بلال فرقانی
سرینگر// ہندوارہ علاقے میں واقع چوگل گاؤں آج اپنی منفرد ڈیری مصنوعات خصوصاً ’’ژامن‘‘ یعنی دیسی پنیر کی وجہ سے ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ گاؤں جموں و کشمیر کا پہلا ’’دودھ کا گائوں‘‘ قرار دیا جاتا ہے، جہاں روایتی طریقوں سے تیار ہونے والا خالص پنیر نہ صرف وادی بلکہ ملک کے دیگر حصوں تک بھی اپنی پہچان بنا چکا ہے۔چوگل‘ژامن‘ اپنی خالصتاً قدرتی تیاری کی وجہ سے پورے علاقے میں خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ پنیر 100 فیصد خالص اور بغیر کسی ملاوٹ کے دودھ سے تیار کیا جاتا ہے، جو گاؤں میں پالے جانے والے جرسی کراس نسل کی گائیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ دودھ اپنی غذائیت اور اعلیٰ معیار کے لیے جانا جاتا ہے۔اس پنیر کی تیاری ایک روایتی اور محنت طلب عمل ہے۔ تازہ دودھ کو مسلسل ابالا جاتا ہے، کئی گھنٹوں تک مسلسل ہلایا جاتا ہے اور اس میں تازہ کریم شامل کی جاتی ہے تاکہ ذائقہ اور ساخت مزید بہتر ہو سکے۔ یہی روایتی مہارت اسے دیگر صنعتی مصنوعات سے ممتاز بناتی ہے اور اس کے ذائقے کو منفرد بناتی ہے۔چوگل ژامن اپنی نرم ساخت اور لذیذ ذائقے کی وجہ سے نہ صرف مقامی افراد بلکہ سیاحوں میں بھی بے حد مقبول ہے۔
سری نگر، بارہمولہ اور دیگر اضلاع سے لوگ خصوصی طور پر یہاں آ کر یہ پنیر خریدتے ہیں۔ بعض اوقات مانگ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مقامی دکانوں پر اسٹاک جلد ختم ہو جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں اور غیر مقامی لوگوں کیلئے بھی یہ پنیر پہلی پسند ہے اور آتے جاتے،پنیر کی خریداری بھی کرتے ہیں،جبکہ یہاں کی لسی کا بھی لطف اٹھاتے ہیں۔مقامی افراد کے مطابق چوگل میں ڈیری کا کام کوئی نیا رجحان نہیں بلکہ یہ کئی نسلوں سے جاری ایک خاندانی اور ثقافتی پیشہ ہے، جسے اب باقاعدہ کاروباری شکل مل چکی ہے۔ چوگل ژامن کی قیمت فی الوقت270روپے ہیں،جو دیگر علاقوں کی پنیر سے زیادہ نہیں۔ گاؤں میں کم از کم 20 فعال ڈیری دکانیں موجود ہیں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں خریدار آتے ہیں اور تازہ مصنوعات خریدتے ہیں۔گاؤں کے تقریباً ہر گھر میں ایک سے زائد گائیں پالی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر جرسی کراس نسل کی ہیں جو زیادہ دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مقامی آب و ہوا کے مطابق بھی موزوں ہیں۔چوگل کی ڈیری معیشت صرف اسی گاؤں تک محدود نہیں بلکہ اس کے گرد و نواح کے دیہات جیسے کلنگام، گنڈ، ہارپورہ، وھاپورہ اور دیگر علاقوں سے بھی دودھ جمع کیا جاتا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ یہ مصنوعات نہ صرف کشمیر کے مختلف اضلاع بلکہ دہلی اور دیگر ریاستوں تک بھی پہنچائی جاتی ہیں۔مقامی تاجروں کے مطابق چوگل پنیر کی سب سے بڑی پہچان اس کا خالص اور بغیر ملاوٹ والا معیار ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس کا ذائقہ منفرد ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دراز علاقوں سے سفر کر کے یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ایک مقامی دکاندار ظہور احمدکے مطابق اس گاؤں کی ڈیری صنعت اب کئی خاندانوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ بن چکی ہے، اور بعض کاروباری افراد کو بیرونِ ریاست و بیرونِ ملک سے بھی آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ چھوٹا سا گاؤں ایک مضبوط دیہی معیشت کی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ظہور احمدکے مطابق پنیر کی تیاری ایک محنت طلب عمل ہے جس میں دودھ کی مسلسل نگرانی، معیار کی جانچ اور روایتی طریقوں کا استعمال شامل ہوتا ہے تاکہ بہترین ذائقہ اور معیار برقرار رکھا جا سکے۔مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکریوں کے انتظار کے بجائے ایسے خود روزگار کے شعبوں کی طرف آنا چاہیے تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار بن سکیں اور دیہی معیشت کو بھی مزید مضبوط کیا جا سکے۔چوگل ’ژامن‘ صرف ایک خوراک نہیں بلکہ ایک دیہی ثقافت، محنت اور خالص روایات کی علامت بن چکی ہے، جو آج بھی اپنی سادگی اور معیار کے باعث لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔