عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم کے پہلے 100 دنوں میں جموں ڈویژن کے دس اضلاع میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے پولیس نے 962 مقدمات درج، 1140 ملزمان کو گرفتار اور بھاری مقدار میں مختلف اقسام کی منشیات ضبط کی ہیں۔ اس مہم کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری اور نشے کے عادی افراد کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔یہ معلومات جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) بھیم سین توٹی نے مہم کی 100 روزہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے دیں۔ انہوں نے کہا کہ 11 اپریل سے شروع ہونے والی اس خصوصی مہم کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنانا، نوجوانوں کو نشے کی لعنت سے محفوظ رکھنا اور منشیات اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران پولیس نے 15 کلوگرام ہیروئن، 49 کلوگرام گانجا، 30 کلوگرام پوست کا بھوسہ اور 6 کلوگرام چرس برآمد کی۔ اس کے علاوہ پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 30 بدنام منشیات فروشوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ منشیات کے کاروبار سے وابستہ 82 جائیدادیں ضبط کی گئیں۔آئی جی پی کے مطابق منشیات کی غیر قانونی کاشت کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے دوران 140 کنال اراضی پر کاشت کی گئی نشہ آور فصلیں تباہ کر دی گئیں۔ اسی طرح منشیات کے کاروبار میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 121 ڈرائیونگ لائسنس منسوخ اور 153 گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (آر سی) بلیک لسٹ کیے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مہم کے دوران 4045 میڈیکل اسٹورز اور کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ممنوعہ ادویات کی غیر قانونی فروخت پر مؤثر نگرانی رکھی جا سکے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز کے اشتراک سے اب تک 2125 آگاہی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں لاکھوں شہریوں، خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ نے شرکت کی۔واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 11 اپریل کو جموں کے ایم اے اسٹیڈیم میں ایک بڑی عوامی واک کو جھنڈی دکھا کر نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ اس مہم کی بنیاد تین اہم ستونوں پر رکھی گئی ہے، جن میں عوامی بیداری، منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی شامل ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں مستقبل میں بھی اسی شدت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں، اسمگلروں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں منشیات سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں تاکہ نوجوان نسل کو اس مہلک لعنت سے بچایا جا سکے اور جموں و کشمیر کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے۔