عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کل سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں جموں و کشمیر لیک کنزرویشن و مینجمنٹ اَتھارٹی ( ایل سی ایم اے) کے 27ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ کی صدارت کی جس میں تحفظ کے جاری اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ڈل، نگین، خوشحال سر اور گِلسر جھیلوں سے متعلق پالیسی، اِنتظامی اور بنیادی ڈھانچے کے معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔بورڈ نے گزشتہ میٹنگ کے فیصلوں پر کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور اہم تحفظاتی و بحالی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیاجن میں ڈل۔نگین جھیل ماحولیاتی نظام کے لئے مربوط اِنتظامی منصوبہ، جھیل کے بستیوں کی ایکو ڈیولپمنٹ ، سیوریج بنیادی ڈھانچہ، جھیلوں کی صفائی کے کام اور دیگر اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد جھیلوں کی ماحولیاتی صحت کو بہتر بنانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی جھیلوں کے تحفظ کے لئے مستقل اِدارہ جاتی ہم آہنگی ، سائنسی منصوبہ بندی اور بروقت عمل درآمد ضروری ہے۔ اْنہوں نے متعلقہ محکموں اور اَتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ ماحولیاتی تحفظات اور قانونی طریقہ کار کی سختی سے تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے جاری پروجیکٹوں کو تیز کریں۔میٹنگ میں اَتھارٹی کو مزید مضبوط بنانے، سیوریج مینجمنٹ سسٹم کو جدید بنانے، خوشحال سر اور گلسر جھیلوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے سے متعلق ایجنڈا نکات پر تفصیلی غورو خوض کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ جن تجاویز پر مزید غور اور بہتری کی ضرورت ہے، انہیں میٹنگ میں دی گئی تجاویز کو شامل کرنے کے بعد نظرثانی کرکے دوبارہ پیش کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے نازک جھیل ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تحفظاتی اقدامات سائنسی جائزے، ماحولیاتی دیرپائی اور طویل مدتی عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دئیے جانے چاہئیں۔ اْنہوں نے جاری کاموں کی باقاعدہ نگرانی اور محکموں کے درمیان قریبی تال میل پر بھی زور دیا تاکہ جموں و کشمیر کی جھیلوں کے تحفظ اور انتظام میں نمایاں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔