عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر میں اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے فراہم کی گئی متنازع کتابوں کے معاملے میں پیش رفت کرتے ہوئے جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے)اوربھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ تحقیقات کے سلسلے میں ایک ناشر کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ معاملہ دو کتابوں سے متعلق ہے۔ پہلی کتاب ’’Personalities and Legends of J and K‘‘ہے، جس کے مصنف ہلال احمد اور سنتوش مینا ہیں اور اسے جموں کے اوبرائے بک سروس نے شائع کیا ہے۔ دوسری کتاب ’’Great Personalities of Jammu and Kashmir‘‘ہے، جس کے مصنف سوشانت گیری ہیں اور اسے دہلی کے ’’انوراگ پرکاشن‘‘نے شائع کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس اسٹیشن کاؤنٹر انٹیلی جنس جموں میں درج ایف آئی آر میںبھارتیہ نیائے سنہتاکی دفعات 49 (اعانت)، 61(2) (مجرمانہ سازش)، 152 (ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات)، 196 (دشمنی اور منافرت کو فروغ دینا)اور 353 (جھوٹے بیانات یا رپورٹس کی اشاعت یا تشہیر)کے علاوہ یو اے پی اے کی دفعہ 13بھی شامل کی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ٹیموں نے جموں کے ’’باہو پلازہ‘‘میں واقع ایک ناشر کے دفتر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے، جنہیں تحقیقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق فی الحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک کتاب کی 123 کاپیاںجموں، رام بن اور ادھم پور اضلاع کے اسکولوں میں فراہم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاںجموں اور بارہمولہ کے اسکولوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔
یہ کارروائی ایک روز قبل جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کرنے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کرنے، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دینے اور دونوں متنازع کتابوں کو فوری طور پر اسکولوں سے واپس لینے کی ہدایت جاری کی تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کتابوں میں ایسا مواد شامل ہے جسے ’’انتہائی نامناسب‘‘قرار دیا گیا ہے۔اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردِعمل سامنے آیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ، کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ ان کتابوں میں علیحدگی پسند شخصیات کی ستائش کی گئی ہے اور تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم نے تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں کتابوں کی تقسیم اور استعمال پر روک لگا دی ہے۔