جاوید اقبال
مینڈھر// مینڈھر قصبہ میں سومو گاڑیوں کے مرکزی اڈے کو انتظامیہ کی جانب سے شہر سے باہر منتقل کئے جانے کے بعد عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض آٹو رکشہ ڈرائیور من مانی کرایہ وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث عام لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔عوام کے مطابق پہلے سومو گاڑیاں مرکزی بازار کے قریب دستیاب ہوتی تھیں، جس سے مسافروں کو آمد و رفت میں آسانی رہتی تھی، تاہم اڈے کی منتقلی کے بعد اب لوگوں کو نئے مقام تک پہنچنے کے لیے آٹو رکشوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف ایک سے دو کلومیٹر کے مختصر فاصلے کے لیے بھی 50 سے 100 روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ روزانہ درجنوں طلبہ، ملازمین، مریض اور خواتین اس روٹ پر سفر کرتے ہیں، مگر مقررہ کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر آٹو رکشہ ڈرائیور اپنی مرضی کے مطابق رقم وصول کر رہا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ اگر کوئی مسافر زیادہ کرایہ دینے سے انکار کرے تو بعض ڈرائیور انہیں لے جانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں، جس سے عوام کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سماجی کارکن ذاکر میر نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے سومو اڈے کی منتقلی کے بعد عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شدید گرمی میں بزرگ افراد، خواتین اور بیمار شہریوں کے لیے پیدل چل کر نئے سومو اڈے تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض آٹو رکشہ ڈرائیور اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام سے من مانی کرایہ وصول کر رہے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ذاکر میر نے مزید کہا کہ اگر انتظامیہ نے بروقت مداخلت نہ کی تو عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور اے آر ٹی او پونچھ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور آٹو رکشوں کے لیے باقاعدہ کرایہ نامہ جاری کریں تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مینڈھر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کو بھی ترجیح دی جائے تاکہ مسافروں کو غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات ملے اور ٹرانسپورٹ نظام شفاف اور منظم بنایا جا سکے۔ مقامی شہریوں نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عام لوگوں کے ساتھ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔