اختر معراج
گاؤں کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر کے صحن میں ایک پرانا لکڑی کا جھولا لٹکا رہتا تھا۔ ہوا چلتی تو وہ خود بخود ہلنے لگتا، جیسے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔
اس گھر میں ستر سالہ زینب بی بی اکیلی رہتی تھیں۔ شوہر کو دنیا سے گئے کئی برس بیت چکے تھے، اور ان کا اکلوتا بیٹا فراز شہر جا کر اتنا مصروف ہو گیا تھا کہ ماں کے لئے وقت ہی نہ نکال سکا۔ ابتدا میں فون آتے رہے، پھر مہینوں کا وقفہ ہو گیا اور آخرکار خاموشی نے ہر رشتے کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
زینب بی بی روز عصر کے وقت جھولے کے پاس ایک اضافی کپ چائے رکھ دیتیں۔ محلے کی عورتیں پوچھتیں، “اماں! دوسرا کپ کس کے لئے؟”
وہ مسکرا کر کہتیں، “میرے بیٹے کےلئے… شاید آج آ جائے۔”
وقت گزرتا گیا۔ جھولاپرانا ہوتا گیا، مگر امید نئی ہی رہی۔
ایک دن گاؤں کے اسکول کا ایک یتیم بچہ، حارث، ان کے دروازے پر آیا۔ وہ بہت بھوکا تھا۔ زینب بی بی نے اسے کھانا کھلایا۔ اگلے دن وہ پھر آیا، پھر روز آنے لگا۔ کبھی پانی بھر دیتا، کبھی لکڑیاں جمع کر دیتا، کبھی دوا لے آتا۔
ایک شام حارث نے معصومیت سے پوچھا، “دادی اماں! یہ جھولا ہمیشہ خالی کیوں رہتا ہے؟”
زینب بی بی کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “یہ اس کے لئے ہے وہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔”
حارث خاموشی سے جھولے پر بیٹھ گیا اور آہستہ آہستہ جھولنے لگا۔ “اگر آپ اجازت دیں تو جب تک وہ نہیں آتا، میں اس پر بیٹھ جایا کروں؟”
یہ سنتے ہی زینب بی بی کی برسوں سے سوئی ہوئی ممتا جاگ اٹھی۔ انہوں نے حارث کو سینے سے لگا لیا۔ اس دن پہلی بار وہ جھولا تنہائی سے نہیں، زندگی سے ہل رہا تھا۔
چند ماہ بعد اچانک فراز واپس آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی ماں صحن میں بیٹھی حارث کے لئے سویٹر بن رہی ہے، اور وہ بچہ انہیں “دادی اماں” کہہ کر پکار رہا ہے۔
فراز کے قدم رک گئے۔ اسے احساس ہوا کہ جس محبت کو وہ دنیا کی مصروفیات میں بھول آیا تھا، اس محبت نے کسی اور کے دل میں اپنا گھر بنا لیا ہے۔
وہ ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا اور روتے ہوئے بولا، “اماں… مجھے معاف کر دیجیے۔”
زینب بی بی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، “بیٹا! ماں کا دل دروازہ نہیں ہوتا جو بند ہو جائے، یہ تو دعا کی طرح ہوتا ہے، جو ناراض ہو کر بھی تمہارے لئے کھلا رہتا ہے۔”
اس دن صحن کا خالی جھولا پہلی بار دو نسلوں کی ہنسی سے بھر گیا۔ ہوا اب بھی چل رہی تھی، مگر اب اس کی سرگوشیوں میں تنہائی نہیں، اپنائیت کی خوشبو تھی۔
سبق: بعض اوقات خون کے رشتے دور ہو جاتے ہیں، مگر محبت سے بننے والے رشتے زندگی کو پھر سے آباد کر دیتے ہیں۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819606