عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/آئندہ امرناتھ یاترا کی تیاریوں کے سلسلے میں پیر کی صبح جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر یاترا قافلے کا ڈرائی رن (مشق) منعقد کیا گیا، جس کے دوران سکیورٹی، لاجسٹکس اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔حکام کے مطابق صوبائی کمیشنر جموں رمیش کمار اور انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں بھیم سین ٹوٹی نے صبح 5 بجے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے یاترا قافلے کو روانہ کیا اور خود بھی ایک بس میں سوار ہو کر راستے میں انتظامات کا معائنہ کیا۔
57 روزہ سالانہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے دو روایتی راستوں کے ذریعے شروع ہوگی۔ ان میں ضلع اننت ناگ کا 48 کلومیٹر طویل پہلگام روٹ اور ضلع گاندربل کا 14 کلومیٹر طویل مگر نسبتاً دشوار گزار بالتل روٹ شامل ہیں۔ یاتریوں کا پہلا قافلہ 2 جولائی کو بھگوتی نگر بیس کیمپ سے روانہ کیا جائے گا۔حکام نے بتایا کہ ڈرائی رن کا مقصد قافلے کی نقل و حرکت، سکیورٹی انتظامات، لاجسٹکس اور مختلف محکموں کے درمیان باہمی رابطے اور ہم آہنگی کا جائزہ لینا تھا۔
سخت سکیورٹی میں روانہ ہونے والا قافلہ تقریباً چار گھنٹوں میں ضلع رام بن پہنچا، جبکہ اس دوران وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی جموں-سرینگر قومی شاہراہ پر عام شہریوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل رکھی گئی۔رام بن میں قافلہ چندرکوٹ یاترا لنگر مقام پر کچھ دیر کے لیے رکا، جہاں یاتریوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات اور دیگر انتظامات کا معائنہ کیا گیا۔
بعد ازاں قافلہ بانہال کے لیے روانہ ہوا، جہاں سے سرنگ کے ذریعے جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ اور آگے پہلگام اور بالتل بیس کیمپوں تک پہنچنے کا عمل جاری رکھا گیا۔ٹریفک حکام کے مطابق قاضی گنڈ سے عام شہریوں کی گاڑیوں کو اسی وقت گزرنے کی اجازت دی جائے گی جب یاترا قافلہ اس علاقے سے مکمل طور پر آگے نکل جائے گا۔