عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سال 2030 تک برآمدات کو دوگنا کرنے کے ہدف کے حصول کے لیے جموں و کشمیر میں نئی نسل کے برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) تیار کرنا اور برآمدی مصنوعات کے دائرہ کار کو وسیع بنانا ناگزیر ہے۔
سری نگر میں منعقدہ جموں و کشمیر انٹرنیشنل بائر۔سیلر میٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 2030 تک برآمدات کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے پیش نظر جموں و کشمیر کے پاس صرف چار سال ہیں کہ وہ اپنی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نہ صرف موجودہ برآمد کنندگان کی ہر ممکن مدد کرے گی بلکہ ایسے افراد کو بھی برآمد کنندہ بنانے کی کوشش کرے گی جو اس وقت صرف جموں و کشمیر یا ملک کے چند حصوں تک محدود کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے کاروباری افراد کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی آسان بنائی جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بائر۔سیلر میٹ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میں بین الاقوامی خریدار، برآمد کنندگان، صنعت کار، دستکار اور سیلف ہیلپ گروپس ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں، جہاں نئی منڈیوں اور تجارتی مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ایک منفرد تجارتی روایت رہی ہے، جہاں ماضی میں سیاح خود یہاں آکر مقامی مصنوعات خریدتے تھے اور انہیں دنیا کے مختلف ممالک تک لے جاتے تھے۔ اس طرح دستکاروں اور خریداروں کے درمیان برسوں پر محیط تعلقات قائم ہوتے تھے اور علیحدہ سے تجارتی میلوں یا نمائشوں کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے حالات اور سیاحت میں کمی کے باعث مقامی دستکاروں کو اپنے کاروبار کا طریقۂ کار مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت جموں و کشمیر کی تقریباً 98 فیصد برآمدات صرف چار اضلاع سے ہوتی ہیں، جبکہ باقی تمام اضلاع کا مجموعی حصہ محض دو فیصد ہے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ ہر ضلع میں برآمدی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو عالمی تجارت سے جوڑا جائے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں ڈرائی پورٹ کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں یہاں سے بھیجی جانے والی اشیا کی برآمدی کارروائی اکثر دوسری ریاستوں میں مکمل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان برآمدات کا کریڈٹ بھی دوسری ریاستوں کے کھاتے میں جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے تاکہ تمام برآمدی کارروائیاں جموں و کشمیر میں ہی مکمل ہوں، جس سے مقامی کاروباری افراد کے لیے برآمدات آسان ہوں گی اور جموں و کشمیر کی برآمدات کا درست ریکارڈ بھی برقرار رہے گا۔
2030 تک برآمدات دوگنی کرنے کے لیے نئی حکمت عملی ناگزیر: عمر عبداللہ