عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نتن نبین نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو 5اگست 2019کو ’’حقیقی آزادی‘‘اس وقت ملی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے دفعہ370 اور 35-اے کو ہمیش ہمیشہ کیلئے دفن کرتے ہوئے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔جموں کے مضافاتی علاقے مشری والا میں واقع میجیسٹک گرینڈ میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یوم پیدائش کے موقعے پر منعقدہ ’’کارکن سمیلن‘‘اور عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نتن نبین نے کہا کہ صرف وہی لوگ جموں و کشمیر میں آنے والی تبدیلیوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کی سوچ محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج لال چوک سمیت پورے جموں و کشمیر میں قومی پرچم شان سے لہرا رہا ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سال 2014 سے قبل جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور جموں و کشمیر میں بھی وہ اقتدار میں شامل تھی، اس وقت لال چوک پر ترنگا لہرانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور امن و امان کی خرابی کا جواز پیش کیا جاتا تھا۔
نتن نبین نے سال 2011 کے اپنے دورۂ جموں و کشمیر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے قومی جنرل سیکریٹری تھے اور انوراگ ٹھاکر کی قیادت میں منعقدہ “راشٹریہ ایکتا یاترا” کا حصہ تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی حکومت نے یاترا کو جموں و کشمیر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کیا اور لال چوک پر ترنگا لہرانے کی اجازت بھی مسترد کر دی۔
انہوں نے کہا کہ واپسی کے دوران انہوں نے لال چوک میں پاکستانی پرچم لہراتے دیکھا جب کہ اس وقت کی مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج بھی مرکز میں کانگریس کی حکومت ہوتی تو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی شناخت رنجی ٹرافی کے فاتحین کے بجائے پتھراؤ کرنے والوں کے طور پر ہوتی۔