عظمیٰ ویب ڈیسک
اننت ناگ/جموں و کشمیر حکومت نے ملی ٹینٹوںسے مبینہ روابط کے الزام میں محکمۂ بجلی کے ایک ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع اننت ناگ کے علاقے آرونی، بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ محمد شفیع ملک، جو محکمۂ بجلی میں انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور حسن پورہ تویلہ، بجبہاڑہ میں تعینات تھے، کو نوکری سے برطرف کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ محمد شفیع ملک کے خلاف پولیس اسٹیشن بجبہاڑہ میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ ان میں ایف آئی آر نمبر 76/2017 شامل ہے، جو تعزیراتِ ہند اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ ایف آئی آر نمبر 66/2018 اور ایف آئی آر نمبر 78/2018 بھی ان کے خلاف درج ہیں، جن میں ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے ملی ٹنسی اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردی سے کسی بھی قسم کے تعلق یا معاونت کے معاملات پر سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ چند برسوں کے دوران مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیموں یا علاحدگی پسند سرگرمیوں سے روابط رکھنے والے متعدد سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں نوکری سے دستبردار کیا گیا۔
ملی ٹینٹوں سے مبینہ روابط کے الزام میں محکمۂ بجلی انسپکٹر ملازمت سے برطرف