سید اعجاز
ترال// جہاں ایک طرف سرکاری تعلیمی نظام میںانقلابی تبدیلویوں کے دعوے کر رہا ہے وہیں دوسری جانب ترال کے گورنمنٹ ہائی سکول ماحچھہا مہ ترال میں 160کے قریب بچوں کو پڑھانے کے لئے صرف8اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر تعینات ہیں جبکہ سکول میں ایک ماسٹر گریڈ سمیت5اساتذہ کی پوسٹ خالی پڑے ہیں جس کی وجہ سے بچوں اور والدین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔سکول میں زیر تعلیم بچوںکے والدین نے بتایا سکول کے لئے ایک شاندار عمارت پہاڑی کے دامن میں تعمیر کی گئی جہاں بارشوں کے دوران سکول تک رابط سڑک نہ ہو نے کی وجہ سے بچوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا پرانی عمارت سے سکول کو نئی عمارت میں منتقل کیا گیا ہے تاہم پانی کا کنکشن گزارشات کے باجود نئی عمارت میں منتقل نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ساتھ عملے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کچھ بچوں نے بتایا نئی عمارت کو لاکھوں روپے کی مالیت سے تعمیر کیا گیا تاہم سکول کا صحن ٹھیک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے زیر تعلیم بچے سکول کے صحن میں کھیل کود یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے ہیں۔ ایک بچے کے والد نے بتایا محکمہ تعلیم انرولمنٹ مہم کے دوران ہمارے ساتھ بڑے بڑے وعدہ کرتا ہے لیکن وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ والدین نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سکولی عمارت آپنے شاندار بنائے لیکن بچوں کی حفاظت اور بہتر تعلیم کے لئے بھی بہتر انداقامات اٹھایا جائے ۔