سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کی پانچ اسمبلی نشستوں میں ترقیاتی فنڈز کی مبینہ غیر مساوی تقسیم کو لے کر سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ضلع کے چار اراکین اسمبلی اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، جو نوشہرہ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔اس سے قبل تھنہ منڈی کے آزاد رکن اسمبلی مظفر اقبال خان، جو نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، کانگریس کے رکن اسمبلی راجوری افتخار احمد اور نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری نے اپنے اپنے حلقوں کے لیے ناکافی فنڈز مختص کیے جانے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ان رہنماؤں کا الزام ہے کہ دیگر حلقوں کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ نوشہرہ اسمبلی حلقہ کی طرف منتقل کیا گیا، جس کی نمائندگی نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کر رہے ہیں۔یہ معاملہ حال ہی میں ڈاچی گام میں منعقدہ نیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جہاں بتایا جاتا ہے کہ ایم ایل اے مظفر اقبال خان نے یہ مسئلہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سامنے زور دار انداز میں اٹھایا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے نائب وزیر اعلیٰ کو ایک ماہ کے اندر فنڈز کی تقسیم میں مبینہ عدم توازن دور کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم وزیر اعلیٰ کی مبینہ مداخلت کے باوجود تنازعہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اب بدھل سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی جاوید اقبال چوہدری نے ایک بار پھر عوامی سطح پر فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔جاوید اقبال چوہدری نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اہم ذمہ داری سونپی تھی اور ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ جموں و کشمیر کے مختلف خطوں، لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ، نیز مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان ایک مؤثر رابطہ کار کا کردار ادا کریں گے، تاہم وہ اس اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپیشل اسسٹنس اسکیم (SASCI) کے تحت تقریباً 63 فیصد فنڈز ایک ہی اسمبلی حلقہ کو مختص کیے گئے، جسے انہوں نے دیگر حلقوں کے ساتھ سنگین ناانصافی قرار دیا۔ جاوید اقبال چوہدری نے مزید الزام لگایا کہ نان فنکشنل بلڈنگز (NFB) اسکیم کے تحت ضلع راجوری کے لیے منظور شدہ 128 لاکھ روپے میں سے 103 لاکھ روپے صرف نوشہرہ حلقہ میں خرچ کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے، جنہوں نے نائب وزیر اعلیٰ کو ایک ماہ کے اندر تمام اسمبلی حلقوں میں منصفانہ فنڈ تقسیم کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی، لیکن اب تک کوئی اصلاحی قدم نہیں اٹھایا گیا۔جاوید اقبال چوہدری نے اعلان کیا کہ راجوری ضلع کے تین اراکین اسمبلی دوبارہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے انہیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے اس دور میں ایسے معاملات کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا اور عوامی نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی فنڈز میں کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف ان کی آواز مسلسل بلند ہوتی رہے گی جب تک تمام اسمبلی حلقوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔