عظمیٰ ویب ڈیسک
وزیر اعظم نریندر مودی سہہ ملکی دورے کے دوسرے پڑاؤ کے تحت آج آسٹریلیا پہنچ رہے ہیں جہاں وہ میلبورن میں آسٹریلیائی قیادت ملاقاتیں کرنے کے علاوہ ہند۔آسٹریلیا سمٹ میں بھی شرکت کریں گے اور اِس کے علاو ہ ایک بھارتی برادری کے ایک بہت بڑے جلسے بھی خطاب کریں گے ۔ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمہ جہت ہے ۔
1) سیاسی و قیادت کی سطح پر روابط:
وزیرِ اعظم کی سطح پر رابطے باقاعدہ ہو چکے ہیں، اور دونوں وزرائے اعظم مئی 2022 کے بعد سے متعدد بار ملاقات کر چکے ہیں۔یہ تعلقات ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے بھی مضبوط کیے جاتے ہیں جن میں شامل ہیں:
سالانہ اجلاس
وزرائے خارجہ اور دفاع کے مابین 2+2 کے مذاکرات
وزارت دفاع فریم ورک ڈائیلاگ
وزارت دفاع سطح کی مذاکرات
مشترکہ وزارتی کمیشن (ایچ سی آئی ایم کی قیادت میں)
آسٹریلیا بھارت تعلیم و سکلز کونسل
توانائی سے متعلق مذاکرات
متعدد مشترکہ ورکنگ گروپ
وزارتی سطح کی ملاقاتیں/مذاکرات: بھارت کے وزیرِ خارجہ نے آسٹریلیا کی موجودہ وزیرِ خارجہ سنیٹر پینی وونگ کے ساتھ پانچ فارن منسٹرز فریم ورک ڈائیلاگ (ایف ایم ایف ڈیز) سمیت متعدد دوطرفہ ملاقاتیں کی ہیں۔تازہ ترین (17واں) فارن منسٹرز فریم ورک ڈائیلاگ (ایف ایم ایف ڈی) 26 مئی 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔
آسٹریلیا۔کینیڈا۔بھارت ٹیکنالوجی اور اختراع شراکت داری (اے سی آئی ٹی آئی)، ایک نئی سہ فریقی ٹیکنالوجی اور اختراعی شراکت داری، 22 نومبر 2025 کو جی-20 سمٹ کے موقع پر شروع کی گئی۔کواڈ، بھارت-فرانس-آسٹریلیا، بھارت انڈونیشیا-آسٹریلیا اور بھارت-جاپان-آسٹریلیا اور سپلائی چین ریزیلینس انیشیٹو دیگر سہ فریقی/کثیر فریقی میکانزم ہیں جو قائدین/وزارتی سطح پر موجود ہیں۔
2) تجارت اور اقتصادی شراکت
آسٹریلیا، بھارت کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، جبکہ بھارت آسٹریلیا کا پانچواں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت (سامان اور خدمات) نے 2025 میں 33 ارب امریکی ڈالر کا ہندسہ عبور کر لیا ہے، جو گزشتہ برسوں میں تیز رفتار ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔دونوں فریقوں نے باہمی تجارت کو 2030 تک 100 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دسمبر، 2022 میں نافذ بھارت آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدہ (ای سی ٹی اے) بھارت کے حالیہ دور کے سب سے کامیاب تجارتی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آسٹریلیا نے اپنی تمام (100 فیصد) ٹیرف لائنوں پر ترجیحی رسائی فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں جنوری 2026 سے بھارت کی تمام برآمدات ڈیوٹی فری ہوگئی ہیں، جبکہ بھارت نے آسٹریلیا کی تجارتی قدر کے 90 فیصد سے زائد حصے پر ترجیحی رسائی دی ہے۔ اس معاہدے سے خاص طور پر بھارت کے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، کیمیکلز، انجینئرنگ مصنوعات، جواہرات و زیورات اور زرعی شعبوں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے، جبکہ آسٹریلیا سے اہم معدنیات، قدرتی وسائل، تعلیم اور خدمات کی برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہوا ہے۔
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 70 ارب آسٹریلوی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
آسٹریلیا کے پنشن اور انفراسٹرکچر فنڈز بھارت میں سڑکوں، لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تیزی سے سرگرم ہوتے جا رہے ہیں۔بھارت ٹیکنالوجی، آئی ٹی، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں آسٹریلیا کے لیے سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ بنا ہے۔
جون 2026 میں وزیرِ اعظم مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران، ایئر ٹرنک کے بانی اور سی ای او رابن کھدا نے اعلان کیا کہ بھارت میں 2030 تک 30 ارب امریکی ڈالر (تقریباً ₹3 لاکھ کروڑ) کی سرمایہ کاری کا ان کا منصوبہ ہے، اس سے ان کا مقصد 5 گیگا واٹ سے زائد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اے آئی-ریڈی ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت تیار کرنا ہے۔یہ بھارت میں اب تک تجویز کردہ سب سے بڑے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہے۔
پرڈمین کیمیکل اینڈ فرٹیلائزرس کے سی ای او بھارتی نژاد مسٹر وکاس رامبل آسٹریلیا کے شہر کاراتھا، ویسٹرن آسٹریلیا میں ملک کا سب سے بڑا یوریا پلانٹ ‘پروجیکٹ سیریس’ قائم کر رہے ہیں۔4۔5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ، یہ آسٹریلیا کی کھاد کی صنعت میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔یہ پروجیکٹ بھارت اور آسٹریلیا کے صنعتی تعاون کی ایک منفرد مثال ہے، جو “میک ان انڈیا” اور “میک ان آسٹریلیا” کے امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں بھارتی کمپنی لارسن اینڈ ٹربو نے پلانٹ کے کل ماڈیولز میں سے %98 سے زیادہ حصے فراہم کیے ہیں، جو اس کی کٹوپلی فیکٹری میں تیار کیے گئے ہیں۔پروجیکٹ سیریس کے نتیجے میں بھارت بھر میں 36 ملین مین آورز کے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ 90 بالواسطہ اور 20 بلاواسطہ معاہدوں کے ذریعے بھارت میں 540 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 6،000 کروڑ بھارتی روپئے) خرچ کیے گئے ہیں۔پروجیکٹ سیریس سے وابستہ دیگر بھارتی کمپنیوں میں پاوریکا، کے ای آئی کیبلز، ٹیما ہیٹ ایکسچینجرز، گودریج، آئی ایس جی ای سی، انوپ، سلزر پمپس اور سائپیم انڈیا شامل ہیں۔
3) دفاع اور سلامتی
دفاعی تعاون اس شراکت داری کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے ستونوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔آسٹریلیا بحرِ ہند میں بھارت کو استحکام پیدا کرنے والا اہم عنصر سمجھتا ہے۔بھارتی وزیر دفاع کا اکتوبر 2025میں آسٹریلیا کا سرکاری دورہ کیا اور یہ آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر دفاع تھے، جنہیں گزشتہ 12 سالوں میں اس دورے کو کئی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل نتائج کی وجہ سے اہم تصور کیا گیا، جن میں اہم معاہدے/ایم او یوز پر دستخط، سالانہ وزراء دفاع کے درمیان مذکرات کا انعقاد، اور سڈنی میں پہلی مرتبہ بھارت-آسٹریلیا دفاعی صنعت راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد شامل تھا۔
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان وزارت دفاع کے درمیان مذاکرات کے کے دوسرے دور کا انعقاد نئی دہلی میں 01 جون 2026 کو ہوا، جب آسٹریلیا کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع رچرڈ مارلز نے بھارت کا دورہ کیا۔
آسٹریلیا نے فروری 2026 میں وِشاکھاپٹنم میں منعقد ہونے والی بھارت کی انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026 (آئی ایف آر 2026) میں شرکت کی۔آئی این ایس نیلگیری نے مارچ 2026 میں منعقد ہونے والی مشق کاکاڈو 2026 میں شرکت کی۔2024-25میں، بھارت اور آسٹریلیا نے مشترکہ طور پر پانچ دفاعی مشقوں میں شرکت کی: ایکسرسائز مالابار 2025 جو نومبر 2025 میں گوام کے آس پاس منعقد ہوئی؛ آس انڈیکس 25 جو نومبر 18–20، 2025 میں مغربی بحرالکاہل میں منعقد ہوئی؛ اور ایکسرسائز آسٹراہند جو 13-26 اکتوبر 2025 میں پرتھ میں منعقد ہوئی۔بھارت نے جولائی ۔اگست 2025 میں پہلی بار مشق تلیزمین سبرے میں شرکت کی۔
ایکسرسائز پیچ بلیک (PITCHBLACK) کا انعقاد 20 جولائی سے7 اگست 2026 تک شمالی آسٹریلیا میں کیا جا رہا ہے، جو بنیادی طور پر راف بیس ڈارون اور راف بیس ٹنڈل سے آپریٹ کرے گا۔
4)تعلیم اور مہارت کی شراکت داری
اس تعلق سے تعلیم سب سے مضبوط ستونوں میں سے ایک ہے۔آسٹریلیا سے بھارت برآمد کی جانے والی خدمات میں تعلیم سب سے بڑی شئے ہے۔
فروری 2026 تک آسٹریلیا کی مختلف جامعات میں 102,000 سے زائد بھارتی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
نئی دہلی میں دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والی 3رے آسٹریلیا-انڈیا ایجوکیشن اینڈ اسکلز کونسل کی وزارتی سطح کی میٹنگ سے بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعلیم، مہارتوں اور تحقیق کے شراکت داری کو نمایاں مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔ترجیحی شعبوں، جیسے جدید کمپیوٹنگ، توانائی، پائیداری، صحت، میڈ ٹیک، خلائی تحقیق اور دفاع میں بھارت-آسٹریلیا کے 10 نئے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لیے ₹9۔84کروڑ کی منظوری دی گئی۔ آسٹریلیا کی 7 جامعات کو اب بھارت میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی منظوری مل چکی ہے یا انہوں نے اپنا کیمپس شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی ٹیکنالوجی میں جدت، بحری علوم، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، کان کنی، عالمی روزگار کی تیاری اور ترجیحی مہارتوں کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور منصوبہ دستاویز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
5) توانائی کا شعبہ
بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان قابلِ تجدید توانائی شراکت داری، بھارت۔آسٹریلیا سولر ٹاسک فورس، بھارت۔آسٹریلیا گرین ہائیڈروجن ٹاسک فورس، اور وزارتی سطح پر توانائی سے متعللق مذاکرات موجود ہیں۔
6) زراعت
آسٹریلوی عجائب گھروں میں موجود مجموعی طور پر 40 نوادرات کو 2014 کے بعد سے واپس وطن منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 11 اشیاء 2026 میں واپس کی گئیں۔
7) ڈائسپورا
آسٹریلیا میں بھارتی تارکینِ وطن کی تعداد اب 1 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔
بھارتی نژاد کمیونٹی آسٹریلیا میں تیزی سے بڑھنے والی بڑی تارکینِ وطن برادری ہے، اور بھارت میں پیدا ہونے والی آبادی آسٹریلیا میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد پر مشتمل سب سے بڑی جماعت ہے۔
(مضمون بشکریہ وزارتِ خارجہ حکومت ہند)