سید رضوان گیلانی
سرینگر// تازہ پیش رفت میں چائلڈ ویلفیئر کمیٹی سریگر نے ایک نجی سکول کو 10 سالہ طالب علم کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی، بدمعاشی اور دھمکیوں کے معاملے میں غفلت اور کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔کمیٹی نے سکول کے پرنسپل کے فوری تبادلے کی ہدایت دیتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے نظام میں وسیع اصلاحات نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔اپنے 26 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں سی ڈبلیو سی نے کہا کہ اسکول کا ردِعمل بچوں کے تحفظ کے ادارہ جاتی نظام میں سنگین خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ معاملہ ایک پانچویں جماعت کے طالب علم سے متعلق ہے، جسے مبینہ طور پر چھٹی جماعت کے ایک طالب علم کی جانب سے سکول کے احاطے میں بار بار جنسی ہراسانی، بدمعاشی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹر خیر النساء کی سربراہی میں قائم سی ڈبلیو سی بنچ، جس میں نزہت النساء اور بینش کاظمی بھی شامل تھیں، نے سرینگر کے تمام تسلیم شدہ سکولوں میں بچوں کے تحفظ کا جامع آڈٹ کرانے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی سکولوں کے سربراہان اور عملے کے لیے بچوں کے حقوق، تحفظ اور رپورٹنگ کی ذمہ داریوں سے متعلق لازمی تربیت کی بھی ہدایت دی گئی۔کمیٹی نے 2 جون کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا، جب اسے 10 سالہ بچے کے ساتھ مسلسل جنسی ہراسانی، دھمکیوں اور خوف زدہ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔بعد ازاں بچے کو جووینائل جسٹس (بچوں کی نگہداشت اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کے تحت ’نگہداشت اور تحفظ کا محتاج بچہ‘ قرار دیا گیا۔حکم نامے کے مطابق بچے کے والد نے بتایا کہ یہ زیادتیاں تقریباً ایک ماہ تک جاری رہیں کیونکہ بچہ خوف کے باعث کسی کو کچھ بتا نہیں سکا۔والدین نے سکول انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن ان کے مطابق سکول نے وقت پر مناسب اقدام نہیں کیا، جس کے نتیجے میں بچے کو شدید ذہنی اور نفسیاتی صدمہ پہنچا۔بچے کی والدہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے بیٹے نے نامناسب حرکات، زبردستی، جسمانی تشدد اور خاموش رہنے کے لیے دی جانے والی دھمکیوں کا انکشاف کیا۔دوسری جانب اسکول نے دعویٰ کیا کہ اسے پہلے کبھی جنسی ہراسانی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔البتہ سکول نے یہ تسلیم کیا کہ 23 مئی کو والدین کی جانب سے بچے کی ذہنی پریشانی کے باعث اسکول چھوڑنے کی درخواست موصول ہوئی تھی، اور داخلی تحقیقات صرف سی ڈبلیو سی کی مداخلت کے بعد شروع کی گئیں۔سکول کی داخلی رپورٹ کے مطابق چھٹی جماعت کے طالب علم نے اپنے ایک کم عمر کزن سے معلوم ہونے والی ایک فحش ویب سائٹ کا نام متاثرہ بچے کو بتایا تھا، اور مبینہ طور پر یہ مواد امتحان کے دوران بچے کی والدہ کے موبائل فون پر دیکھا گیا۔پرنسپل نے اس واقعے کو جنسی استحصال کے بجائے ’نامناسب آن لائن مواد کا اشتراک‘ قرار دیا۔سی ڈبلیو سی نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحی اقدامات صرف اس وقت کیے گئے جب کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیا۔کمیٹی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ بچے نے بار بار جنسی ہراسانی، بدمعاشی، دھمکیوں اور ذہنی اذیت کا سامنا کیا، جس کے باعث وہ اسکول جانے سے خوفزدہ ہو گیا تھا۔کمیٹی نے مزید کہا کہ صرف ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کرنا، بغیر مشاورت، نفسیاتی معاونت اور حفاظتی اقدامات فراہم کیے، مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور ذمہ داری طے کرنے کے بجائے صرف فوری نتائج سے نمٹنے کی کوشش تھی۔سی ڈبلیو سی نے زور دیا کہ اسکول والدین کی جگہ ذمہ داری ادا کرتے ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو نہ صرف تعلیمی نقصان بلکہ بدمعاشی، ساتھی طلبہ کے تشدد، جنسی بدسلوکی اور نفسیاتی استحصال سے بھی محفوظ رکھیں۔ملزم طالب علم کے حوالے سے کمیٹی نے کہا کہ چونکہ اس کی عمر 12 سال سے کم ہے، اس لیے بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعہ 21 کے تحت اسے قانونی تحفظ حاصل ہے، جس کے مطابق 12 سال سے کم عمر بچے جرم کے قانونی ذمہ دار نہیں سمجھے جاتے۔دونوں خاندانوں کی خواہش، جو فوجداری کارروائی کے بجائے مشاورت چاہتے تھے، کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے بچے کے مفاد، اصلاح اور تحفظ پر مبنی طریقہ اختیار کیا۔مشاورت کی رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچے کو طویل المدتی نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے، جبکہ دوسرے بچے کے لیے نفسیاتی مشاورت، والدین کی نگرانی اور رویے کی مسلسل نگرانی ضروری قرار دی گئی۔کمیٹی نے اہم ہدایات میں موجودہ پرنسپل کے فوری تبادلے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مستقبل میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں تعینات نہ کیا جائے جب تک وہ بچوں کے حقوق، پوکسو ایکٹ ، حفاظتی معیارات اور لازمی رپورٹنگ سے متعلق تصدیق شدہ تربیت مکمل نہ کر لیں۔اسکول انتظامیہ کو جامع چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بنانے کی ہدایت دی گئی، جس میں اینٹی بلنگ اقدامات، خفیہ شکایتی نظام، ڈیجیٹل تحفظ، باقاعدہ خطرات کا جائزہ اور مسلسل نگرانی شامل ہو۔کمیٹی نے سکول میں ماضی کے بدمعاشی، جنسی ہراسانی اور طلبہ کے درمیان بدسلوکی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا اور رپورٹ 30 دن کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی۔