سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے سرحدی علاقوں کے مکینوںنے گھمبیر براہمناں سے خانکھڑی تک جانے والی سڑک کی خستہ حالی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک اب ’موت کا کنواں‘ بن چکی ہے اور روزانہ حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق تقریباً چھ کلومیٹر طویل اس سڑک کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سفر کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں رہا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس سڑک سے روزانہ پانچ ہزار سے زائد آبادی وابستہ ہے، جن میں طلباء، مریض، سرکاری ملازمین، تاجر اور عام شہری شامل ہیں۔علاقہ مکینوں نے کہا کہ بارش کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور کئی مقامات پر گاڑیوں کا گزرنا ناممکن بن جاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ متعلقہ محکمہ نے کئی بار یقین دہانیوں کے باوجود سڑک کی مرمت کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا۔ لوگوں کے مطابق سڑک کا بیشتر حصہ میکڈم سے مکمل طور پر خالی ہو چکا ہے جبکہ جگہ جگہ ایسے خطرناک گڑھے موجود ہیں جن سے آئے دن حادثات پیش آ رہے ہیں۔مقامی شہریوں نے کہا کہ اس علاقے کے پانچ دیہات مکمل طور پر اسی ایک سڑک پر منحصر ہیں اور متبادل رابطہ سڑک موجود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیمار افراد کو ہسپتال منتقل کرنے میں شدید دشواری پیش آتی ہے جبکہ اسکولی طلباء کو بھی روزانہ خطرات مول لے کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو جائے تو بروقت امداد پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔عوام نے مزید بتایا کہ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ حصے تک بحال نہیں کئے گئے، جس کی وجہ سے ڈرائیور اور مسافر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی باشندوں نے کہا کہ منتخب نمائندے اور حکام صرف وعدے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام نظر نہیں آ رہا۔علاقہ مکینوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر سڑک کی مرمت، بلیک ٹاپنگ اور میکڈمائزیشن کا کام شروع نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام مجبور ہو کر جموںراجوری۔پونچھ قومی شاہراہ کو بند کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ پر عائد ہوگی۔ادھر تھنہ منڈی حلقہ کے رکن اسمبلی مظفر اقبال خان نے عوامی تشویش کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کی حالت واقعی انتہائی خراب ہے اور اسے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سڑک کی مرمت، بلیک ٹاپنگ اور میکڈمائزیشن کا منصوبہ رواں سال کے پلان میں شامل کیا گیا ہے اور منظوری ملتے ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔ایم ایل اے نے یقین دہانی کرائی کہ عوام کو درپیش مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید وعدوں کے بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ خستہ حال سڑک نے ان کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔