول ساہوں
مگر ہیں مختلف حالات میرے
یہ راہِ حق ہے مجھ کو دیکھنا ہے
کہاں تک وہ چلیں گے ساتھ میرے
کسی پر جب پڑی کوئی مصیبت
دُعا کو اُٹھ گئے ہیں ہاتھ میرے
وہ رہنے لگ گئے ہیں مجھ سے برہم
کہ سچ ہوتے گئے خدشات میرے
مجھے تسلیم ہے میں دل شکن ہوں
مگر نہیں تازه دم جذبات میرے
هتاشؔ اس کو کہوں تو کیا کہوں
وہ میں دشمن بن گئے بے بات میرے
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
بنادے اے خدا صحرا میں اک ندی مجھ کو
بُجھا کے پیاس دعائیں دے ہر کوئی مجھ کو
غموں کی بھیڑ میں کھویا ہوں ایک مدت سے
نہ آئی ڈھونڈنے اب تک کوئی خوشی مجھ کو
بچھڑ کے تم سے زمانہ گزر گیا ۔۔۔ لیکن
تمہاری یاد ستاتی ہے آج بھی مجھ کو
میں اپنے آپ میں تجھ کو تلاش کرتا ہوں
کہاں پہ آگئی لے کر یہ بے خودی مجھ کو
اے موت تو ہی ذرا اس کو آکے سمجھا دے
ستا رہی ہے بہت اب یہ زندگی مجھ کو
وطن کو چھوڑ کے پر دیس کس لئے جاؤں
یہاں کی دھوپ بھی لگتی ہے چاندنی مجھ کو
اسی خیال سے مر مر کے جی رہا ہوں رفیق ؔ
کبھی تو آئے گی یہ راس زندگی مجھ کو
رفیق عثمانی
آکولہ ، مہاراشٹرا
پنچھی اُڑا دیئے ہیں فُرقت کے اِس شجر سے
کس نے مجھے پکارا یادوں کی رہگزر سے
چھینی خزاں نے خوشبو زیست کے اُس شجر سے
کیا گفتگو کرے کوئی ٹوٹے ہوئے ثمر سے
چراغ بجھ بھی جائیں تو ہمت نہیں بجھتی
ہم روشنی دکھائیں سورج کو اپنے گھر سے
ٹوٹے تھے جو تعلق لفظوں کی لغزشوں سے
دل پھر بھی جڑ گئے ہیں محبت کے اک ہنر سے
ہر ایک زخم مہکا دعاؤں کی خوشبوؤں سے
کچھ پھول نکل آئے کانٹوں کے اُس سفر سے
غم ہم نے چھپائے تھے سینے کی دھڑکنوں میں
آنکھوں نے کہہ دیا سب خاموش اک نظر سے
وہ لوٹ کر نہ آیا، پر آج بھی ہے مجھ کو
اک آہ سی اُبھرتی اُس کی ہر خبر سے
ویران دل کے آنگن میں یادوں کو زندہ رکھا
لئے چراغ ہم نے اُسی کے بام و در سے
دریا بھی سر جھکائے خاموش بہہ رہا تھا،
ہم پیاس لے کے لوٹے اپنی ہی رہگزر سے
پتّے بکھر گئے تھے آندھی کی ایک زد سے
خوشبو ہوئی نہ رخصت کبھی بھی اُس شجر سے
برسوں صدا دی ہم نے اُس خاموش رہگزر سے
اک حرف بھی نہ لوٹا اُس یارِ بےقدر سے
خُورشیدؔ کیا ملے گا پلٹ کر اب کسی کو
پنچھی بھی اُڑ چکے ہیں فُرقت کے اُس شجر سے
خُورشیدؔ احمد آخُون
کشتواڑ جموں
یہ ویرانی، سبب اس کا بنیں نادانیاں گل کی
خزاں کے ہاتھ لٹ کر رہ گئیں قربانیاں گل کی
لگائی آگ پھر گھر کو یہاں گھر کے چراغوں نے
کسی کے شوق کی خاطر ہوئیں ویرانیاں گل کی
یہاں لاشیں جوانوں کی اٹھائی روز جاتی ہیں
زمانے بھر نے دیکھی ہیں یہی ویرانیاں گل کی
کتابوں کی جگہ بستے میں ہیں سگریٹ کے ڈبّے
ہوا میں زہر گھولیں ہیں یہاں نادانیاں گل کی
کمائی عمر بھر کی لُٹ گئی، اب کس سے ہو شکوہ
شکایت بھی عبث ٹھہری، ہوئیں ویرانیاں گل کی
جنہیں پالا تھا نازوں سے، جوانی تک سنبھالا تھا
کفن اوڑھے پڑی ہیں آج وہ قربانیاں گل کی
یہاں کل سے فضا خاموش ہے، ماتم ہی ماتم ہے
بہاروں نے جھلس ڈالیں سبھی شادانیاں گل کی
وہی شاخیں، وہی کلیاں، وہی موسم، وہی منظر
مگر لاتی نہیں ہیں رنگ کیوں قربانیاں گل کی
تمنا ہے یہی پروازؔ یہ آواز ہے دل کی
نظر انداز مت کرنا کبھی نادانیاں گل کی
جگدیش ٹھاکر پرواز
لوپارہ دچھن کشتواڑ ، جموں
سو جاتا ہوں تو مجھ کو جگاتے ہیں یہ خواب
بھول جاتا ہوں پھر تیری یاد دلاتے ہیں یہ خواب
میں کیسے سمجھوتا کر سکتا ہوں تیری ہار پر
جب تیری کمی کا احساس دلاتے ہیں یہ خواب
جب بھی تجھ سے روٹھ جاتا ہوں کسی بات پر
کسی بات پر مجھ کو مناتے ہیں یہ خواب
یہ خواب میرے لئے عذاب جاں بن گئے ہیں
کتنے لا معنی خواب دکھاتے ہیں یہ خواب
یہ خواب چُھپ جاتے ہیں بادلوں کی گرد پر
چاندنی میں اپنا چہرہ دکھاتے ہیں یہ خواب
یہ خواب کبھی پورے ہو جائیں مگر پھر بھی
کسی دوسری شکل میں سامنے آجاتے ہیں یہ خواب
میرے آنچل کو کبھی چھوڑنا گوارا نہیں کرتے
تھک جاتا ہوں اور بکھر جاتے ہیں یہ خواب
بُھلا دیتے ہیں حال کی تاریکیوں کو
فردا میں جاکے بس جاتے ہیں یہ خواب
معراج نذیر
ریشی پورہ،زینہ پورہ ،شوپیان ، کشمیر
موبائل نمبر؛7889562643
زمیں اور آسماں ہیں عجب سے خمار میں
یہاں انتظار میں پھول بیٹھے قطار میں
پلکیں بچھائیں رستے میں، قول و قرار میں
رکھے پھول پھول کو پات پات حصار میں
پری سبزہ زار میں، جیسے چاند بہار میں
وہ بسی ہے آج بھی میرے دل کے دیار میں
بےقراری میں ، بے بسی میں کٹ گئی زندگی
سکوں ڈھونڈنے چلے، دشتِ غبار میں
کسی خارزار میں پھول جیسی وہ آ ملی
کئی رنگ بھر دیئے اِک اِک چنار میں
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر، کشمیر
کاش ! زندہ تھے تو اک پھول عطا کر دیتے
بعدِ مرگ اپنی وفاؤں کا پتا کر دیتے
میرے چہرے پہ کبھی پیار سے ٹھہریں نظریں
یوں نہ ہر بات کو خاموش سزا کر دیتے
قبر پر آج جو خوشبو کے خزانے رکھے
کاش جیتے جی یہی رسم ادا کر دیتے
میرے زخموں کی طرف ایک نظر ہی کافی تھی
درد کم ہوتا، ذرا حال سنا کر دیتے
اب دعاؤں کی صدا قبر تلک آتی ہے
کاش سانسوں میں یہی نور بھرا کر دیتے
وقتِ رخصت بھی کسی نے نہ پکارا مجھ کو
بعد میں آ کے بہت شور مچا کر دیتے
قبر پر پھول بچھانے سے نہیں کچھ حاصل
کاش زندہ تھے تو جینے کی دعا کر دیتے
سبدرؔ اس دل کی یہی آخری حسرت ٹھہری
کاش جیتے جی ذرا حقِ وفا کر دیتے
سبدر شبیر
اوٹو اہربل کولگام
[email protected]
رہنے دو، بس اک شام ہی تو ہے
دردِ دل کی دوا اک جام ہی تو ہے
صبح کی آس میں عمر گزری تمام
اب جو آئی ہے رات، آرام ہی تو ہے
نہ منزل کی تمنا ہے، نہ رستوں کا گلہ
اس سفر کا یہ آخری مقام ہی تو ہے
ہوا پوچھتی ہے اب مرا احوال آ کر
ہمارے بعد اِس بستی میں کہرام ہی تو ہے
وفا کی راہ میں ہم نے لُٹایا سب کچھ آخر
جو باقی رہ گیا، بس ایک نام ہی تو ہے
محبت ہو کہ دنیا ہو، خسارہ ہے خسارہ
ملا ایوبؔ کو جو کچھ، وہ الزام ہی تو ہے
محمد ایوبؔ
ترال بالا ، پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛ 9596359446